فیصل آباد میں کروڑوں روپے کی بے نامی چینی کی فروخت کا بڑا سکینڈل ، حکام خاموش کیوں؟؟

فیصل آباد ، علی رومان حسن

فیصل آباد کی تحصیل تاندالیانوالہ کے پراپرٹی ڈیلرشہری کے نام پر جعلی کمپنی قائم کرکے 3کروڑ روپے کی چینی کی خریدو فروخت کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے شہری کو کروڑوں روپے کی چینی فروخت کرنے پرنوٹس جاری کیاگیا جس پرحواس باختہ ہو گیا اور اسسٹنٹ کمشنر تاندلیانوالہ کو اس معاملے پر درخواست دیدی اور ایک خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے چینی کی بوریوں سے لوڈ ٹرک کو قبضہ میں لے لیا جس کے بعد ایف بی آر نے مزید تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ کی 2 شوگر ملزجن میں کمالیہ شوگر ملز اور چنار شوگر ملز سے جعلی کمپنی کے نام پر 3کروڑ روپے کی چینی کی خریدوفروخت کا سکینڈل سامنے آیا ہے جس میں تاندلیانوالہ کے ایک پراپرٹی ڈیلر شہری انیس ولد محمد عیسی جس کے شناختی کارڈ کا غلط استعمال کرکے ٹوسٹار کے نام سے جعلی کمپنی قائم کی گئی اوردونوں شوگز ملز سے کروڑوں روپے کی چینی کی خریدوفروخت کی جارہی تھی جس پر فیڈل بورڈ آف ریونیو فیصل آباد ریجن کی جانب سے انیس نامی شہری کو نوٹس جاری کیا تو وہ سرپکڑ کر بیٹھ گیا۔

بعد میں سبزگنبد والی مسجد تاندلیانوالہ کے رہائشی پراپرٹی ڈیلر انیس نے اسسٹنٹ کمشنر کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ وہ الکرم اسٹیٹ ایجنسی کے نام سے پراپرٹی ڈیلنگ کا کام کرتا ہے اور اسے ایک ذرائع سے معلوم ہوا کہ کچھ نامعلوم افراد کمالیہ اور چنار شوگرملزسے اس کے نام پر بھاری مقدار میں چینی کی خریدوفروخت کررہے ہیں جس پر اس نے چنار شوگرملز انتظامیہ کو بھی آگاہ کیا لیکن انہوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا اور انیس کے نام سے نامعلوم افراد چینی کی خریدوفروخت کرتے رہے۔

اسسٹنٹ کمشنر تاندلیانوالہ نعمان علی نے شہری انیس کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے خفیہ معلومات جمع کیں اورجب چنار شوگر ملز سے چینی کی بوریوں سے لوڈ ٹرک باہر نکلا تو ٹیم کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے چینی سے لوڈ ٹرک نمبرFDH4486 کو سرکاری تحویل میں لے کر دو افراد ملک اسلم اور ملک فاروق کو گرفتار کر لیا۔یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ چینی کا ٹرک مارکیٹ کمیٹی تاندلیانوالہ میں فروخت کے لئے لایا جارہا تھا۔

اس حوالے سے متاثرہ شہری انیس ولد عیسی نے بتایا کہ کسی نامعلوم شخص نے اس کے قومی شناختی کارڈ کا غلط استعمال کیا اور جعلی کمپنی بنا کر چینی کا کاروبار کررہا ہے کیونکہ اس کا چینی کا کوئی کاروبار ہے نہ وہ چینی کی خریداری میں استعمال ہونے والی کمپنی ٹوسٹار سے اس کا کوئی تعلق ہے وہ پراپرٹی کا لین دین کرتاہے اور گزشتہ کئی سالوں سے الکرم اسٹیٹ ایجنسی کے نام سے کاروبار کررہا ہے۔متاثرہ شہری انیس نے اعلی سطحی انکوائری کروا کر ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو فیصل آباد ریجن حکام کی جانب سے شہری کے نام پر کروڑوں روپے کی چینی کی خریدو فروخت کا بڑا انکشافات سامنے آنے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس بڑے سکینڈل کی تحقیقات کے لئے متحرک ہو گئے ہیں اور آئندہ چند روز میں بڑے سنسنی خیز انکشافات سامنے آنے کی توقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں