ایکسپورٹرز کے سیلز ٹیکس ریفنڈ کی فوری ادائیگی کیلئے فاسٹر پلس سسٹم نافذ؟؟ ڈاکٹرمحمد اشفاق احمد

فیصل آباد(کامرس رپورٹر)ایکسپورٹرز کے سیلز ٹیکس ری فنڈز کی فوری اور شفاف پروسیسنگ اور ادائیگی کیلئے فاسٹر پلس کے نام سے ایک اپ گریڈڈ خودکار نظام نافذ کیا گیا ہے۔ جس سے ری فنڈز سے متعلق ایکسپورٹرز کے مسائل اور مشکلات میں واضع کمی آئے گی۔ یہ بات فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ممبر آئی آر آپریشنز ڈاکٹرمحمد اشفاق احمد نے پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز میں ایک اجلاس سے خطاب میں کہی۔

انھوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس ری فنڈ ز سے متعلق ایکسپورٹرز کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ فاسٹر سسٹم کی اپ گریڈیشن کے بعد نیا سسٹم لانچ کر دیا گیا ہے جس میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ ایکسپورٹرز کی طرف سے فائل کیا گیا ہر کلیم پروسس ہو اور کوئی کیس التوا کا شکار نہ ہو۔فاسٹر پلس سسٹم کے بنیادی خدوخال بیان کرتے ہوئے ممبر آپریشن نے کہا کہ ری فنڈ کلیم کی سٹیج وائز اپ ڈیٹ جاننے کیلئے ایف بی آر کے ای پورٹل پر ایک نئے خودکار ڈیش بورڈ کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ری فنڈ کلیم سے متعلق مکمل معلومات کیلئے ایک موبائل ایپ بھی لانچ کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نئے فاسٹر پلس سسٹم میں صرف ایک ایس ایم ایس کے ذریعے ایکسپورٹرز اپنے ری فنڈز کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ریفنڈ پروسیسنگ کے عمل کو مکمل خودکار بنانے اور ایف بی آر یا پرآل کے آفیشلز کی مداخلت کو کم سے کم رکھنے پر بھرپور توجہ دی گئی ہے۔

ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کی طرف سے سیلز ٹیکس ری فنڈ نظام سے جڑے مسائل پر تبصرہ کرتے ہوئے ممبر آئی آر آپریشنز نے کہا کہ انکم ٹیکس ری فنڈ کو بھی سیلز ٹیکس کی طرح خودکار نظام کے تحت کرنے پر کام جاری ہے جبکہ 50 ملین سے زیادہ کے انکم ٹیکس ری فنڈز کی ادائیگی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ انھوں نے واضع کیا کہ ایف بی آر رواں مالی سال کے آخر تک اپنی بیلنس شیٹ کو کلئیر کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔سیکشن 66 اور ڈیفرڈ کیسز کی فوری ادائیگی کیلئے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات دی جا چکی ہیں اور جلد ہی ایسے کلیمز کی ادائیگی شروع ہو جائے گی۔کمرشک ایکسپورٹرز کو اکانومی کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کمرشل ایکسپورٹرز کے کلیمز کی خودکار نظام کے تحت ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے سٹیٹ بنک کیساتھ مشاورت جاری ہے۔ امید ہے یہ مسئلہ بھی جلد حل ہو جائے گا۔انھوں نے واضع کیا کہ حکومت ایکسپورٹ سیکٹر کی گروتھ کیلئے ہر ممکن اقدام کیلئے کوشاں ہے۔

اس سے پہلے پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد احمد نے ایسوسی ایشن آمد پر ممبر آئی آر آپریشنز کا شکریہ ادا کیا اور کورونا وائرس کی وباء کے دوران مؤثر حکومتی اقدامات کو سراہا۔ انھوں نے وباء کے مشکل دنوں میں صنعتی پہئیے کو رواں رکھنے اور صنعتی مزدوروں کے روزگار کے تحفظ کیلئے جامع اقدامات پر حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ ایکسپورٹرز کے ری فنڈ سے متعلق مسائل کے حل کیلئے موجودہ نظام کی اپ گریڈیشن کو سراہتے ہوئے انھوں نے امید ظاہر کی کہ فاسٹر پلس کے نفاذ سے ایکسپورٹرز کے مسائل میں کمی آئے گی۔ انھوں نے ملتان میں ایل ٹی او کے قیام کو فیصل آباد کیساتھ سخت ناانصافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملک کے تیسرے بڑے اور ریونیو دینے والے شہر فیصل آباد میں بھی ایل ٹی او کا قیام لایا جائے ۔اس موقع پر پی ٹی ای اے کے پیٹرن انچیف خرم مختار نے سیلز ٹیکس ریفنڈ نظام سے متعلق ایکسپورٹرز کو درپیش مختلف مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہفاسٹر سسٹم کے اجراء کے وقت ری فنڈز کی 72 گھنٹوں میں ادائیگی کی یقین دہانیکروائی گئی تھی جس پر تاحال عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ اسی طرح انکم ٹیکس کی مد میں ایکسپورٹرز کے اربوں روپے کی ادائیگی بھی تاحال التوا کا شکار ہے۔ انھوں نے سروسز کی مد میں ادا شدہ صوبائی سیلز ٹیکس کی ادائیگی کا کوئی مربوط نظام نا ہونے کی بھی نشاندہی کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں