گناہ بے لذت! ……………… تحریر، تنویر بیتاب

سرمایہ داری نظام کی بنیاد ہی استحصال اور لوٹ مار پر ہے۔ اس نظام میں سب سے زیادہ کامیاب وہ ہوتا ہے جو انتہائ بے رحمی اور سفاکی سے دوسروں کو لوٹتا ہے۔جھوٹ اور دھوکا کوکامیابی کی سیڑھی بناتا ہے۔

کاروبار کی نوعیت کچھ بھی ہو سیلز اینڈ مارکیٹنگ کا شعبہ اُس کا جزو لازم ہوتا ہے۔ اس شعبہ میں چُن چُن کر ایسے افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے جو نئے سے نیا بے وقوف تلاش کر سکیں تاکہ انہیں ادارے کا ڈسٹری بیوٹر یا ڈیلر بنا جھوٹ اور فریب سے اُسے خوب لوٹا جائے ۔ جب اُس کی معاشی سکت ختم ہو جائے تو پھر اُسے استعمال شدہ ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا جائے۔ نیا شکار تلاش کیا جائے اور پھر اُس کے ساتھ بھی وہی سلوک ۔

عام طور پر طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ ڈیلر یا ڈسٹری بیوٹر کو جھوٹا منافع دکھایا جاتا ہے۔اُسے اعداد شمار کے گورکھ دھندے میں مُبتلا رکھا جاتا ہے۔ اُسے مختلف قسم کے انسنٹیو اور انعامی سکیمیں دینے کے وعدے کئے جاتے ہیں جن سے بعد ازاں کمپنیاں مُکر جاتی ہیں ۔ مُکرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ڈیلر یا ڈسٹری بیوٹر سے کئے گئے تمام وعدے مقامی مینجر کا زاتی فعل قرار دے دئے جاتے ہیں اس کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے یا اُسے نوکری سے ہی نکال دیا جاتا ہے۔

کمپنیوں کے اس لوٹ مار پروگرام میں سب سے قابل ترس سیل سٹاف ہی ہوتا ہے جو کمپنی کی قیادت کے کہنے پر لوٹ مار کے اس پروگرام میں ہراول دستے کا کام کرتا ہے۔ان بے چاروں کو اس لوٹ مار سے کچھ خاص حاصل نہیں ہوتا ما سوائے تنخواہ ، ترقی ، کمپنی کار اور کچھ عارضی سا ٹہور ٹپہ ۔ کمپنیاں انہیں بھی بس ایندھن کی طرح ہی استعمال کرتی ہے اور پھر ویسٹ کی طرح باہر پھینک دیتی ہیں ۔یہ بے چارے اپنے تھوڑے سے وقتی فائدے لئے اپنا ایمان اور آخرت تک بیچ دیتے ہیں ۔ان کے جھوٹ فریب اور دھوکا بازی کا فائدہ تو کمپنی کو ہوتا ہے۔کروڑوں والی کمپنی اربوں کی مالک بن جاتی ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ سیلز سٹاف کی طرف سے بولے گئے جھوٹ ، دئیے گئے فریب کا آخرت میں جواب کون دے گا؟ کمپنی کا مالک یا سیلز نمائندہ؟ میرا خیال ہے وہاں دونوں کو ہی جواب دینا ہوگا۔کمپنی مالک نے تو دُنیا میں چند روزہ فائدہ اُٹھایا ہو گا مگر سیلز نمائندہ کے لئے یہ گناہ بے لذت ہی ہے۔

سیلز نمائندگان کمپنی کے مفادات کا ضرور خیال رکھیں مگر کمپنی کو ناجائز مالی فائدہ پہنچانے کے لئے لوگوں کو اپنے مکر و فریب سے لوٹنے سے گریز کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں