زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی 16 نومبر کی سنڈیکیٹ رکوانے کی کوشش ناکام، لیکن شامل کون؟

فیصل آباد ، آن لائن

عدالت عالیہ نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی 16 نومبر کو بلائی جانیوالی سنڈیکیٹ میٹنگ کو رکوانے کی کوشش ناکام بنا دی ہے اور کیس کو جسٹس ساجد محمود سیٹھی کی عدالت میں ٹرانسفر کردیا ہے – آن لائن ذرائع کے مطابق محمد سرور چوہدری نے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ نمبر 20ـ58811 دائر کی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں 16 نومبر کو ہونے والی سینڈیکیٹ کو روکا جائے جس پر جسٹس شجاعت علی خاں نے کیس کی ابتدائی سماعت کی جس میں سینڈیکیٹ میٹنگ کے انعقاد پر حکم امتناعی جاری کرنے سے واضح انکار کرتے ہوئے اس کیس کی مزید سماعت کے لئے جسٹس ساجد محمود سیٹھی کی عدالت میں ٹرانسفر کردیا.

آن لائن کے باوثوق ذرائع کے مطابق 16نومبر 2020 کو ہونے والی سینڈیکیٹ میٹنگ میں گزشتہ دور میں غیر قانونی طور پر نوکریوں سے نکالے جانے والے ملازمین کو حکومت پنجاب کی ریگولرئزیشن ایکٹ 19ـ2018کے مطابق بحال کرنے اور 2 سال سے سینٹر فار ایڈوانس سٹڈیز کے ملازمین کی روکے جانے والی تنخواہوں کے معاملات کو حل کرنا بھی ایجنڈا میں شامل ہے –

آن لائن کے مطابق یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جسٹس ساجد محمود سیٹھی پہلے بھی زرعی یونیورسٹی کے کیس پر فیصلہ دے چکے ہیں اور سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سینئر ترین بینچ نے اس فیصلے کو بحال رکھا ہوا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں