کمزور طبقہ! ………. تحریر، شفقت اللہ مشتاق

کمزور طبقہ کی بات ہمیشہ ہی طاقتور طبقہ نے کی ہے شاید کمزور طبقہ کی اپنی زبان نہیں ہوتی یا وہ صبر کرنے والوں میں سے ہونا چاہتا ہے۔ویسے تو اللہ تعالی نے اس کو ہاتھ پاوں دیئے ہیں اور وہ خوب ان کا استعمال کرتا ہے لیکن وہ بھی دوسروں کے لئے۔ یہ دوسرے ہیں جو بات اس کمزور طبقہ کی کرتے ہیں لیکن نمائندگی طاقتور طبقہ کی کرتے ہیں۔ کاش نمائندگی اپنی اپنی کی جاتی تو طبقاتی نظام ویسے ہی دم توڑ جاتا۔ ابن آدم ایک ہی جگہ کھاتے پیتے اور ایک ہی جگہ رہتے۔ صورتحال کچھ یوں ہے کہ جھونپڑیوں میں رہنے والے محلوں میں رہنے کے خواب دیکھتے ہیں اور محلوں میں رہنے والوں کی نیندیں اس لئے اڑ گئی ہیں کہ وہ کیسے دنیا جہان پر حکمرانی کر سکتے ہیں۔ یہ سارے خواب ہیں اور خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہوتی اور پھر خواب تو پھر خواب ہیں۔یہ جنون ہے جو خوابوں کو بھی حقیقت میں بدل دیتا ہے یقیننا زور لگانے سے ایک دن غلامی کے رسے ٹوٹ جاتے ہیں۔ بھوک، افلاس اور غربت کی رات دن میں بدل جاتی ہے لیکن رات کو دن میں بدلنے کے لئے ستاروں کی قربانی دینا پڑتی ہے اور قربانی کے لئے کمزور طبقے کو خوابوں کی دنیا سے نکالنا پڑتا ہے۔ اب یہ بات غور طلب ہے کہ یہ کام کون کرے گا۔ کمزور طبقہ یا طاقتور طبقہ۔ مزے کی بات ہے کہ مواخرالذکر اول الذکر کو جوش دلا رہا ہے اور اول الذکر خوب نعرے مارے جارہا ہے۔ اس کو کون سمجھائے کہ بات آگے بڑھنے سے بنتی ہے اور آگے بڑھنے کے لئے جوش اور ہوش میں توازن قائم رکھنا بہت ہی ضروری ہے۔ ضروری تو یہ بھی ہے کہ ریاست مدینہ کا نظریہ مواخات فوری نافذالعمل کیا جائے اور وسائل آپس میں برابر تقسیم کر دیئے جائیں۔ طبقاتی نظام سپرد خاک اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر اس طبقاتی نظام پر خاک اور اس کی بات کرنے والوں کے منہ میں خاک۔ خدا کرے کمزور طبقہ کوئی ایسی خاک شفا لے کہ اس کی آنکھ کھل جائے اور حقیقت اس پر عیاں ہو جائے
ماضی میں کچھ تجربے کئے گئے ہیں تاکہ کمزور طبقہ کی سرکارے دربارے نمائندگی ہو اور نمائندگان کمزور طبقہ پوری شدومد سے اپنی آواز بلند کرسکیں۔ اسی لئے شاید انگریز حکومت نے سول سروس کے مقابلے کے امتحان متعارف کروائے اور ایسے افسران کی تعلیم وتربیت اس انداز سے کی گئی تاکہ غریب کا بچہ پڑھ لکھ کر جاگیردار اور سرمایہ دار کے سر چڑھ کر بات کرے گا لیکن بدقسمتی سے اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی بجائے اپنے آپ کو گورا بنا لیا پھر اس کو گورے اور کالے میں واضح فرق نظر آنا شروع ہو گیا اس طرح وہ اپنی اصل سے دور ہوتا چلا گیا اور پھر ایک دن وہ بھی طاقتور طبقہ کا حصہ بن کر کمزور طبقہ کی خوبصورت گفتگو کرنے لگا۔ بلدیاتی نظام کے ذریعے سے مزدور کسان اور عام آدمی کو سیاست کی راہداریوں سے ایسے گزارا گیا کہ ان کو بھی “ہوش” آگئی انہوں نے بھی بہتی گنگا میں ٹکا کے ہاتھ دھوئے اور پھر ایک دن ایوانوں میں پہنچ کر کمزور طبقے کی ایسی نمائندگی کی کہ رہے خدا کا نام۔ صوفیا نے ہمیشہ ذکر اذکار کے ساتھ معاشرتی اصلاح کا بھی کام کیا ہے۔ اور بعض صوفیا نے مذکورہ طبقاتی نظام کو توڑنے کے لئے کمزور طبقے کے بعض باصلاحیت افراد کو خرقہ خلافت سے نوازا تاکہ معاشرہ میں کمزور طبقہ کو روحانی لباس پہنا کر معزز و محترم کر دیا جائے اور اس طرح چراغ سے چراغ جلیں گے تو طبقے ختم ہو جائیں گے اور انسانیت رہ جائے گی یہ خواب بھی صوفیوں اور خلیفوں کی آنکھیں بند ہوتے ہی چکنا چور ہو گیا۔ وارثان مذکوران کے مسند ارشاد پر بیٹھتے ہی درویشی سلطانی میں بدل گئی۔یقیننا طبقہ بدلنے سے خیالات بدل جاتے ہیں اور بقول اقبال
زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا
طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی
طبقے بدلنے کی بجائے سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے اور سوچ میں پختگی ایک بتدریج عمل ہے۔ کرہ ارض پر بے شمار قوموں نے سوچ کو بدلا اور پھر کمزور نے تخت نشینوں کو اتار کر برابر کھڑا کردیا اور اگر ان کے سر پھر بھی اونچے تھے تو سرقلم کر کے برابر کئے گئے۔ گئے وہ دن جب بولنے والے کی زبان کھینچ لی جاتی تھی سر بازار عزت تار تار کی جاتی تھی معینان کو حقے پکڑوانے کے لئے نیچے بٹھایا جاتا تھا۔ غریب کے بچے پر سکول کے دروازے بند کر دئیے جاتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ اس شعور کے سفر کو آسان بنانے میں علم نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ ایک پڑھا لکھا بے شمار ان پڑھوں پر بھاری ہوتا ہے کمزور طبقے کو طاقتور طبقے کے برابر لانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ علم کا حصول ہے۔ کائنات میں جتنے بھی انقلاب آئے ہیں جنہوں نے طبقاتی جنگ کا خاتمہ کیا ہے ان کے پیچھے جو قوت کار فرما تھی وہ علم ہی تو تھا ایسے ہی تو محمد عربی کے انقلاب کا آغاز اقرا باسم سے نہیں ہوا تھا اورپڑھنے پڑھانے پر قیدی چھوڑ دیئے گئے تھے۔ مسلمانوں نےسپین فتح کیا اور کتاب کی طاقت سے یورپ کی تقدیر بدل ڈالی۔ یوں علم عقل اور عمل سے لوگوں میں طبقات کا شعور پیدا کیا گیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان اپنی اور اپنے ہم جنس کی حیثیت کو بھول گیا اور نسل انسانی طبقات میں بٹ گئی_

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی سماجی اور معاشی ناہمواریوں کو پیدا کرنے میں اصل کردار ہمارے طاقتور طبقے کا ہے جن کی وجہ سے وسائل پر محض اسی طبقے کا قبضہ ہے اور کمزور طبقے کو ان قبضہ گروپوں نے چکرا کر رکھ دیا ہے اس طبقاتی نظام کے خاتمے کے لئے سب سے پہلے جیسا کہ مذکورہ سطور میں بیان کیا گیا ہے علم کی شمع روشن کرنا ہوگی۔ بھائی چارے کی فضا انسانی بنیادوں پر قائم کرنا بھی اشد ضروری ہے۔ حکومتی سطح پر اداروں تک ہر خاص و عام کی رسائی کو یقینی بنانا اس لحاظ سے بہت ہی ضروری ہے۔ معاشرہ کی تشکیل مبنی بر انصاف اور مبنی بر اخلاص کی بنیاد پرہونا چاہیئے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم وقت کی اشد ضرورت ہے کمزور طبقہ میں ان کے حقوق کے سلسلے میں آگاہی مہم کے بغیر یہ سارا کچھ ممکن نہیں۔ تعلیمی اداروں میں غریب اور نادار بچوں کے لئے مفت تعلیم کا بندوبست کرنا چاہیئے اور قانون سب کے لئے ایک اور آزادی رائے کا حق یقینی بنایا جائے ان سارے اقدامات کے بعد یہ ممکن ہی نہیں کہ کمزور اور طاقتور طبقات کے درمیان فاصلے باقی رہیں

قرآن حکیم کی سورہ القصص میں اللہ پاک فرماتے ہیں
“ویریدان نمن علی الذین استضعفوفی الارض ونجعلھم ائمہ و نجعلھم الوارثین”
ترجمہ۔ پھر ہماری چاہت ہوئی کہ ہم ان پر کرم فرمائیں جنہیں زمین میں بے حد کمزور کردیا گیا تھا اور ہم ان کو پیشوا اور زمین کا وارث بنائیں
یقیننا ایک دن آئے گا جب بوریا نشین تخت نشین ہوں لیکن یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیئے کہ راج ساری خلق خدا کرے گی طبقات آسودہ خاک ہوجائیں گے
بقول راقم الحروف
بتا دے حقیقت اسے اس کی شفقت
جسے زعم ہے وہ خدا ہو گیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں