سیاسی بھونچال! ………….. تحریر ، اورنگزیب اعوان

ملکی سیاست بھونچال کی کیفیت سے دوچار ہے.آئے روز حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے نت نئے الزامات سننے کو ملتے ہیں. ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کے چکر میں انہوں نے ملکی اداروں تک کو نہیں بخشا. ایسے جہاں دیدہ سیاست دان جو ملک کے اہم ترین عہدوں پر براجمان رہے ہیں. اور عوام میں ان کی الگ سے ایک پہچان ہے. وہ بھی الزامات کی اس بہتی گنگا سے فیض یاب ہونے سے محروم نہیں رہے. بلکہ انہوں نے تو دوسرے سیاست دانوں سے دس قدم آگے نکل کر اس فیض کو سمیٹنے کی بھرپور کوشش کی ہے. عوامی جلسوں میں تو سخت زبان سننے کو مل رہی تھی. مگر اب تو پارلیمنٹ کے اندر بھی راز افشانی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے. قطعاً نظر اس بات سے کہ ان الزامات کے ملک پر کیا اثرات مرتب ہو گے. گزشتہ روز ایاز صادق (سابق سپیکر قومی اسمبلی) نے دوران اجلاس انڈین پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرنے کے واقع پر روشنی ڈالتے ہوئے. کہا کہ شاہ محمود قریشی (وزیر خارجہ)پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کی میٹنگ کے دوران بھاگے بھاگے آئے. ان کا ماتھا پسینے سے شرابور تھا اور ٹانگیں کانپ رہی تھیں. انہوں نے ارکان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہمیں انڈین پائلٹ ابھی نندن کو فوری طور پر رہا کر دینا چاہیے ورنہ بھارت آج رات نو بجے پاکستان پر حملہ کر دے گا. انہوں نے اس حقیقت کو پاکستانی عوام کے سامنے رکھنے کی کوشش کی. کہ حکومت وقت نے کس دباؤ کے تحت انڈین پائلٹ کو رہا کیا. لیکن ان کے اس بیان پر حکومتی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہو گیا.حکومت کے وزراء نے تو اس بیان کو پاکستان کی فوج سے منسلک کر دیا. ان کا کہنا ہے کہ ایاز صادق نے شاہ محمود قریشی کی آڑ میں پاکستانی افواج کو ضرب تنقید بنایا ہے. یہ سوچ شاید انڈین حکومت کے وہم گمان میں بھی نہ تھی.

مگر ہماری حکومت نے ان کو یہ نقطہ نظر پیش کیا. کہ ہمارے ایک معزز رکن قومی اسمبلی یہ بتا رہے ہیں. کہ ہم نے آپ کے خوف سے آپ کےگرفتار پائلٹ کو رہا کیا ہے. جس پر انڈین میڈیا نے اس بات پر خوب تماشہ برپا کیا. رہی سہی کسر ہمارے ناعاقبت اندیش سیاست دانوں نے پوری کر دی. انہوں نے افواج پاکستان کی نظر میں اپنا مقام بنانے کے لیے لاھور شہر کی سڑکوں پر ایاز صادق کے خلاف پوسٹر لگوا دیئے. ان پوسٹر پر انڈین پرچم اور نریندر مودی کی تصاویر بھی شائع کی گئی تھی. جو کام ہمارا دشمن بھارت نہیں کرسکا. وہ ہمارے ان معصوم دوستوں نے بغض میاں محمد نواز شریف میں کر دکھایا. بات یہی ختم نہیں ہوتی. پاکستان کی فوج کو سیاست میں گھسیٹتے ہوئے حکومتی وزیر سانئس و ٹیکنالوجی فواد حسین نے سانحہ پلوامہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ پلوامہ میں ہماری افواج نے دشمن کو سبق سکھایا ہے. کوئی ان عقل کے اندھوں سے پوچھے کہ جب پلوامہ کا واقع رونما ہوا تھا اس وقت ہماری وزارت خارجہ اور آئی ایس پی آر کی طرف سے اس سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اظہار کیا گیا تھا. آپ اس گناہ کبیرہ کو خود سے اپنے گلے ڈال رہے ہیں. یہ بیان اتنا سادہ نہیں ہے. اس کا مطلب ہے. کہ ہم اپنے پڑوسی ممالک کے اندر پر امن ماحول کو خراب کرتے ہیں. اب بھارت کو فٹیف میں پاکستان کے خلاف بات کرنے کا جواز مل گیا ہے. اگر ملکی سیاست میں یہی کشیدہ صورتحال برقرار رہی تو یہ عمل ملک کے لیے کسی صورت نیک شگون ثابت نہ ہو گا. ہمارے سیاسی راہنماؤں اور ملکی اداروں کے سربراہان کو ہوش کے ناخن لینا ہوگے. اس سلسلہ میں حکومت وقت کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے. اسے فراخدلی کا مظاہرہ کرنا ہوگا. اور اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ جاری محاذ آرائی کو ختم کرنے میں پہل کرنی پڑے گی. وزیراعظم عمران خان تو خود کرکٹ کے کھیل کے بین الاقوامی مایہ ناز کھلاڑی رہے ہیں. انہیں بخوبی اندازہ ہے. کہ دوران کھیل جب دونوں ٹیموں کے درمیان کوئی تنازع جنم لیتا ہے . تو اس کو افہام تفہیم سے حل کیا جاتا ہے .

پتہ نہیں وہ سیاست کے میدان میں اس طریقہ کار پر عمل درآمد کیوں نہیں کر رہے . اگر موجودہ حالات میں تنازعات اسی طرح سے جنم لیتے رہے. تو آپ کی حکومت کو درپیش مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا. ایسی صورتحال میں آپ کے لیے حکومت چلانا ناممکن ہو جائے گا. آپ اس وقت حکومت میں ہے. آپ کا فرض بنتا ہے.کہ آگے بڑھ کر وسیع قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے. اپوزیشن جماعتوں سے ملکی مفاد میں مذاکرات کا سلسلہ شروع کرے. اپوزیشن کا تو کام ہی جلسے جلوس کرنا ہوتا ہے. کیونکہ اس نے حکومت وقت کی نااہلیوں کو عوام کے سامنے عیاں کرنا ہوتا ہے. اس کے جواب میں حکومت وقت کی طرف سے جلسے جلوس کا انعقاد سمجھ سے بالاتر ہے. اس طرح تو سیاسی کشیدگی میں کمی کسی صورت ممکن نہیں.آپ کے حکومتی وزراء اور معاون خصوصی بھی جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں. اس کی بڑی وجہ ان کی سیاسی ٹریننگ کا عدم فقدان ہے. ایک سیاسی رہنما کونسلر سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کرکے رکن قومی و صوبائی اسمبلی بنتا ہے. اس دوران اس کی قوت برداشت لامتناہی حد تک مضبوط ہو جاتی ہے. وہ لوگوں کی کڑوی گھٹی باتوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے کا ہنر سیکھ جاتا ہے. وہ اپنے سیاسی مخالف کو بھی انتہائی مہذب طریقے سے جواب دیتا ہے. کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے.کہ اس کے منہ سے نکلنے والے الفاظ اس کی تربیت اورخاندانی پس منظر کی عکاسی کررہے ہیں. اس لیے وہ کسی بھی حالت میں اخلاق کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑتے. اور اپنے سیاسی مخالف پر تنقید بھی انتہائی شائستگی سے کرتے ہیں. کیونکہ سیاسی لوگوں کی لڑائی سیاسی معاملات پر ہوتی ہیں. ناکہ ذاتی. مگر آپ کے معاون خصوصی اور وفاقی وزراء کی اکثریت پہلی بار ان عہدوں پر براجمان ہوئی ہے. یہ لوگ سیاسی رموز اوقاف سے ناآشنا ہیں. کیونکہ انہوں نے اس سے قبل کبھی عملی سیاست میں کردار ادا نہیں کیا. وہ اپنے اپنے شعبہ زندگی کے تو ماہر ہیں. مگر سیاست کے میدان میں اناڑی ہیں. اسی اناڑی پن میں وہ اکثر تلخ باتیں کر جاتے ہیں. جس پر آپ کے سیاسی مخالفین کو باتیں کرنے کا موقع فراہم ہو جاتا ہے. کیا ہی اچھا ہوتا. کہ آپ تجربہ کار لوگوں کو وفاقی کابینہ میں قلمدان دیتے. اس طرح سے آپ کی حکومتی کارکردگی کے ساتھ ساتھ آپ کی سیاسی ساکھ میں بھی بہتری یقینی تھی. پنجاب میں معاون خصوصی برائے اطلاعات کا قلمدان فردوس عاشق اعوان کو سونپ کر آپ نے ایک احسن اقدام اٹھایا ہے. کیونکہ وہ اس سے پہلے وفاقی وزیر اطلاعات کے طور پر کام کر چکی ہے. اور وہ ایک اعلیٰ روایات کے حامل خاندان کی خاتون ہے.ان کی پنجاب میں بطور معاون خصوصی اطلاعات برائے وزیراعلیٰ پنجاب تعیناتی تازہ ہوا کا ایک جھونکا ہے. جس کے مثبت ثمرات آپ کی پارٹی کے لیے بھی نیک شگون ثابت ہوگے.

اس سے قبل وزیر اطلاعات پنجاب فیض الحسن چوہان جذبات کی رو میں بہہ کر اپنے سیاسی مخالفین پر حد سے زیادہ تنقید کر جاتے تھے. بلکہ اب تو انہوں نے بین الاقوامی معاملات پر بھی لب کشائی شروع کر دی تھی. وہ انڈیا کے اندرونی معاملات پر بہت زیادہ بولنا شروع ہو گئے تھے. شاید وہ بھول گئے تھے. کہ وہ ایک صوبہ کے وزیر اطلاعات ہے. ناکہ ملک پاکستان کے. اگر ایک صوبہ کا وزیر اطلاعات ہی ملک کی خارجہ پالیسی بیان کرنا شروع دے تو پھر وفاقی وزیر خارجہ نے کیا کرنا ہے. شاید یہ سیاست میں نومود لوگ اپنے فرائض منصبی سے بھی ناآشنا ہیں . اس لیے وہ اپنی آئینی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں . اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ جس کا کام اسے کو ساجے. ملک کی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم نے حکومت مخالف جس تحریک کا آغاز کیا ہے. وہ بالکل درست اقدام ہے. کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے عوامی مسائل پر سیاست کرنا ہوتی ہے. اور آج کے موجودہ حالات میں عام آدمی کا جینا دشوار ہو چکا ہے. اگر ایسے میں بھی اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے چپ کا روزہ نہ توڑا جاتا. تو پھر ان کی سیاست تو دفن ہو کر رہ جاتی. سیاسی جماعتوں کو اپنے وجود کو قائم دائم رکھنے کے لیے عوام کو درپیش مسائل پر کھل کر گفت وشنید کرنا ہوتی ہے. عوامی حقوق کے حصول کےلیے اپوزیشن جماعتیں جلسے، جلوس بھی کرتی ہے. مگر یہ منطق سمجھ سے بالاتر ہے. کہ اپوزیشن جماعتوں کی حکومت مخالف تحریک کے جواب میں حکومت وقت بھی تحریک کا آغاز کر دے. حکومت تو اپنی اعلیٰ کارکردگی سے عوام کو مطمئین کرتی ہے. نہ کہ احتجاج سے . موجودہ حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے. ملکی موجودہ سیاسی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے. فیصلہ سازی کرنے کی اشد ضرورت ہے. اگر اس نے اپنی روش تبدیل نہ کی. تو اس کا خاتمہ یقینی ہے. اپوزیشن جماعتوں سے بھی امید کی جاتی ہے. کہ وہ ملکی نازک صورتحال میں اداروں سے محاذ آرائی سے گریز کرے گی. کیونکہ اداروں سے محاذ آرائی کسی کے بھی مفاد میں بہتر نہیں. اداروں کو بھی اپنی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے. اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی کرنا چاہیے. سیاسی جماعتیں اور ملکی ادارے جب اپنی آئینی حدود سے روح گردانی کرتے ہیں. اسی وقت ملک میں انتشار پیدا ہوتا ہے. آج اکیسویں صدی میں دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے. مگر ہم بحیثیت قوم ابھی تک آئین پاکستان پر عمل درآمد نہیں کروا سکے. اس سے بڑھ کر ہماری جاہلیت کا مظاہرہ اور کیا ہو گا. خدارا حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے راہنماؤں سے ہاتھ جوڑ کر التجا ہے. کہ وہ اپنے باہمی اختلافات کو پس پست ڈال کر اس ملک و قوم کی بہتری کے لیے مل جل کر حکمت عملی اختیار کرے. تاکہ ملک اور عوام کو درپیش مسائل میں کمی واقع ہو سکے. ورنہ ان کی آپسی لڑائی ان کے اپنے وجود کے ساتھ ساتھ ملکی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ثابت ہوگی. عوام کی نظریں اس وقت حکومتی اقدامات پر جمی ہوئی ہیں. کہ وہ ملک میں جاری سیاسی بھونچال کی شدت میں کمی کے لیے کیا کردار ادا کرتی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں