گلگت بلتستان کا انتخابی معرکہ و ٹرائل کورٹ کی تحقیقاتی رپورٹ (تحریر، اورنگزیب اعوان)

بلاشبہ گلگت بلتستان کی وادی کراہ ارض پر جنت نظیر کا منظر پیش کرتی ہے. اس کے حسین جمیل و دلفریب نظارے دیکھنے والوں کو اپنے حسن کے سحر میں مبتلا کر لیتے ہیں. یہ خطہ ارض پاکستان میں وقوع پذیر ہونے کے باوجود گمنام تھا. الیکشن گلگت بلتستان نے اس کی قدرو منزلت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین اپنے امیدواروں کو فتح یاب کروانے کے لیے ان کے حلقہ انتخاب میں جلسے جلوسوں کا انعقاد کر رہے ہیں. پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان تحریک انصاف کے وفاقی وزراء یہاں اپنے امیدواروں کی الیکشن مہم چلا رہے ہیں. الیکشن میں تو کسی ایک سیاسی جماعت کو فتح یا شکست سے دوچار ہونا ہے. مگر جو بات اس الیکشن کے توسط سے گلگت بلتستان کے حق میں جا رہی ہے. وہ اس کے مختلف علاقوں میں ہونے والے انتخابی جلسوں کی بدولت دنیا بھر کو اس کی قدرتی و دلکش خوبصورتی دیکھنے کو مل رہی ہے. پاکستان کے لوگ بھی اس کے مختلف علاقوں کے ناموں سے آشنا ہو رہے ہیں. ہر سیاسی جماعت ایک دن میں دو سے تین انتخابی جلسوں کا انعقاد کرتی ہے. جو مختلف علاقوں میں منعقد ہوتے ہیں. اس طرح سے ان علاقوں کے نام اور ان کی قدرتی خوبصورتی دیکھنے کو ملتی ہے. سیاسی رہنماؤں کی گلگت بلتستان میں موجودگی نےاسے ایک نئی پہچان عطا کی ہے. جس نے اسے الگ صوبہ بنانے کی راہ ہموار کر دی ہے. یہ ان لوگوں کا آئینی حق بھی ہے. جس سے اسے محروم نہیں رکھا جا سکتا. گزشتہ پانچ سال یہاں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت رہی ہے. ان کی جماعت کے حافظ محمد حفیظ الرحمان بطور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کام کرتے رہے ہیں.بغیر صوبہ وزیراعلیٰ کا عہدہ کیسے مل سکتا ہے. یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے.

چلے اب ہی اس خطہ ارض کو صوبہ کا درجہ دے کر اس کی احساس محرومی کا ازالہ کر دیا جائے. چند حکومتی نومولود وزراء کی جانب سے اس سرزمین پر کھڑے ہو کر اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کیا جا رہا ہے. جو کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں . وزیراعظم پاکستان عمران خان کو اپنے ان وزراء کو شو کاز نوٹس جاری کرنا چاہیے تھا. مگر ان کی طرف سے اختیار کی گئ خاموشی ان وزراء کو مزید ہمت و حوصلہ عطا کر رہی ہے. پاکستان تحریک انصاف نے ایسا سیاسی کلچر پروان چڑھایا ہے. جس میں سوائے طوفان بدتمیزی کے کچھ نہیں. پاکستان تحریک انصاف کی سوشل میڈیا پر موجود نوجوان نسل بھی اپنے سیاسی مخالفین اورالیکڑانک اور پرنٹ میڈیا سے وابستہ لوگوں بالخصوص خواتین اینکر پرسن بارے گھٹیا ترین زبان استعمال کرتی ہے. میڈیا کے لوگوں کا کام ہی عوام تک سچ پہچانا ہوتا ہے. جب پاکستان تحریک انصاف کا اسلام آباد میں دھرنا چل رہا تھا. تو اس وقت ملکی میڈیا سارا سارا دن ان کو دیکھاتا تھا. آج اگر یہی میڈیا اپوزیشن کے نقطہ نظر کو عوام کے سامنے غیر جانبداری و ایمانداری سے پیش کر رہا ہے تو اسے حکومت کی طرف سے بکاؤ میڈیا کا لقب دیا جا رہا ہے. اور آزادی صحافت پر مختلف طریقوں سے قدغن لگائی جا رہی ہیں . موجودہ حکومت کے دماغ میں پتہ نہیں کیا فتور بھرا ہوا ہے وہ اپنے سیاسی اتحادیوں اور اپوزیشن جماعتوں کو عزت دینے کو قطعاً تیار نہیں. جس کی وجہ سے اس کے سیاسی اتحادی سردار اختر مینگل ان کا ساتھ چھوڑ گئے ہے.

پاکستان مسلم لیگ ق بھی ان سے نالاں نظر آتی ہے. پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ و سابق وزیراعظم پاکستان چوہدری شجاعت حسین شدید علیل ہے. اور لاھور کے ایک سرکاری ہسپتال میں زیر علاج ہے. گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان لاھور تشریف لیکر آئے.قوی امکان تھا. کہ وہ چوہدری شجاعت حسین کی عیادت کرنے جائے گے. مگر انہوں نے ایسا کرنا گوارہ نہ سمجھا . جس کی وجہ سے حکمران اتحاد میں مزید دراڑیں پیدا ہو گئی ہیں. وزیراعظم عمران خان کسی کے ساتھ مل کر چلنے کو تیار نہیں. شاید وہ ذہنی طور پر نئے الیکشن کے لیے تیار ہو چکے ہیں. وہ چاہتے ہیں. کہ اپوزیشن جماعتیں ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک قومی اسمبلی میں پیش کرے اور حکومت وقت کے ناراض اتحادی بھی اس عمل میں اپوزیشن کا بھرپور ساتھ دیں. وہ حکومتی ذمہ داریاں نبھانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں.انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہے. کہ اپوزیشن کرنا بہت آسان کام ہے .امور حکومت چلانا ان کے بس کی بات نہیں. گزشتہ روز جلسہ حافظ آباد کے دوران وہ خود سے اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں. کہ اپوزیشن جماعتیں ملک میں مارشل لاء کی راہ ہموار کر رہی ہیں. یہ ملک کے وزیراعظم ہے اگر کوئی ایسی بات ان کے علم میں ہے. تو انہیں مکمل حقائق پاکستانی عوام کے سامنے رکھنے چاہیے. اس مایوس کن ماحول میں خوش آیندہ بات یہ ہے کہ ملکی اداروں نے ان کی آپسی لڑائی سے خود کو الگ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے. آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی طرف سے کراچی میں مزار قائد سے شروع ہوکر محترمہ مریم نواز شریف کے کمرہ کا دروازہ توڑ کر کیپٹن محمد صفدر اعوان کی گرفتاری اور سندھ پولیس کے سربراہ کے اغواء کے ناخوش گوار واقع پر بنائی گئ تفتیشی کمیٹی کورٹ آف ٹرائل نے آج اپنی رپورٹ شائع کر دی ہے. جس کے مطابق رینجر اور انٹیلی جنس ایجنسی کے افسران کی جانب سے عوامی دباؤ کے تحت جلد بازی میں کاروائی کی گئی. جس سے ادارے کی نیک نامی کو نقصان پہنچا ہے. ان افسران کو فی الفور ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے. ان کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی . اس اقدام سے عوام کی نظر میں آرمی کی عزت و توقیر میں اضافہ ہوا ہے.پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آرمی چیف کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے جمہوریت کی فتح قرار دیا ہے. دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے اس تحقیقاتی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے. ان کے مطابق اس رپورٹ میں آئی جی سندھ کے اغواء کاروں کا تو ذکر کر دیا گیا ہے. مگر ان عناصر کا ذکر نہیں جن کے کہنے پر یہ تمام کاروائی عمل میں لائی گئی. ناہی محترمہ مریم نواز شریف اور کیپٹن محمد صفدر اعوان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا اس رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے. جبکہ گزشتہ روز پولیس نے عدالت میں بتایا ہے. کہ مزار قائد پر ہونے والے واقع کا مدعی جھوٹا ہے. وہ وقوع کے وقت مزار قائد پر موجود نہیں تھا. سندھ پولیس نے جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی پرچہ کو خارج کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے.موجودہ حکومت ملکی اداروں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے .

ایک نااہل سیاسی جماعت کے لیے ملکی ادارے کب تک اپنی عزت کو داؤ پر لگاتے رہے گے. سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف، محترمہ مریم نواز شریف ،کیپٹن محمد صفدر اعوان،سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز شریف،سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ خان، خواجہ برادران اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق صدر آصف علی زرداری سیمت ایک لمبی فہرست ہے. جن کے خلاف ملکی اداروں کو غیر آئینی طریقہ سے استعمال کرتے ہوئے. جھوٹےاور من گھڑت مقدمات قائم کیے گئے ہیں. وزیراعظم عمران خان چاہتے ہیں . کہ ان کے سیاسی مخالفین کو پابندو سلاسل کردیا جائے. اور وہ اکیلے ہی ملکی اقتدار پر براجمان رہے. . ایسا عملاً ممکن نہیں. جس سیاست دان کی اپنے حلیفوں اور حریفوں سے نہیں بن رہی وہ ملکی اداروں سے کس طرح مل کر چل سکتا ہے. وزیراعظم عمران خان کی فطرت ہے. کہ وہ ہر کامیابی کا سہرا اپنے سر سجانا چاہتا ہے. شاید ملکی اداروں کو بھی اس بات کا بخوبی ادراک ہو چکا ہے. اسی لیے انہوں نے اپنی ساخت کو بچانے کے لیے ان کے ساتھ مزید نہ چلنے کا عندیہ دے دیا ہے. سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی طرف سے عوامی اجتماعات میں اداروں کے سربراہان کا نام لیکر الیکشن 2018 میں دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں. جس سے ادارے کی ساخت اور شہرت کو نقصان پہنچ رہا ہے . آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے. سندھ پولیس کے سربراہ کےساتھ پیش آنے والے ناخوش گوار واقع پر شفاف انکوائری کروا کر انتہائی احسن اقدام اٹھایا ہے. انہوں نے اپنے ادارے کے افسران کو پیغام دیا ہے. کہ آیندہ کسی سیاسی جماعت کا آلہ کار نہیں بننا. اس میں کسی کی ہار جیت نہیں ہوئی. بلکہ ملکی وقار میں اضافہ ہوا ہے. گلگت بلتستان کے انتخابی معرکہ سے خود کو الگ کرتے ہوئے. افواج پاکستان نے واضح طور پر پیغام دیا ہے .کہ عوام کی منشاء کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا. وہ اپنی راہنمائی کے لیے جسے چاہے اپنے ووٹ کی طاقت سے منتخب کرے . قائد محترم میاں محمد نواز شریف کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو . کامیابی سے ہمکنار ہوتا نظر آرہا ہے. اس بیانیہ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو اس میں عوامی رائے، سیاسی جماعتوں اور ملکی اداروں کی بالادستی و مضبوطی کی بات کی جا رہی ہے. اس بیانیہ میں کوئی ایسی بات نہیں جس سے کسی دوسرے فریق کی دل آزاری ہوتی ہو . اچھی بات کسی بھی طرف سے کی جائے اسے کھولے دل سے تسلیم کر لینا چاہیے. سیاسی جماعتیں اور ملکی ادارے ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں. ان کی بقاء ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر چلنے میں ہی پنہاں ہے. انا اور غرور دونوں کے لیے زہر قاتل ہے. گلگت بلتستان کی انتخابی مہم اور کراچی واقعہ پر ٹرائل کورٹ کی رپورٹ نے ملک میں نئی روایات و سیاسی سوچ کو پروان چڑھایا ہے. جس کے دور رس نتائج برآمد ہوگے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں