سود کا رد اور قرضِ حسنہ کے فروغ کے احکامات………….. تحریر،احمد ثبات قریشی الہاشمی

دینِ اسلام درحقیقت اخوت مروت اور رواداری کا دین ہے اس کے ہر ہر حکم میں کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں جس قدر مستحکم ،آسان اور متوازن معاشی اور معاشرتی نظام تاجدارِ مدینہ محمدِ عربی(صل اللّٰہ علیہٖ وَآلِہٖ وَسَلَّم) نے رائج فرمایا ایسا نظام نہ آج تک آسکا نہ آسکتا ہے دینِ اسلام کثرت کی ہمیشہ نفی کرتا ہے اور برکت کا داعی ہے اس ضمن میں دینِ اسلام نے سود کو مطلقاً حرام اور نجس قرار دیا اس حوالے سے قرآنِ کریم فرقانِ حمید اور احادیثِ نبوی(صل اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) میں بے شمار مقامات پہ اس کی ممانعت کی گئی اور اس کے مقابل تجارت اور قرضِ حسنہ کو فروغ دیا گیا –

سودی نظام درحقیقت زر کو محدود ہاتھوں تک محدود کر دیتا ہے اور جو کوئی مجبور اس کے چُنگل میں پھنس جائے سود خور اصل رقم تو اپنی جگہ اس سے کئی گنا وصول کرتے ہیں یہاں تک کہ اکثر اوقات مشاہدے میں آیا ہے کہ بعض افراد کو تو اپنے مال و اسباب یہاں تک کہ مکان تک سے بھی ہاتھ دھونا پڑے اسی باعث دینِ اسلام نے سود کو ہر حال میں حرام قرار دیا اس ضمن چند احکاماتِ الٰہیہ پیشِ قارئین ہے

ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سود کا جو حصہ بھی رہ گیا ہو اس کو چھوڑ دو، اگر تمہارے اندر ایمان ہے ۔اگر تم سود کو نہیں چھوڑو گے ، تو اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی طرف سے اعلان جنگ سن لو یعنی ان کے لیے اللہ کی طرف سے لڑائی کا اعلان ہے- (سورۃ البقرۃ،278/279)

-ترجمہ: اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام کیا ہے ۔(سورۃ البقرۃ،275)

ذرا غور فرمائیے یہ کس قدر قبیح فعل ہوگا کہ ربِ ذوالجلال نے اعلان فرمادیا کہ جو کوئی اس کا مرتکب ہوا اس کے ساتھ اللّٰہ اور اُس کے رسول(صل اللّٰہ علیہ وآلِہٖ وَسَلَّم) کی کھلی جنگ ہے۔اس فعلِ قبیح سے اس قدر نفرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس کے وصول کرنے والے،اس کی گواہی دینے والے یہاں تک کہ اس کا حساب رکھنے والے کو بھی قابلِ نفرت اور مجرم گردانا گیا ہے اس ضمن میں فرامینِ مصطفیٰ(صل اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) پیشِ قارئین ہیں –

ترجمہ:حضرت جابررضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلِہٖ وسلم) نے سود کھانے والے، سود دینے والے، سودی دستاویز لکھنے والے اور سود کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی ہے، اور ارشاد فرمایا کہ یہ سب لوگ گناہ میں برابر ہیں۔( صحیح مسلم شریف، کتاب المساقاۃ ، باب لعن آکل الربا ومؤکلہ، حدیث نمبر:2955،سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر226)

حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جانتے بوجھتے سود کا ایک درہم کھانا چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ سخت ہے۔( مسند امام احمد ، مسند الأنصار رضی اللہ عنہم، حدیث نمبر20951)

احبابِ ذی وقار اس کے برعکس اسلام ہمیں تجارت اور قرضِ حسنہ کا حکم دیتا ہے تاکہ سود کا رد ممکن ہو اس کے لیئے کچھ شرائط بھی متعین کی گئی ہیں جہاں مقروض کو ادائیگئِ قرض کے لیئے یہاں تک کہ دیا گیا کہ جب تک پسماندگان میں سے کوئی ذمہ نہ اُٹھائے اس وقت تک اس کا جنازہ نہ پڑھایا جائے۔ایک مقام پہ تو یہ بھی فرمادیا کہ شہید کو ہر بات کی معافی ہے فقط قرض کے ۔اُسی طرح قرض دینے والے کے لیئے بھی احکامات و فضائل دیکھنے کو ملتے ہیں اسے حکم دیا گیا ہے کہ مقروض کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آیا جائے اصحابِ باصفاء(رض) کی عادتِ مطہرہ تھی کہ اگر کسی ساتھی کو قرض دیا ہوتا تو اس کی دیوار کی چھائوں میں کھڑے ہونے سے بھی اجتناب کرتے کہ کہیں ہمارے اس عمل سے ہمارے قلوب میں تکبر نہ آجائے یا بارگاہِ ربی میں یہ نہ گِنا جائے کہ ہم نے اپنے مقروض ساتھی سے غیر ضروری فائدہ حاصل کیا

مقروض کے ساتھ صلۂِ رحمی کے حوالے سے چند فرموداتِ نبوی(صل اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) پیشِ قارئین ہیں –

نبیِّ کریم علیہ الصلوۃ و السَّلام کاارشاد ہے: تم سے پہلے لوگوں میں ایک شخص تھا جس کے پاس اس کی روح قَبْض کرنے فِرِشْتہ آیا تو اُس سے کہا گیاکہ کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ وہ بولا: میں نہیں جانتا۔ اس سے کہا گیا:غور تو کر۔ اس نے کہا: اس کے سِوا اور کچھ نہیں جانتا کہ میں دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان پر تقاضا کرتا تھا تو امیر کو مہلت دے دیتا اور غریب کو مُعافی۔پس اللہ تعالیٰ نے اسے جنّت میں داخل فرما دیا۔

(بخاری،ج2،ص460،حدیث:3451)

جنابِ نبئِ آخر الزماں محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا جو کسی تنگدست (مقروض) پر آسانی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخِرت میں اس پر آسانی فرمائے گا۔ (ابن ماجہ،ج 3،ص147، حديث: 2417)
جو کسی تنگدست کو مہلت دے یا اس کاقرض مُعاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن عَرْش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا کہ جس دن عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ (ترمذی،ج3،ص 52، حديث:1310)

ان احادیث کی بنیاد علماءِ اکرام یہ بیان کرتے ہیں کہ اسلام نے ہمیشہ سود کی نفی اور قرضِ حسنہ کو تقویط دی ہے اسی بنیاد پر اسلامی معاشرہ خیر کا باعث بنتا ہے کہ سود کہ ممانعت کی جائے اور مقروض کو رعایت دی جائے
اللّٰہ پاک ہم سب کو قرض اور سود جیسی لعنت سے محفوظ فرمائے اگر کوئی مقروض ہے تو اُسے بارِ قرض سے نجات عطا فرمائے اور ہم سب کو خیر بانٹنے والوں میں رکھے آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں