چہرہ اور تیزاب! ………………….. تحریر، شفقت اللہ مشتاق

آج بھی مجھے یاد ہے میں نے زمانہ طالب علمی میں اپنے اساتذہ سے بڑی “چنڈیں”کھائیں ہیں ہاں البتہ تین استاد ایسے تھے جو اس کام سے مکمل پرہیز کرتے تھے ان میں سے ایک کا تعلق ہمارے ساتھ والے گاوں سے تھا اور شاید ان کے ہاں حق ہمسائیگی کا پاس تھا۔ دوسرے استاد میرے سگے چچا تھے اور تخلص رنگیلا کرتے تھے وہ اپنے تخلص کے لحاظ سے اسم بامسمی تھے یعنی نفاست اور شرافت کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے اور مار اور الار کے فلسفے پر پوری طرح گامزن تھے۔ اس طرح تیسرے استاد کا نظریہ بالکل ہی مختلف تھا اور وہ اپنے نظریے کو وضاحت کے ساتھ بیان بھی کرتے تھے اور اس نظریہ کو عملی طور پر لاگو کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ انسان کے پورے جسم میں چہرہ سب سے اہم چیز ہے اور اس پر چنڈ مارنے کو وہ بہت بڑا پاپ جانتے تھے۔ جب انہیں ہم میں سے کسی طالب علم پر بہت ہی غصہ آتا تو وہ بس دھون پر ایک ٹکا دیتے تھے دھون کا سریا تو ٹوٹ ہی جاتا تھا ہوش بھی ٹھکانے آجاتے تھے-

جب انسان کو ہوش آتی ہے تو وہ سوچنا شروع کردیتا ہے اور دانائی کا تقاضا ہے کہ سب سے پہلے وہ اپنے بارے میں سوچے اور سوچے کہ اللہ نے اس کو کتنا خوبصورت اور کار آمد بنایا ہےاور مزید غور و فکر سے وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ پورے جسم میں چہرہ ہی وہ چیز ہے جس کو بلحاظ تخلیق منفرد و یکتا بنایا گیا ہے۔ چہرے ہی کی بدولت کوئی کسی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ چہرے ہی سے ہر شخص جانا پہچانا جاتا ہے۔ چہرے ہی سے علم و ادب کے شگوفے پھوٹتے ہیں۔ چہروں کا لحاظ کرکے بڑے بڑے جرم معاف کر دیئے جاتے ہیں بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چہرے دیکھ کر فیصلے کئے جاتے ہیں یہ کہنا بھی بجا نہ ہو گا کہ چہروں سے ہی محبت کی جاتی ہے اور چہروں سے ہی نفرت کی جاتی ہے گویا کہ چہرے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور ہمیشہ چیزیں مرکز کے گرد گھومتی ہیں۔ شاید کائنات کا مرکز انسان ہے اور انسان مرد اور عورت کا مشترکہ نام ہے اگر مرد و عورت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو مرد کا مرکز عورت ہے اور عورت کا مرکز مرد ہے گویا کہ مرد اور عورت لازم و ملزوم ہیں اور پھر عورت کا چہرہ سبحان اللہ سبحان اللہ
صانع کی یاد آتی ہے صنعت کو دیکھ کر
اللہ رے کیا جمال ہے کیا خدوخال ہیں

افسانوی قصے کہانیوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ماضی کے جتنے بھی عاشق تھے ان میں سے کوئی زلف و رخسار پر مرا ہے، کوئی ابروئے چشم پر مرا اور کوئی خالصتا چشم غزالیں پر مرا۔ چشم اور نظر ایک ہی چیز کے دو نام ہیں نظر اٹھے، نظر بدلے یا نظر جھکے تینوں شکلوں میں بندہ مار دیتی ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ زلف، لب، رخسار، ابرو اور چشم جاناں یہ سارے چہرے کے اجزائے ترکیبی ہیں لہذا سوائےچندے سب عاشق ماضی میں چہرے پہ ہی مرتے تھے اور غیرت کے خنجر سے مار دیئے جاتے تھے لیکن محبوب کو دوش دینا ان کے لئے فلسفہ عشق کے روح کے خلاف تھا اس کے برخلاف آج کا عاشق جو پڑھآ لکھا ہے گلوبل دنیا کا شہری ہے وہ مرتا نہیں بلکہ مار دیتا ہے وہ مارنے والوں کو اول تو کورٹ میرج سے ویسے ہی ناک آوٹ کردیتا ہے اور اگر خود ناک آوٹ ہو جائے تو وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ چہرہ ہی تو ہے اس لئے بالکل ہی گر جاتا ہے اور صنف نازک کے چہرے پر تیزاب پھینک کر اپنے ردعمل کا مظاہرہ کرتا ہے اس طرح وہ وہ کر دیتا ہے جس پر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ اس حد تک گھٹیا پن۔ ذلیل حرکت اور کمینگی۔ شاید انسان اپنے شعور کی طرف سفر کرتے کرتے منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی جنونی ہو گیا ہے اور جنونیت اور حیوانیت کے درمیان فرق کو بھی بالکل بھول گیا ہے۔ خیر انسان جب شعور کی صفت سے محروم ہو جاتا ہے تو وہ حیوان ہی ہوتا ہے اور وہ کچھ بھی کر سکتا ہے-

گذشتہ سالوں میں پا کستان میں عورتوں کے چہروں پر تیزاب پھینکنے کے واقعات میں اضافہ ہوا تھا زیادہ تر واقعات شادی سے انکار کے نتیجے میں پیش آتے ہیں یا رشتہ داروں میں حسد کی بدولت وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ قبائلی جاگیردارانہ اور زمیندارانہ دیہی معاشرے میں عورتوں کو بھی مردوں کی جاگیر سمجھا جاتا ہے اس سماجی رویے کی وجہ سے وہ عورت کی جانب سے کسی معاملہ میں انکار کی صورت میں انتقامی کاروائی پر اتر آتے ہیں اور تیزاب پھینک کر عورت کا چہرہ مسخ کرتے ہیں۔علاوہ ازیں تیزاب گردی کے واقعات میں غربت کی لکیر سے اندر رہنے والے یا عمومی طور پر آسودہ حال اور متمول خاندانوں کے بچوں کی شرح بااثر اور مال دار خاندانوں کے بچوں کے مقابلے میں بہت کم رہی ہے جبکہ مواخرالذکر لوگوں کے چشم و چراغ تیزاب گردی کے واقعات میں اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالتے رہتے ہیں اور بعد ازاں تفتیش کے دوران خاندانی ذرائع اور اثر و رسوخ استعمال کر کے اور لالچ ترغیب اور تحریص سے یا دباو ڈال کر متاثرہ بچیوں اور خواتین کو اپنے حق میں بیان دلوانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔بہرحال اس کی جو بھی وجوہات ہیں یہ ایک بڑا ہی خوفناک ٹرینڈ ہے ہمارا معاشرہ پہلے بھی عورت کے لحاظ سے تنقید کی زد میں ہے اور اگر تیزاب سے عورتوں کے چہروں کو مسخ کرنے والے اس رجحان کی بیخ کنی نہیں کی جاتی تو یہ لمحہ فکریہ ہے۔ اس سے عورتوں کی آزادی تو متاثر ہو گی ہی مزید یہ کہ وہ ملک و قوم کی تعمیر وترقی میں بھی اپنا فعال کردار ادا نہیں کرسکیں گی یہاں یہ امر ملحوظ خاطر رکھنا چاہیئے کہ اگر عورت محفوظ نہیں تو کوئی گھر بھی محفوظ نہیں کیونکہ کسی گھر کو بنانے اور سنوارنے میں عورت کا کلیدی کردار ہے ایسے ہی تو نہیں کہا جاتا کہ عورت گھر کی ملکہ ہوتی ہے اب ہمیں ان درندہ صفت انسانوں کا قلع قمع کرنا ہے جو اس لئے عورتوں کے چہروں پر تیزاب پھینک دیتے ہیں کہ وہ کسی کو منہ نہ دکھا سکیں ۔ اس کے لئے اس مکروہ دھندے کے خلاف شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے.

بلاشبہ حکومتی لیول پر بھی اس جرم کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے قانون سازی کی گئی ہے لیکن ابھی بھی اس پر مزید سخت سے سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے اور ان پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جائے اور معاشرے کے ہر شخص کی غیرت کو اس لحاظ سے جگانا بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے ملک کی ہر بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھے اور اپنے عمل سے ایسے جرم میں ملوث درندوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ یہ ایک حوصلہ افزا پہلو ہے کہ پاکستان میں پچھلے دو سالوں کے دوران تیزاب پھینکنے کے واقعات میں 50 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے 2016-17 میں کل 71 واقعات پیش آئے ہیں جبکہ 2018-19 میں کل تعداد 26 رہی ہے۔ تیزاب پھینکنے کے سب سے زیادہ واقعات جنوبی پنجاب میں ہوئے تاہم دیگر علاقوں میں بھی واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ عورتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کا احساس لوگوں کو تب ہی ہوگا اگر وہ ساری عورتوں کو ماں بیٹی اور بہن کے روپ میں دیکھیں اور انہیں مقصد تخلیق حوا کا بھی شعوری احساس ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں