دختر ملت محترمہ مریم نواز شریف! ………………….. تحریر ، اورنگزیب اعوان

سیاست مخلوق خدا کی خدمت کا بہترین وسیلہ ہے. کچھ لوگ اس شعبہ زندگی کو اپنی منشاء سے منتخب کرتے ہیں. مگر کچھ لوگوں کو خدا تعالیٰ کی ذات پاک خود سے نسل انسانی کی خدمت پر مامور فرما دیتی ہے. محترمہ مریم نواز شریف بھی انہیں خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں. ان کا سیاست سے دور دور تک کوئی سروکار نہیں تھا. مگر ان کے خاندان کا ملکی سیاست میں نمایاں مقام ہے. ان کے والد محترم قائد میاں محمد نواز شریف ملک کے ایم ترین سیاسی عہدوں پر متعدد بار براجمان رہے ہیں. انہوں نے اپنے دور اقتدار میں ملک ترقی اور عوامی فلاح بہبود کی غرض سے لاتعداد ترقیاتی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے. جس کی بدولت ملک ترقی میں انقلاب برپا ہوا. ان کے سیاسی مخالفین ان کے دور حکومت کے ترقیاتی منصوبوں پر شدید تنقید بھی کرتے ہیں. مگر اس کے باوجود بھی ان ترقیاتی منصوبوں کی افادیت واہمیت سے آنکھیں چرائی نہیں جا سکتی. ملک میں جدید سفری سہولیات کی خاطر موٹروے کا چال بچھایا گیا. جس کی بدولت دنوں کی مسافت محض چند گھنٹوں میں طے ہونے لگی. ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے اٹیمی دھماکے کیے گئے . اٹیمی صلاحیت کا حامل ملک ہونے کے ناطے اب دشمن ہمارے خلاف کوئی بھی جارحیت کرنے سے پہلے ہزار بار سوچتا ہے.ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے کے نیک مقصد کی خاطرچین کے اشتراک سے سی پیک منصوبہ شروع کیا گیا. اس منصوبے کی بدولت ہزاروں میل کی مسافتیں مٹانے کی کامیاب کوشش کی. مگر ہر بار انہیں مقتدر حلقوں کی طرف سے دور حکومت مکمل نہ کرنے دیا گیا. جس کی بنیادی وجہ ان کی آزادانہ، باغیانہ اور ترقی پسندانہ سوچ تھی.
بھنور سے لڑ و تند لہروں سے الجھ
کہاں تک چلو گے کنارے کنارے.

یہ کسی سے ڈکٹیشن لینا پسند نہیں کرتے تھے.یہ عوامی رائے کو مقدم رکھتے تھے. اسی جرم کی پاداش میں انہیں تین بار وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہاتھ دھونا پڑے. اور قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں. مگر یہ سب مظالم بھی ان کے حوصلوں کو پست نہ کر سکے. 1999 میں ایک فوجی آمر نے انہیں وزیراعظم پاکستان کے منصب سے غیر آئینی طور پر ہٹا کر حکومت پر قبضہ کر لیا. ان کی اہلیہ محترمہ کلثوم نواز شریف کی طرف سے چلائی جانے والی عوامی رابطہ مہم کے دباؤ کی بدولت انہیں زبردستی بمعہ اہل و عیال دس سال کے لئے ملک بدر کر دیا گیا. اس دوران ان کے والد محترم میاں محمد شریف کا انتقال ہو گیا. انہیں اپنے والد محترم کی نماز جنازہ میں شرکت تک نہ کرنے دی گئی. اب کی بار انہیں انتہائی مزاخ خیز الزامات کی بنیاد پر وزارت عظمیٰ کی کرسی سے ہٹایا گیا. اور تاحیات ملکی سیاست سے نااہل قرار دیا گیا ہے. اسی دوران ان کی زوج محترمہ بیگم کلثوم نواز شریف کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو گئی. انہیں علاج کی غرض سے لندن کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کروایا گیا. وہ اپنی بیٹی محترمہ مریم نواز شریف کے ہمراہ اپنی بیمار اہلیہ کی عیادت کے لیے بیرون ملک مقیم تھے. کہ ملکی عدلیہ کی جانب سے ان کی طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا. جس پر وہ اپنی بیمار اہلیہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر ملکی عدلیہ کے احکامات کی تکمیل کرتے ہوئے واپس وطن لوٹ آئے. جس پر ان کو جہاز کے اندر سے ہی گرفتار کر لیا گیا. اس دوران ان کی اہلیہ کی طبیعت دن بہ دن مزید خراب ہوتی گئی. ایک سیاسی جماعت کی طرف سے ان کی اہلیہ کی بیماری پر منفی سیاست کی گئی. ان کی بیٹی محترمہ مریم نواز شریف اپنے والد محترم کو ملنے کے لیے کوٹ لکھپت جیل گئی تو نیب اہلکاروں نے انہیں والد کی آنکھوں کے سامنے گرفتار کر لیا. جو کہ انتہائی بزدلانہ اقدام تھا. مگر اس بہادر خاتون نے اس انتقامی کاروائی کو دیدا دلیری سے برداشت کیا. دوران قید محترم میاں محمد نواز شریف کی صحت دن بہ دن خراب ہونے لگی. اسی دوران ان کی زوجہ محترمہ بیگم کلثوم نواز اس جہان فانی سے کوچ کر گئی. یہ وہ صدمات تھے جہنوں نے ایک نہتی لڑکی کو سیاست کے دشوارگزار راستوں پر چلنے پر مجبور کر دیا.
ساحل کے سکوں سے کسے انکار ہے لیکن.
طوفان سے لڑنے میں مزا ہی کچھ اور ہے.

محترمہ مریم نواز شریف کو اپنے خاندان کے ساتھ ملکی اداروں کی جانب سے روا رکھے جانے والے غیر مناسب رویوں نے باغی بنا دیا. جو اس فرسودہ نظام کے خاتمہ کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی . انہیں کسی عہدہ و منصب کی خواہش نہیں. یہ صرف اور صرف اپنے خاندان اور پاکستانی عوام کے ساتھ مقتدر حلقوں کی جانب سے روا رکھے جانے والی زیادتیوں کے ازالہ کے لیے سیاست کے عملی میدان میں داخل ہوئی ہے. ان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں. اس لیے اب کسی چیز کا خوف انہیں ڈرا نہیں سکتا. اب ان طاقتوں کے ڈرنے کا وقت ہے جو ہر دور میں عوام کے بنیادی حقوق اور ان کی منتخب حکومتوں کو غیر آئینی طریقہ سے پابند سلاسل کرتے ہیں. مقتدر حلقوں نے ایک ایسی سیاسی جماعت کے ہاتھوں میں ملکی بھاگ دوڑتھما دی ہے. جو امور حکومت چلانے سے مکمل طور پر ناواقف ہے. اس حکومت نے غریب عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے. عوام کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں..روزمرہ اشیاء ضروریہ کی قمیتن آسمان سے باتیں کر رہی ہیں. مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا.. لوگ بیروزگار ہوتے جا رہے ہیں. ان سے ان کے گھر کی چھت تک چھین لی گئی ہے. ملکی عدلیہ ماضی میں بات بات پر سوموٹو ایکشن لیتی تھی آج محض خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے. اسے عوام سے کوئی سروکار نہیں. موجودہ وزیراعظم عمران خان خود اپنے منہ سے متعدد بار اعتراف کر چکے ہیں. کہ ملک میں مافیاز بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیچھے ہیں. سارا ملک جانتا ہے کہ ان مافیاز کے سرغنہ کی سرپرستی موجودہ حکومت خود کر رہی ہے.. چینی مافیا کا سرغنہ وزیراعظم عمران خان کا قریبی دوست جہانگیر ترین، ادویات مافیا کا سربراہ سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف عامر گیانی، گندم مافیا کا سرپرست وفاقی وزیر خسرو بختار، اسی طرح سے دیگر مافیاز کے لوگ بھی اسی حکومت کی چھتر چھایہ میں چھپے بیٹھے ہیں.. مگر ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہو رہی. مقتدر حلقے اور اعلیٰ عدلیہ چپ چاپ انہیں دیکھ رہے ہیں.
تھا ارادہ تری فریاد کریں حاکم سے.
وہ بھی کم بخت ترا چاہنے والا نکلا.

تمام حالات سے مایوس ہو کر ملکی اپوزیشن جماعتوں نے اس نااہل حکومت سے ملک و عوام کی جان چھوڑانے کے مقصد کے تحت ملک گیر احتجاج کرنے کا پروگرام تشکیل دیا ہے. اس مقصد کی تکمیل کے لیے اپوزیشن کی گیارہ جماعتوں کی طرف سے پی ڈی ایم کے نام سے ایک مشترکہ پلیٹ فارم بنایا گیا ہے. جس کی سربراہی مولانا فضل الرحمن کے سپرد کی گئی ہے. ملک کی تمام چھوٹی بڑی اپوزیشن جماعتیں اس اتحاد کا حصہ ہیں. پی ڈی ایم نے گوجرانوالہ، کراچی، کوئٹہ میں اپنی بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے. جس سے اس نااہل حکومت اور اس کے سرپرستوں کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں.پی ڈی ایم بظاہر گیارہ اپوزیشن جماعتوں کا مجموعہ ہے. مگر اس کی اصل طاقت محترمہ مریم نواز شریف ہے. جن کو پاکستانی عوام سننا چاہتی ہے. محترمہ مریم نواز شریف نے اتنی تکلیفیں اور دکھ برداشت کیے ہیں. کہ ان سے زیادہ عوام کی مشکلات کا کسی اورکو ادراک نہیں ہو سکتا . اسی لیے ان کی تقریروں میں عوام کی مشکلات و تکالیف کی کھل کر ترجمانی کی جاتی ہے. قائد محترم میاں محمد نواز شریف تو مکروہ چہروں کو بے نقاب کر ہی رہے ہے. وہ پاکستانی عوام پر عیاں کر رہے ہیں کہ کیسے کچھ خفیہ طاقتیں عوام کے حقوق سلب کرتی ہیں. ان طاقتوں کو عوام کی بہتری سے کوئی سروکار نہیں. یہ ہر صورت صرف اور صرف اپنے مفادات کو مقدم رکھتی ہیں. ان طاقتوں پر قائد محترم میاں محمد نواز شریف کا اس قدر خوف طاری ہے. کہ انہوں نے ان کی تقاریر کو براہ راست نشر کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے. مگر شاید یہ طاقتیں اس بات سے بے خبر ہیں کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں کسی کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا. گزشتہ روز کوئٹہ میں مقبوضہ کشمیر والی صورتحال پیدا کر دی گئی تھی. کرفیو سے لیکر انٹرنیٹ سروس تک معطل کر دی گئ. یہ تھا قائد محترم میاں محمد نواز شریف کا خوف جو ان کے سر چڑھ کر بول رہا تھا. اس کے باوجود کروڑوں لوگوں نے قائد محترم میاں محمد نواز شریف کی تقریر کو مختلف سوشل میڈیا ذرائع سے براہ راست سنا. بزدل و نااہل حکمران تو قائد محترم میاں محمد نواز شریف کے خوف سے باہر نہیں نکل پا رہے تھے. کہ ایسے میں قائد محترم کی بیٹی محترمہ مریم نواز شریف بھی عملی طور پر میدان سیاست میں نکل چکی ہے. جن کو پاکستانی عوام کی طرف سے خوب پذیرائی مل رہی ہے. آنے والے وقت میں محترمہ مریم نواز شریف موجودہ نااہل حکمرانوں اور ان کے سرپرستوں کے لیے بہت بڑا چیلنج بن کر ابھرے گی. پی ڈی ایم کے احتجاج کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں یہ تو پتہ نہیں. مگر اپوزیشن جماعتوں کے اس اتحاد نے اس ملک و قوم کو محترمہ مریم نواز شریف کی شکل میں ایک عوامی لیڈر فراہم کر دیا ہے.جو عوامی مسائل پر کھل کر بلا خوف و خطرہ بات کرتی ہے. ان کی شعلہ بیانی نے اقتدار کے ایوانوں میں کھلبلی مچا کر رکھ دی ہے. موجودہ حالات میں محترمہ مریم نواز شریف کی دلیرانہ شخصیت کو دیکھتے ہوئے بلاجھجک کہا جاسکتا ہے. کہ ملک کی آیندہ وزیراعظم محترمہ مریم نواز شریف ہوگی. موجودہ اور بزدل حکمرانوں کی جانب سے ملنے والی صعوبتوں نے انہیں کمزور کرنے کی بجائے بہت زیادہ مضبوط و طاقت ور بنا دیا ہے. اب ان کو ملک و عوام کی بہتری کے مشن سے ڈرا دھمکا کر روکا نہیں جاسکتا. انہوں نے ہر عوامی مسئلہ پر کھل کر لب کشائی کا پختہ ارادہ کر لیا ہے. وہ مقتدر حلقوں کی جانب سے اختیار کی گئی جانبدار پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہی ہے. جس کو عوام میں پذیرائی مل رہی ہے. عوام کو احساس ہو چلا ہے کہ کوئی تو ہے جو ہمارے بنیادی حقوق کے لیے کھل کر بات کر رہا ہے. مقتدر حلقوں کو اب سر جوڑ کر سوچنا ہوگا. اور اپنی اختیار کردہ پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی. ورنہ انکشافات کا دائرہ کار وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے گا.
آپ ہی اپنے ذرا جوروستم کو دیکھیں.
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں