کل تک احکامات پر عمل درآمد ورنہ وزیراعلی پنجاب کی طلبی ، زرعی یونیورسٹی کا معاملہ کیا؟

فیصل آباد (آن لائن)

لاہور ہائیکورٹ نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد کی میرٹ پر تقرری کیس اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے کہا کہ اگر حکومت پنجاب نے 14اکتوبر تک عدالتی حکامات پر عملدرآمد نہ گیا تو پھر عدلت مجبور ہوگئی کہ وزیر اعلی پنجاب کو طلب کیا جائے ،اس موقع پر سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعلی ہائوس کو آج ہی پر وفیسر ڈاکٹر اقرار احمد کی وائس چانسلرکی تقرری کے سلسلہ میںسمری موصول ہوئی ہے جس پر اہور ہائیکورٹ کے جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے کہا کہ مجھے وزیر اعلی پنجاب کو طلب کرنے پر کوئی رکاوٹ نہیں ہے یہ کسی کو ذرا سا بھی ابہام نہیں ہونا چائہے کہ وزیر اعلی کو طلب نہیں کروں گا انہوں نے 14اکتوبر کو حکامات پر عملدر آمد ر کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا،آن لائن کے مطابق علاوہ ازیں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف نے جہنیں سپر کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے عہدہہ سے برطرف کردیا تھا نے گذشتہ روز عدالت عالہ لاہور کے ڈویزن بینچ میں ڈاکٹر اقرار احمد کے خلاف ارجنٹ رٹ درخواست دائر کی تھی جس کی آج سماعت ہوئی عدالت کے جج جسٹس محمد شاہد وحید اور اور جسٹس چوہدری محمد اقبال نے ابتدائی سماعت کے بعد رٹ درخواست واپس لینے پر خارج کردی دریں اثناآن لائن کے مطابق عدالت عالیہ نے زرعی یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر کی صدارت میں ہونے والے سلیکشن بورڈ کے اجلاس کو بھی معطل کرنے کا حکم دیا ہے جو آج 12اکتوبر کو ہورہا تھا عدالت کے احکامات کی روشنی میں رزعی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ترقیوں کیلئے بلایا گیا اجلاس ملتوی کردیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں