گرینڈ ڈائیلاگ! ……………………. تحریر ، اورنگزیب اعوان

تاریخ اقوام عالم پر نظر ڈالی جائے. تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر بڑے سے بڑے مسئلہ کو پرامن طریقہ سے حل کرنے کے لیے گفتگو وشنید کا راستہ اختیار کیا گیا. دین اسلام کے ابتدائی ادوار میں رحمت اللہ العالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی اہل کفار سے متعدد معاہدے کیے . ان معاہدات کا مطلب ہرگز کمزوری نہ لیا جائے. بلکہ اپنے الگ تشخص کو بنا جنگ وجدل اپنے مخالف سے منگوانے کے لیے یہ ایک بہترین طریقہ ہوتا ہے. جب آپ کا حریف مذاکرات کے دوران آپ کے موقف کو تسلیم کر لیتا ہے. تو اسے آپ کی فتح سے تشبہی دی جاتی ہے. دنیا کی تاریخ ایسے متعدد واقعات سے بھری پڑی ہے. جن میں بغیر ہتھیار اٹھائے کمزور قوم نے اپنے سے کئ گناہ بڑی قوم کو محض گفتگو و شنید سے زیر کر لیا. ملک پاکستان کا وجود بھی مذاکرات کے نتیجہ میں ہی وقوع پذیر ہوا. قائداعظم محمد علی جناح نے کانگریس اور انگریز سرکار کو اپنے مدلل دلائل سے ثابت کیا. کہ برصغیر میں رہنے والے مسلمان ہر لحاظ سے ایک الگ قوم ہے. انہیں اپنے مذہب کے مطابق آزادی سے زندگی گزارنے کے لئے الگ سے ایک خطہ ارض دیا جائے. پنچ دریاؤں کی سرزمین پنجاب میں جب بھی کوئی جھگڑا طول پکڑتا ہے . تو پنچائیت فریقین کے درمیان اس مسئلے کا تصحیح کرواتی ہے.

پنچائیتی نظام میں ہمیشہ طاقت ور انسان کو منصف بنایا جاتا ہے. جو اپنے کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کروانے کی سکت رکھتا ہو. کمزور انسان کبھی بھی منصف کے عہدہ پر براجمان نہیں رہ سکتا. ملک پاکستان میں گزشتہ کئ دہائیوں سے سیاسی صورتحال عدم تسلسل سے دوچار ہے. ایسے میں ملکی مسلح افواج نے متعدد بار سیاسی جماعتوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے. ملکی سیاست کی بساط کوبکھرنے سے بچانے کی سنجیدہ کاوش کی ہے.مسلح افواج کا ملکی سیاست میں کلیدی کردار اس کے نطم وضبط اور ملکی سیاسی جماعتوں کی آپسی رنجشوں کی بدولت ہر دور میں رہا ہے. ملکی سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما آج تک ایک متفقہ سیاسی لائحہ عمل ترتیب نہیں دے سکے. جس کی بدولت ہر انتخابات کےنتائج کے نتیجہ میں ہارنے والی جماعت دھاندلی کا رونا روتی ہے. وہ الیکشن میں فتح یاب ہونے والی جماعت کی برتری کو کسی بھی صورت تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتی.اسے قوی امید ہوتی ہے. کہ عوام الیکشن میں اسے ہی ووٹ دیکر کامیاب کرے گے. کیونکہ اس نے اپنے دور اقتدار میں ملکی عوام کی بے پناہ خدمت کی ہوئی ہے. یہی صورتحال آج کل دنیا کی سپر پاور امریکہ میں نظر آرہی ہے. امریکہ کے حالیہ انتخابات میں موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے. جس پر انہوں نے الیکشن میں دھاندلی کا شور برپا کر دیا ہے. کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ اپنے دور اقتدار کے دوران اختیار کی گئی پالیسیوں پر غورو فکر کرتے. تو انہیں اندازہ ہو جاتا. کہ انہوں نے اپنے دور حکومت کے درمیان سیاہ فارم لوگوں کے لیے امریکہ میں زندگی گزارنا محال کر دیا تھا. اس نسلی تعصب کا شکار ہر غیرملکی باشندے کو ہونا پڑا . انہوں نے اپنے ملک کی ویزہ پالیسی کو اس قدر سخت کر دیا تھا. کہ کوئی بھی غیر ملکی باشندہ امریکہ کی سر زمین پر آسانی سے قدم نہیں رکھ سکتا تھا. اس کے علاوہ وہ ہر قومی مسئلہ پر اپنی ذاتی رائے کو فوقیت دیتے تھے. جس کی وجہ سے ملکی ادارے بھی ان سے نالاں تھے.

آج انہیں اپنی شکست کو کھولے دل سے تسلیم کرنا چاہیے. دھاندلی کا شور مچانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا. انسان جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے. پاکستان کی سیاست میں اگر مسلح افواج مداخلت نہ کرتی تو یہ ملک کب کا اپنا وجود کھو چکا ہوتا. کیونکہ ہماری سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے کو ہی تیار نہیں. یہ مخالف سیاسی جماعت کی حکومت کو کس طرح سے برداشت کر سکتی ہیں.ہماری سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کی ذہنی پختگی کا اندازہ آپ اسی امر سے لگا لے کہ یہ ایک دوسرے کو کافر اور ملکی غدار تک کے لقب سے نوازنے سے نہیں گھبراتے. یہاں ایک منتخب عوامی وزیراعظم کو قتل کے من گھڑت پرچہ میں سزائے موت دے دی گئی. دو بار کی منتخب وزیراعظم کو سر عام قتل کر دیا گیا. تین بار کے منتخب وزیراعظم کو کرپشن کے جھوٹے مقدمات میں ملکی سیاست سے تاحیات نااہل کر دیا گیا. یہ سب کچھ کرنے میں ملکی سیاسی جماعتوں کا کلیدی کردار رہا ہے. اس میں مسلح افواج کو مردالزام نہیں تھہرایا جاسکتا. ایک سیاسی جماعت کے خلاف ہمیشہ دوسری سیاسی جماعت نے الزامات کا پنڈورا بکس کھولا ہے. تاکہ اسے نااہل کروا کر خود سے ملکی اقتدار پر براجمان ہو سکے. الیکشن 2013 کے نتیجہ میں پاکستان مسلم لیگ ن کو ملکی سطح پر حکومت سازی کا موقع ملا. لیکن اس کو قومی اسمبلی میں موجود ایک نشست کی حامل سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے ماننے سے انکار کر دیا. اور الیکشن میں دھاندلی کا شور مچاتے ہوئے. ملک کے طول و عرض میں جلسے جلوسوں کا انعقاد کر دیا. اسی سلسلہ میں اس نے اسلام آباد میں طویل دھرنا دیا. جس کے نتیجہ میں منتخب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو ملکی عدلیہ نے نااہل قرار دے دیا. الیکشن 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کو حکومت سازی کا موقع ملا. جس کو باقی تمام اپوزیشن جماعتوں نے اپنے تحفظات کے باوجود تسلیم کر لیا. مگر وزیراعظم عمران خان اور ان کے وزراء نے اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا آغاز کر دیا. جس سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی رسہ کشی شروع ہوگئی. اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے ایک اتحاد قائم کرکے حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز کر دیا. گوجرانوالہ، کراچی اور بلوچستان کے عوامی جلسوں میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں نے ملکی اداروں پر دبے لفظوں تنقید کی. مگر پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے کھل کر مسلح افواج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی سربراہ فیض حمید کا نام لیکر الیکشن میں مجوزہ دھاندلی کا الزام لگایا . ان کی طرف سے اداروں کے سربراہان کا نام لیکر الزامات کا سلسلہ تواتر سے شروع ہوگیا. جس کے نتیجہ میں ان پر اور ان کی پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں پر بغاوت کے مقدمات درج کیے گئے. اور ان کی جماعت پر ہر طبقہ فکر کی جانب سے تنقید کی گئی. کہ ملکی اداروں پر تمہمت درازی کسی بھی طرح سے ملکی سلامتی کے لیے سود مند نہیں.

کراچی میں پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف اور ان کے شوہر کیپٹن محمد صفدر اعوان کے ساتھ رونما ہونے والے واقع اور اس کے نتیجہ میں سندھ پولیس کے سربراہ کے اغواء نے حالات کو مزید کشیدہ کر دیا. سندھ پولیس نے کام کرنے سے انکار کر دیا. جس پر آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو فون کر کے اعتماد میں لیا اور اس واقع کی جامع و غیر جانبدار انکوائری کا حکم صادر فرمایا. جبکہ وزیراعظم پاکستان اس واقع کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر اس پر ہنس رہے تھے. آرمی چیف نے اپنے وعدہ کے مطابق تحقیقات کروا کر ذمہ داران کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا. اور بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ہمارے ادارے کے کچھ افسران نے عوامی دباؤ اور جذبات کی رو میں بہہ کر یہ اقدام اٹھایا . جس سے ادارے کی بدنامی ہوئی ہے. پاکستان کی بہتر سالہ تاریخ میں یہ پہلا واقع ہے. کہ کسی آرمی چیف نے اپنے افسران کو اختیارات سے تجاوز کرنے پر سزا دی ہو. بلاول بھٹو زرداری نے اس فعل کو سراہتے ہوئے آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا. مگر محترم میاں محمد نواز شریف نے اس کو رد کر دیا. وہ اصل ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے خواہش مند ہے. الیکشن گلگت بلتستان کے سلسلہ میں محترمہ مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری ان دنوں گلگت بلتستان میں ہی قیام پذیر ہیں. گزشتہ دنوں دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک نجی ہوٹل میں ملاقات ہوئی. جس میں باہمی دلچسپی کے امور کے ساتھ ساتھ آیندہ کی ملکی سیاست بارے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا. بلاول بھٹو زرداری نے آرمی چیف سے ہونے والی ٹیلی فون گفتگو پر انہیں اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا کہ آرمی چیف نے آپ اور آپ کے شوہر کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے. اور اس واقع کے ذمہ داران کے خلاف محکمانہ کارروائی کا عندیہ دیا ہے. بلاول بھٹو زرداری نے محترمہ مریم نواز شریف کو مزید بتایا کہ آرمی چیف نے اس نااہل حکومت کی حمایت سے کنارہ کشی کا ارادہ کر لیا ہے. پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل تمام جماعتوں کا بھی یہی مقصد ہے. کہ موجودہ نااہل اور نالائق حکومت سے عوام کو چھٹکارا دلوایا جائے.اس ملاقات کے اگلے ہی روز محترمہ مریم نواز شریف نے ایک غیر ملکی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے. کہا کہ ہماری فوج سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں. ہم تو ملکی آئین کی بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں. اگر آرمی چیف نے اپنے ادارے کو ملکی آئین کے تابع کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے. تو ہم اس مثبت سوچ کو خوش آمدید کہے گے. آرمی چیف کے اس طرز عمل نے میاں محمد نواز شریف کے بیانیہ کو مزید تقویت بخشی ہے. میاں محمد نواز شریف بھی اداروں کو ان کی آئینی حدود میں رکھنے کی بات کرتے ہیں. اور عوام کےحق حاکمیت کو تسلیم کرنے پر زور دیتے ہیں. اگر ہمارے ان مطالبات کو تسلیم کر لیا جاتا ہے. تو ہم پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے توسط سے ملکی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کو تیار ہیں. لیکن اس سے پہلے ملکی اسٹیبلشمنٹ کو عوام کے حق رائے دہی کو چرانے کا ازالہ کرنا ہوگا. اور اپوزیشن جماعتوں کو یقین دہانی کروانی ہوگی. کہ آیندہ کبھی بھی عوام کے حق رائے پر اپنی ذاتی منشاء کو مسلط نہیں کیا جائے گا. ان کا یہ مطالبہ مکمل طور پر آئینی ہے. اگر ملکی اسٹیبلشمنٹ موجودہ حکومت کی سرپرستی اور حمایت سے کنارہ کشی کر لیتی ہے. تو اس حکومت کا جانا نوش دیوار پر لکھا جا چکا ہے..

اس سے قبل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بھی اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مذاکرات کا عندیہ دے چکے ہیں. اب پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف کی طرف سے گرینڈ ڈائیلاگ کی پیشکش نے ملکی سیاست میں ہلچل برپا کر دی ہے. ان کے غیر ملکی ادارے کو انٹرویو نے حکومتی صفوں میں بے چینی برپا کر دی ہے وزیراعظم سیمت تمام وفاقی وزراء حواس باختہ ہوئے پھر رہے ہیں. کراچی واقع پر مزاق اڑانے والے وزیراعظم کی ٹیم اب شرمندہ ہوئے پھر رہی ہے. وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کہہ رہی ہے. کہ آرمی چیف نے بلاول بھٹو زرداری کو وزیراعظم عمران خان کے کہنے پر فون کیا تھا. اس بیان کی تردید کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا ہے کہ ایسا کچھ نہیں وزیر اعظم نے آرمی چیف کو بلاول بھٹو زرداری کو فون کرنے کا ہرگز نہیں کہا. تو اس سے واضح ہو جاتا ہے. کہ آرمی چیف نے اب خود سے ملکی اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے. وہ موجودہ حالات کی نزاکت کو بخوبی سمجھ گئے ہیں. کہ اگر ملک کو آگے لیکر جانا ہے تو ہٹ دھرمی اور انا کو پس پشت ڈال کر سب کو ساتھ لیکر چلنا پڑے گا. اسی میں ملک و قوم کی بہتری و بھلائی ہے. ملکی اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن جماعتوں کی اس مثبت سوچ کو جتنا بھی سراہا جائے کم ہے. اس میں کسی کی ہار جیت نہیں. سب کی سوچ ملک کی بہتری ہونے چاہیے.اگر اب بھی تمام سٹیک ہولڈر مل بیٹھ کر گرینڈ ڈائیلاگ کا آغاز کرتے ہیں. تو یہ ملک کے لیے نیک شگون ثابت ہوگا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں