زرعی یونیورسٹی سنڈیکیٹ کی ایک سیٹ کا الیکشن کالعدم قرار، عدالت عالیہ نے کیا حکم دیا؟؟

فیصل آباد ، علی رومان حسن

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سنڈیکیٹ کی ایک سیٹ پر ہونیوالے الیکشن کو کالعدم قرار دیدیا گیا ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ کو سنڈیکیٹ ممبر محمود رندھاوا کی سیٹ پر دوبارہ الیکشن کروانے کا حکم جاری کردیا گیا ہے –

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا کی جانب سے جاری کئے گئے فیصلے کے مطابق زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی سنڈیکیٹ کی ایک سیٹ پر ہونیوالے الیکشن کو کالعدم اور محمود رندھاوا کی بطور سنڈیکیٹ ممبر کامیابی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ زرعی یونیورسٹی انتظامیہ سنڈیکیٹ ممبر محمود رندھاوا کی سیٹ پر دوبارہ الیکشن کروائے-

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی سنڈیکیٹ کی ایک سیٹ کے الیکشن میں ناکام امیدوار پروفیسر جعفر جسکانی نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کردہ رٹ میں یونیورسٹی چانسلر کو فریق بنایا تھا اور یونیورسٹی رجسٹرار کی طرف سے نئے الیکشن کروانے کی درخواست بھی عدالت میں جمع کروائی گئی تھی- دائر کی گئی رٹ میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی سنڈیکیٹ کی ایک سیٹ کے الیکشن میں غیر مجاز افراد کو وٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی جن میں ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس گلفراز اور ڈویژنل ڈائریکٹر لائیوسٹاف محمود اختر کو غیر قانونی طورپر ووٹ ڈالنے دیا گیا-

متاثرہ ناکام امیدوار کے موقف کے مطابق سنڈیکیٹ انتخابات میں انہوں نے 43 جبکہ ان کے مخالف امیدوار محمود رندھاوا نے 42 ووٹ حاصل کئے لیکن اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر اشرف نے میرے 3 اور ان کے مخالف امیدوار محمود رندھاوا کے 2 ووٹ منسوخ کئے اور وائس چانسلر ڈاکٹر اشرف نے اپنا ووٹ محمود رندھاوا کے حق میں ووٹ دے کر اسے جتوا دیا اور اس کے ساتھ ساتھ سنڈیکیٹ کے دیگر ممبران ڈاکٹر اعظم اور ڈاکٹر اقرار احمد خاں کے نام جان بوجھ کر ووٹر فہرست سے خارج کر دئیے گئے.-

ناکام امیدوار پروفیسر جعفر جسکانی نے واضح کیا کہ انہوں نے یونیورسٹی چانسلر گورنر پنجاب سے بھی اس معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی تھی لیکن چانسلر ، گورنر پنجاب نے سماعت کا اختیار نہ رکھنے پر ان کی اپیل مسترد کر دی جس کے بعد انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں