ملکی اداروں کی مضبوطی کے دعویدار! ………………. تحریر، اورنگزیب اعوان

کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار اس کے آئینی اداروں کی مضبوطی پر منحصر ہوتا ہے. حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں. مگر ملکی آئینی ادارے طے شدہ قوانین کے تحت اپنے فرائض سر انجام دینے میں مگن رہتے ہیں. جس سے ان کے توقیر و عظمت میں اضافہ ہوتا ہے. یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کو حکومت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا. انہیں معلوم ہوتا ہے. کہ ان کے بنیادی حقوق اور روزمرہ زندگی کی اشیاء ضروریہ کی فراہمی کے لئے ملکی ادارے دن رات مصروف عمل ہیں. جس کی وجہ سے وہاں کی حکومتوں پر عوامی دباؤ نہیں ہوتا. مگر ترقی پذیر ممالک میں حکومتیں ملکی اداروں کو اپنے ذاتی مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کرتی ہیں. جس کی بدولت عوام کا اعتماد ان اداروں سے اٹھ جاتا ہے. انہیں معلوم ہوتا ہے. کہ ان اداروں نے وہی کرنا ہے. جس کا حکم حکومت وقت نے انہیں دیا ہے. ملک پاکستان بھی ترقی پذیر ممالک کی صف میں شامل ہے.

بدقسمتی سے قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہم نے ملکی اداروں کی مضبوطی کی طرف کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی. ہر دور حکومت میں انہیں مختلف حربوں سے کمزور ہی کیا گیا ہے. جس وجہ سے ان پر سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے. عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کے نام سے ایک سیاسی جماعت قائم کی. اور بائیس سال تک ملک میں آئین، قانون اور اداروں کی بالادستی کے لیے جنگ لڑتے رہے. بالآخر الیکشن 2018 میں ان کی جماعت کو واضح اکثریت سے کامیابی ملی.عوام کو اب قوی یقین ہو گیا تھا. کہ ملک میں آئین کی بالادستی ہوگی. اور تمام ملکی ادارے اپنے فرائض منصبی اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے خوش اسلوبی سے سرانجام دے گے. مگر جس طرح سےملکی اداروں کے تقدس کو موجودہ حکومت نے پامال کیا ہے. اس کی مثال ماضی میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی. وزیراعظم عمران خان نے ہر ادارے کو اپنے سیاسی مخالفین سے انتقام لینے کی غرض سے استعمال کیا ہے. جس سے نہ صرف عوام بلکہ اداروں کے اندر بھی بداعتمادی کی فضا قائم ہوگئ ہے.

وزیراعظم عمران خان صوبہ خیبر پختون خواہ میں پولیس و دیگر صوبائی اداروں میں سیاسی عدم مداخلت کی مثالیں پیش کرتے نہیں تھکتے تھے. مگر جب ملکی بھاگ دوڑ ان کے کندھوں پر ڈالی گئ تو پتہ چلا کہ یہ سب کچھ سوائے خیام خیالی کے کچھ نہ تھا. انہوں نے وفاقی اور صوبائی اداروں کی توقیر کو جس قدر پامال کیا ہے. اس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی. اپنی حکومتی نااہلیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ ہر وقت اپنے سیاسی مخالفین کی کردار کشی میں ہمہ تن مصروف عمل رہتے ہیں. اپنی حکومت کے ڈھائی سالہ دور میں انہوں نے کوئی ایسا کام سر انجام نہیں دیا جو قابل رشک ہو. عوام کو جان ومال کے تحفظ سے لیکر بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی تک ہر شعبہ زندگی میں مکمل طور پر ناکام رہےہیں. وزیراعظم عمران خان کے نزدیک کامیابی کا دارومدار صرف اور صرف اپنے سیاسی مخالفین کی ذات پر کیچڑ اچھلنا ہے. آپ کو وہ وقت تو یاد ہو گا جب آپ نے کرپشن کا بہانہ بنا کر جمہوری حکومت کے خلاف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک سو اٹھائیس دن تک دھرنا دیا تھا. اس دوران آپ نے موجودہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف شریف اور ملکی اداروں کے خلاف کیسے کیسے نازیبا الفاظ کا استعمال کیا تھا. آپ ہی کے فرمودات تھے کہ اگر پانچ ہزار بندہ اسلام آباد میں اکٹھا کر لیا جائے تو جنرلز کی پتلونیں گیلی ہو جاتی ہیں. عدالت عظمیٰ کے معزز ججوں تک کی تذلیل کی گئی . سپریم کورٹ کی گرل پر شلواریں لٹکا دی گئی . پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت پر حملہ کرکے قبضہ کر لیاگیا . ایس ایس پی اسلام آباد کو اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کی پاداش میں زردکوب کیا گیا. ملکی میڈیا چوبیس گھنٹے آپ کو کوریج دیتا تھا. یہ سب مناظر پاکستانی عوام نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوئے ہیں. اور انہیں اچھی طرح سے ذہن نشین ہیں. آج جب یہی پرامن احتجاج اپوزیشن جماعتیں آپ کی حکومتی نااہلی کے خلاف کر رہی ہیں. تو آپ کے ظرف کا پتہ چل رہا ہے. آپ کبھی ان پر غداری کے مقدمات درج کروا رہے ہیں. تو کبھی چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کر رہے ہیں. آپ میں تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں. آپ کو انتقام کی آگ نے اندھا کر دیا ہے. کراچی جلسہ گاہ میں جب محترمہ مریم نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمن و دیگر سیاسی قائدین سےمخاطب ہو کر کہہ رہی تھی کہ ہم لوگ الیکشن میں تو ایک دوسرے کے حریف ہو سکتے ہیں. مگر ذاتی و نجی زندگی میں کبھی ایک دوسرے کے خلاف اخلاقیات سے گری حرکت نہیں کرے گے. عین اسی وقت آپ اور آپ کے چند وفاقی وزراء گھٹیا سیاسی چال چلنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے. اس کام میں آپ نے ملکی اداروں کو بھی ملوث کیا. آپ نے صوبہ سندھ کی پولیس کے سربراہ آئی جی مشتاق مہر کو رات ایک بجے کے قریب ان کے گھر سے اغواء کروایا. اس فعل کی انجام دہی کے لیے ہماری ملکی انٹیلیجنس ایجنسی اور رینجرز کو استعمال کیا گیا. جو کہ وفاق کے ماتحت کام کرتے ہیں. اس اقدام سے نہ صرف چادر اور چار دیواری کی بے حرمتی ہوئی ہے. بلکہ صوبہ سندھ کی ثفافتی روایات کا جنازہ بھی نکال دیا گیا ہے. سندھ دھرتی کے باسیوں کی مہمان نوازی کی مثالیں پورے ملک میں دی جاتی ہیں. جس کو بے توقیر کر کے رکھ دیا گیا ہے.

بلاول بھٹو زرداری نے اپنی اعلیٰ خاندانی روایت اور سندھ دھرتی کا سپوٹ ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کہا . کہ میں اس واقعہ پر اس قدر شرمندہ ہو کہ میں محترمہ مریم نواز شریف کو منہ نہیں دیکھا سکتا. کیونکہ وہ میری اور اس صوبہ سندھ کی مہمان تھی. وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نےبھی صوبائی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو اس واقع کی بھرپور مذمت کی ہے. اور بتایا ہے کہ انہیں بھی طاقت ور حلقوں کی جانب سے حکومت کے خاتمہ کی دھمکی دی گئی تھی . جس پر میرا جواب تھا کہ ہم سندھی قوم اپنے مہمان کی عزت پر آنچ نہیں آنے دیتے. تم نے جو کرنا ہے. کر لو. آئی جی سندھ مشتاق مہر نے اس سانحہ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے. طویل رخصت پر جانے کا فیصلہ کیا. جس کی تائید میں ایڈیشنل آئی جی ، ڈی آئی جی، ایس ایس پی، انسپکٹر تک کے تمام اہلکاروں نے صوبہ بھر سے رخصت پر جانے کے لیے درخواستیں صوبائی حکومت کو ارسال کر دیں. پولیس کا یہ اقدام وفاقی حکومت پر عدم اعتماد تھا. جس پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلاول بھٹو زرداری کو فون کرکے اس سارے معاملہ کو حسن طریقے سے حل کرنے کی درخواست کی. اور ساتھ ہی انہیں یقین دہانی کروائی کہ میں اس واقع کی مکمل انکوائری کرواؤ گا. اور اس میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دو گا. کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ اقدام جمہوری وزیراعظم عمران خان اٹھاتے. مگر وہ تو انتقام کی آگ میں جل رہے ہیں. انہوں نے تو اپنے وفاقی اور صوبائی وزراء کو ہدایت کی ہے کہ اپوزیشن کے خلاف مزید جارحانہ رویہ اختیار کرو. اس کا مطلب ہے کہ انہیں اس واقع پر کوئی شرمندگی نہیں. ان کا رویہ عیاں کرتا ہے کہ یہ سب کچھ ان کی ایماء پر ہوا ہے. صوبہ پنجاب میں بھی اسی طرح کی صورتحال ہے. پنجاب کے دارالخلافہ لاھور شہر میں ایک محبوس الحواس شخص عمر شیخ کو سی پی او لاھور تعینات کر دیا . جو کہ لاھور شہر کی عوام پر ایک عذاب سے کم نہیں . اس کی نااہلی اور بدتمیزی کے واقعات آئے روز سننے کو ملتے ہیں. اس کی تعیناتی پر آئی جی پنجاب نے احتجاجاً اپنا استعفیٰ دے دیا.

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور صوبائی وزراء نے آئی جی پنجاب کے اس اقدام کو نامناسب قرار دیتے ہوئے سی پی او لاھور کا بھرپور دفاع کیا. ان کا کہنا تھا. کہ یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ کس آفسر کو کہاں تعینات کرے. . اب ان کا لاڈلا سی پی او ان کی خوب نیک نامی کا باعث بن رہا ہے. سانحہ موٹروے سے لیکر خاتون کو فون پر گالیاں دینے اور اشتراکی کاروباری لوگوں کو قتل کی دھمکیاں دینے کے واقعات منظر عام پر آ چکے ہیں. ان واقعات سے پنجاب پولیس کا مورال بھی کم ہو رہا ہے. اس پاگل شخص کو سی پی او تعینات کرنے کا واحد مقصد پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت پر من گھڑت پرچے درج کروانا تھا. اسی مقصد کی تکمیل کے شاخسانہ میں حالیہ دنوں شاہدرہ تھانہ میں قائد محترم میاں محمد نواز شریف سمیت مسلم لیگ ن کی تمام مرکزی قیادت پر غداری کا پرچہ درج کر دیا گیا. جس کا مدعی ایک اشتہاری ہے. اسی طرح کراچی میں کیپٹن محمد صفدر اعوان پر مقدمہ درج کروانے والا بھی ایک اشتہاری ہے. لگتا ہے پاکستان تحریک انصاف میں ایم کیو ایم کی روح سرایت کر چکی ہے. اسی لیے تو اس نے ایم کیو ایم کے نقش قدم پر چلنا شروع کر دیا ہے. پاکستانی عوام نے تو اس جماعت کو اس آس وامید پر ووٹ دیئے تھے. کہ یہ جماعت ملکی اداروں کو مضبوط و مستحکم کرے گی. مگر اس نے تو عوام کی امیدوں پر پانی ہی پھیر دیا ہے. اس سے نہ ہی مہنگائی پر قابو پایا جا رہا ہے. نہ ہی امن و امان کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے. صرف ایک کام دلجمعی کے ساتھ کر رہی ہے وہ ہے سیاسی مخالفین کی کردار کشی اور ملکی اداروں کا آپس میں تصادم.اس کے ماضی میں جس کسی نے بھی نیکی کی ہے. یہ اسے ذلیل و رسوا کر رہا ہے. ملکی میڈیا جو دن رات انہیں کوریج دیتا تھا. اس کی آزادی تک کو سلب کر لیا گیا ہے. اگر اس نااہل حکومت کو مزید مہلت دی گئی تو یہ ملک میں خانہ جنگی پیدا کروا دے گی.

ملکی ادارے ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھا لے گے. کیونکہ وزیراعظم عمران نیازی کسی بھی معاملہ کو سلجھانے کی بجائے اس کو مزید تقویت دیتے ہیں. جس سے حالات بہتری کی بجائے خرابی کی طرف گامزن ہوتے ہیں. قائد محترم میاں محمد نواز شریف اور کی بیٹی محترمہ مریم نواز شریف کوئٹہ میں عوامی جلسہ سے خطاب کے دوران ملک کو درپیش مسائل پر کھل کر روشنی ڈالے گے. محترمہ مریم نواز شریف سے التجا ہے. کہ وہ مخالفت برائے مخالفت کی بجائے ملکی و بین الاقوامی مسائل پر بات کیا کرے. کیونکہ پاکستانی عوام ان کو سننا چاہتی ہے. ان کی تقریر میں ہر پاکستانی کی ترجمانی ہونی چاہیے. بلوچستان کے میسننگ پرسن سے لیکر مقبوضہ کشمیر تک ہر ایشو کو کھل کر اجاگر کرے. اسی طرح عالم اسلام کو درپیش چیلنجز پر بھی بات کرے. آپ ایک قومی لیڈر ہے. اب آپ کو صوبائیت کی سیاست سے مبرا ہوکر ملکی سیاست کرنی ہے. آپ کی تقریر میں تمام ملکی و بین الاقوامی مسائل پر لب کشائی کی جانے چاہیے. قائد محترم میاں محمد نواز شریف جب ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تمام آئینی ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں رہ کر اپنے فرائض سرانجام دے. تبھی اس ملک میں عوام کو حق آزادی مل سکتا ہے. جب عوام کو مکمل طور پر اظہار رائے کی آزادی حاصل ہوگی تو وہ حقیقی جمہوریت اور ملکی اداروں کے استحکام کے لئے جدوجہد کرے گی. موجودہ حالات بتا رہے ہیں کہ بہت جلد اس ملک میں بہت کچھ بدلنے والا ہے. اب عوام محکوم بن کر زندگی نہیں گزار سکتی. اپنا حق لینے کے لیے یہ اٹھ کھڑی ہوئی ہے. اب کوئی طاقت اسے ظلم وجبر سے دبا نہیں سکتی. یہ جمہوریت کا کارواں جو چل پڑا ہے. انشاءاللہ اب اپنی منزل مقصود پر پہنچ کر ہی دم لے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں