پارلیمانی نظام حکومت میں اُپوزیشن کا کردار! ……………….. تحریر، ڈاکٹرعبدالقادر مشتاق

کسی بھی جمہوری نظامِ حکومت میں اپوزیشن کے کردار کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ جمہوری نظام میں اپوزیشن کا کردار مفید بھی ہوتا ہے اور ضروری بھی ۔ مشہور مورخ جینگ نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر اپوزیشن نہ ہو تو جمہوریت کی بقاء خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ جہاں معاشرہ اپنا وجود رکھتا ہو، وہاں سیاسی اختلافات ہونا اک فطری عمل ہے۔ اور ان سیاسی اختلافات کے اظہار کے لئے مختلف پلیٹ فارم ہونے چاہیئے، تاکہ سیاسی اختلافات ذاتی اختلافات میں نہ بدل سکیں۔ کسی بھی نظامِ حکومت میں اقتدار کے لئے کوششیں کی جاتی ہیں۔ جو سیاسی جماعت اقتدار حاصل کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے، وہ ہمیشہ اس کوشش میں رہتی ہے کہ کس طرح اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھی سیاسی جماعت کو اقتدار سے بیدخل کیا جائے۔ اس کے لئے مختلف طریقے اختیار کیئے جاتے ہیں۔ اول، اقتدار پر زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش ۔ دوم، انقلاب کا راستہ اختیار کرنا ۔ سوم، الیکشن کے ذریعے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنا۔ پارلیمانی نظامِ حکومت میں اپوزیشن کو ایوانوں کے اندر موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنا قانونی کردار ادا کریں۔ تاکہ نظامِ حکومت کو بہترکیا جا سکے۔ اس طرح اپوزیشن کے ایک وہ شکل ہمارے سامنے آتی ہے جو الیکشن کے ذریعے اقتدار کے ایوانوں تک تو پُہنچ جاتی ہے لیکن حکومت بنانے میں ناکام رہنے کی وجہ سے اپوزیشن کا رُوپ دھار لیتی ہے۔ قومی اسمبلی کے ایوان میں حکومت کی پالیسیوں پرتنقید کرنا اُنکا حق ہوتا ہے۔ حکومتی مُعاملات کو راہ ِراست پر لانا اُنکے فرائض میں شامل ہے۔ لیری ڈایمنڈ نے اپوزیشن کو جمہوریت کے خوبصورتی قرار دیا ہے۔ اور اقتدار کے لئے اُن کی کاوشوں کو فطرت کے ساتھ منسلک کیا ہے۔ بغیر کسی اختلاف کے جمہوریت اپنی خوبصورتی کھو بیٹھتی ہے۔ اس لئے سیاسی اپوزیشن جمہوری نظام کو پُختہ کرتی ہے۔ مشہور محقق جینگ کے بقول ، اقلیت اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ اکثریت کو حکمرانی کرنی چاہیئے۔ اور اکثریت اس بات پر متفق ہوتی ہے کہ اقلیت کو تنقید کرنے ک حق حاصل ہے۔ پارلیمانی نظامِ حکومت کی بقاء ہی اس میں ہوتی ہے کہ وہ اقلیت اور اکثریت کے باہمی حقوق کے پرورش کرے۔ آزادی اُس وقت دفن ہو جاتی ہے، جب تنقید اپنی جگہ بنانے میں ناکام ہو جائے۔

اپوزیشن ہمیشہ حکومتی ناکامیوں کو منظرِ عام پر لاتی ہے ، اور تنقیدی رویوں کے زریعے عوام میں یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ حکومت وقت اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ اپوزیشن حکومتِ وقت کے اپنی تنقید کے ذریعے اپنے زیرِ اثر لانے کی بھی کوشش کرتی ہے، تاکہ قانون سازی میں اور حکومتی پالیسیوں میں اُنکی منشاء شامل ہو۔ پارلیمنٹ کے اندرقانون سازی پر اپوزیشن کا براہ راست اثر ہوتا ہے ۔ دستور میں تبدیلی ہو یا روز مرہ کی قانون سازی، اپوزیشن کے کردار کو کسی طرح بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ اپوزیشن ہاؤس کے فلور پرجہاں حکومتی پالیسیوں کو اپنی تقاریر کے ذریعے تنقید کا نشانہ بناتی ہے ، وہیں پارلیمنٹ کے اندر مختلف کمیٹیوں میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ عوامی رائے کو اپوزیشن اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہوئے حکومت کو مجبور کرتی ہے کہ اُسکی منشا ء کے مطابق پالیسیاں متعارف کروائی جائیں۔ اسی لئے اپوزیشن قومی وبین الاقوامی مسائل پر عوامی رائے استوار کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ تاکہ عوام کو حکومتی پالیسیوں کے خلاف سڑکون پر لایا جا سکے۔

جب عوام حکومتی فیصلوں کے خلاف سڑکوں پر آ جاتی ہے تو یہاں پر ہمیں اپوزیشن کا ایک نیا کردار نظر آتا ہے۔اس منزل پر ایوانوں میں بات نہیں ہوتی بلکہ سڑکوں پر ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ جلوس نکالے جاتے ہیں۔ تاکہ حکومتِ وقت کو اقتدار کے ایوانوں سے نکالا جا سکے۔ حکومتِ وقت بھی اپوزیشن کو کنٹرول کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کرتی ہے۔ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں منظرِ عام پر آتی ہیں۔ تھانوں میں اُن پر جعلی کیس درج کیئے جاتے ہیں، تاکہ اُن کو اُنکے مقصد سے ہٹایا جا سکے۔ حکومتِ وقت جتنا زیادہ دباؤ ڈالتی ہے ، اپوزیشن اُتنی زیادہ ہی عوام کے اندر مقبول ہوتی ہے۔ پاکستان میں بہت سی ایسی تحریکوں نے جنم لیا جنہوں نے حکومتِ وقت کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ جن میں ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک ، ذوالفقارعلی بھٹو کے خلاف چلنے والی پاکستان نیشنل الائنس کی تحریک اور جنرل ضیاء الحق کے خلاف چلنے والی تحریکِ بحالی جمہوریت شامل ہیں، جنہوں نے پاکستان کو سیاسی نظام پر اپنے گہرے اثرات چھوڑے۔

جب اپوزیشن ان دو طریقوں کے ذریعے اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام ہو جاتی ہے تو پھر علاقائی ، مذہبی اور ذاتی اثرورسوخ استعمال کیا جاتا ہے۔ کہیں پنجاب اور پنجابی ہونے کا کارڈکھیلا جاتا ہے۔ جاگ پنجابی جاگ کے نعرے پر عوامی رائے اپنے حق میں استوار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کہیں سندھی کارڈ کھیلا جاتا ہے اور عوام کے اندر علاقائی تعصبات اُبھارے جاتے ہیں۔ تاکہ لوگوں سے ووٹ لیکر ایوان کے اقتداروں تک پہنچا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ مذہب کا استعمال بھی مذہبی جماعتوں کو سیاست میں مقبول کر دیتا ہے۔ چاہے وہ مسلک کی بنیاد پر ہو یا پاکستان میں اسلامی ریاست بنانے کا خواب۔ یہ وہ خواب ہے جو پاکستان کی تخلیق کے ساتھ ہی دیکھا گیا تھا ، لیکن اُسکی تعبیر اس لئے وجود میں نہ آ سکی کہ سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اسے ایک سیاسی نعرے کے طور پر مختلف الیکشنز میں استعمال کیا لیکن اپنے سیاسی نعرے کو بھی پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکیں۔ لیکن عوام سے ووٹ لینے میں مخصوص حلقوں میں کامیاب رہیں۔

یہ تین طرح کی اپوزیشن ہمارے سامنے آتی ہے جن کا طریقہ سیاست ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ اگر یوں کہا جائے کہ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے کے راستے تین طرح کے ہیں۔ اول، ایوانوں میں بیٹھ کر حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانا اور ثابت کرنا کہ حکومتِ وقت اپنے اہداف کے حصول میں ناکام ہو چکی ہے۔ دوم، عوام کو سڑکوں پر لانا اور جلسے جلوسوں کے ذریعے عوامی رائے حکومتِ وقت کے خلاف استوار کرنا۔ سوم، علاقائی، مذہبی اور ذاتی اثرورسوخ کے ذریعے حکومتی ایوانوں کو ہلانا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں