حکومتی بوکھلاہٹ! ……………. اورنگزیب اعوان کے قلم سے

پاکستان میں بڑھتی مہنگائی، بے روز گاری، لاقانونیت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کی جانب سے پی ڈی ایم (پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ) کے پلیٹ فارم سے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے. جس کے بعد سے موجودہ حکومت مسلسل بوکھلاہٹ کا شکار نظر آرہی ہے. اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کرے. اسی بوکھلاہٹ میں اس نے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو بے بنیاد اور من گھڑت مقدمات میں گرفتار کر لیا. مگر اس اقدام سے بات نہ بنتی دیکھ کر پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کی تقریر کو ملکی اداروں کے خلاف جواز بناکر ان کی تقریر کو براہ راست نیوز چینلز پر نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی . اس سے بھی بات نہ بنی تو پاکستان مسلم لیگ ن کی تمام مرکزی قیادت پر غداری اور بغاوت کے مقدمات درج کر دیئے گئے. یہ سب اقدام کیوں کے بوکھلاہٹ میں اٹھائے گئے تھے اس لیےہر اقدام پر حکومت وقت کو منہ کی کھانی پڑی. بغاوت کے پرچہ میں تین بار کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز، راجہ ظفر الحق، شاہد خاقان عباسی (سابق وزیر اعظم پاکستان)، موجودہ وزیراعظم آزاد کشمیر و تین ریٹائرڈ فوجی جنرل سیمت درجن بھر لوگوں کے نام شامل کر دیئے گئے . جب ازلی دشمن بھارت میں اس عمل پر شادیانے بجائے گئے تو ملکی مقتدر حلقوں کو خیال آیا کہ نااہل حکمرانوں نے یہ کیا حرکت سرزد کر دی ہے.

ہماری میاں محمد نواز شریف سے لڑائی کا محور ہی سابق جنرل (ر) پرویز مشرف پرآرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ درج کروانا تھا. جس سے ہمارے ادارے کے تقدس کو ٹھیس پہنچی تھی. اسی کی پاداش میں انہیں اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے. مگر موجودہ حکومت نے تین سابق جنرلز کے نام مقدمہ غداری میں درج کروا دیئے. جو انہیں کسی بھی صورت قابل قبول نہیں. اسی لیے پر اسرار طور پر اس مقدمہ کا مدعی ہی منظر عام سے لاپتہ ہوگیا. وہی حکومتی وزراء جو اس مقدمہ کے اندراج کے بعد پورا دن اس کا کریڈٹ لینے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے. وزیر اطلاعات پنجاب فیض الحسن چوہان نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ملزمان کو فی الفور گرفتار کیا جائے کیونکہ انہوں نے ملک راز افشاں کیے ہیں.وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی شہزاد اکبر، شہباز گل، و دیگر وفاقی وزراء اس پر پھولے نہیں سما رہے تھے. مگر مقتدر حلقوں کے نوٹس لینے پر حسب روایت یوٹرن لیتے ہوئے سب نے یک زبان ہوکر بولنا شروع کر دیا. کہ اس میں حکومت وقت کا کوئی عمل دخل نہیں. یہ تو ایک عام شہری کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے. جبکہ پوری پاکستانی قوم جانتی ہے. کہ وہ شہری پاکستان تحریک انصاف کا ایک سرکردہ کارکن اور ریکارڈ یافتہ ملزم ہے. حکومت وقت نے اسے اپنا پارٹی کارکن قبول کرنے سے ہی انکار کر دیا ہے. حکومت کی بوکھلاہٹ کا سلسلہ یہی نہیں تھما. جیسے ہی پی ڈی ایم کی طرف سےاعلان کردہ جلسہ گوجرانوالہ کا وقت قریب آتا جا رہا ہے. حکومتی ترجمان حواس باختہ ہوتے جا رہے ہیں. فیض الحسن چوہان دھمکیاں دے رہے ہیں. کہ اپوزیشن قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کرے ورنہ ملکی قانون ان کے خلاف حرکت میں آئے گا. یہ بات کرتے ہوئے آپ کواپنا ماضی یاد کر لینا چاہیے. جب آپ کی پارٹی نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا. اور مقامی انتظامیہ سے کیے گئے معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے. پارلیمنٹ ھاؤس، پاکستان ٹیلی ویژن پر حملہ کر دیا تھا. آپ ہی کے کپتان نے دھرنا کے دوران کنٹینر پر ارشاد فرمایا تھا.کہ بیس سے پچیس ہزار لوگ اسلام آباد میں اکٹھے کر لیں تو ان کی پتلونیں گیلی ہو جاتی ہیں. یہ الفاظ بھی آپ نے مقتدر حلقہ کے افسران کے بارے میں کہے تھے.
یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

اپوزیشن کو قانون کا درس دینے سے قبل اپنا ماضی بھی سامنے رکھ لیا کرے. شاید آپ کی یادداشت کمزور ہے. مگر پاکستانی عوام کو سب کچھ یاد ہے. وفاقی وزیر فواد چوہدری فرما رہے ہے. کہ کورونا کی وباء پھر سے حملہ آور ہونے کے لیے پر تول رہی ہے. اس لیے اپوزیشن جماعتیں تین ماہ کے لیے اپنے احتجاج کو ملتوی کر دے. کیونکہ جان سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں. یہی ارشاد شیخ رشید احمد فرما رہے ہے. اسد عمر نے بھی عندیہ دیا ہے. کہ ہم ملک بھر میں لاک ڈاؤن لگانے پر غور کر رہے ہیں. تو آپ سے معصومانہ سا سوال ہے. کہ یہ کورونا حکمران جماعت کے لوگوں کو نہیں ہوتا. گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں پاکستان تحریک انصاف کے لائرز فورم سے خطاب کیا. جس میں ملک بھر سے وکلاء بڑی تعداد میں شریک تھے. وزیراعظم پاکستان نے ملک کے انتہائی پڑھے لکھے اور ملکی آئین و قانون کے محافظ لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے حسب روایت اپنے سیاسی مخالفین کی کردار کشی پر ہی زور دیا رکھا . جس کا اس تقریب سے کوئی لینا دینا نہیں تھا. اب لیاقت باغ راولپنڈی میں شمالی پنجاب کے صدر صداقت عباسی نے شمالی پنجاب پاکستان تحریک انصاف کے عہدیدان کو حلف برداری کے لیے مدعو کیا ہے. جس میں پندرہ سے بیس ہزارلوگ اکٹھے ہو گے. ان پر کوئی قانونی پابندی عائد نہیں ہوتی . کیا ان اجتماعات سے کورونا نہیں پھیلے گا. حکومت وقت سے عقل مند تو کورونا ہے. جو اپنے اور غیر میں فرق کرتا ہے . یہ حکومت وقت کا وائرس ہے. اسی لیے حکومتی لوگوں کو کچھ نہیں کہتا. آرمی چیف نے بھی آج ایک بار پھر سے برملا کہا ہے. کہ ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے موجودہ حکومت کی مدد کرتے رہے گے. پھر بھی پتہ نہیں حکومت وقت کیوں گھبرائی ہوئی ہے.شاید اسے اپنی اعلیٰ کارکردگی پر یقین نہیں. یا پھر یہ موجودہ حقائق سے آشنا ہو چکی ہے. اسے اس بات کا بخوبی ادراک ہے. کہ عوام کا مہنگائی، بے روزگاری اور لاقانونیت کی بدولت جینا دوبھر ہو چکا ہے. ایسے میں اپوزیشن باہر نکلی تو حالات کی ستائی ہوئی عوام اس کا بھرپور ساتھ دے گی . جو کہ ان کے لیے انتہائی خطرناک ہے. اسی لیے عوام کو ڈرانے کے لیے کورونا کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے. لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے. اب عوام کورونا سے نہیں ڈرتی . بلکہ غربت وافلاس سے ڈرتی ہیں. اسے دو وقت کی روٹی ملنا محال ہو چکا ہے. ایسے میں اب کورونا کا خوف بھی انہیں سڑکوں پر نکلنے سے نہیں روک سکتا. ابھی تو پی ڈی ایم نے اپنے احتجاج کا باقاعدہ آغاز نہیں کیا. اس سے پہلے ہی حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں. اس کے وزراء کی بوکھلاہٹ بتا رہی ہے. کہ یہ اپوزیشن کی احتجاجی تحریک سے کس قدر خوف زدہ ہیں. اگر اس حکومت نے دو سال کے دوران عوام کے لیے کچھ کیا ہوتا تو آج اسے گھبرانے کی ضرورت نہیں تھی. اپوزیشن رہنماؤں کا یہ کہنا بالکل درست ہے. کہ وزیراعظم عمران خان اب آپ کے گھبرانے کا وقت ہو چکا ہے. اپوزیشن کی تحریک کامیاب ہو پائے گی یا نہیں. مگر حکومت وقت کی بوکھلاہٹ سیاسی منظر نامہ میں تبدیلی کے آثار کو عیاں کر رہی ہے. . خدا سے دعا ہے کہ جو بھی ہو ملک پاکستان اور عوام کے حق میں بہتر ہو.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں