پارکنگ ٹیکس! ………………….. تحریر، تنویر بیتاب

پنجاب حکومت کی بنائی ہوئی پارکنگ کمپنی تو پارکنگ فیس کے نام پر شہریوں سے لوٹ مار میں مصروف ہے۔آپ جہاں بھی گاڑی یا موٹر سائیکل کھڑی کرنا چاہیں کمپنی کا باوردی کارندہ پارکنگ ٹکٹس کی کاپی پکڑے آ موجود ہوتا ہے۔اس پارکنگ ٹکٹ پر واضح طور پر لکھا ہوتا ہے کہ کمپنی ہذا آپ کی سواری کی چوری یا کسی بھی جزوی نقصان کی زمہ دار نہ ہو گی۔ کمپنی نے آج تک کہیں بھی کوئی پارکنگ پلازہ نہیں بنایا اور نہ ہی محفوظ اور آسان پارکنگ کے لئے کوئی قدم اُٹھایا ہے۔اگر کچھ کیا ہے تو صرف پارکنگ فیس کے نام پر شہریوں کو بے رحمی سے لوٹا ہے۔

تمام ہی سرکاری اور غیر سرکاری اداروں نے بھی اپنے دفاتر کے باہر پارکنگ کے ٹھیکے دے رکھے ہیں ۔ اپنے کسی بھی کام کے لئے کسی بھی سرکاری و غیر سرکاری دفتر جانے والے کو ہر جگہ پارکنگ فیس ادا کرنا ہوتی ہے۔ یوں ہر شہری بلا ناغہ ایک بڑی رقم پارکنگ چارجز کے نام دینے پر مجبور ہیں۔

سرکاری اور غیر سرکاری تمام ہی ہسپتالوں میں مریضوں کے لواحقین اور تیمار داری کے لئے آنے والوں سے موٹر سائیکل اور کار کی پارکنگ فیس وصول کی جاتی ہے۔ ان پارکنگ سٹینڈز کے ٹھیکے دئیے گئے ہیں۔ ٹھیکے دار کے کارندے ایک تو طے شدہ فیس سے زیادہ فیس وصول کرتے ہیں اور دوسرا لواحقین سے بار بار سارا دن یہ فیس وصول کرتے ہیں ۔ لواحقین کو مریض کے ٹیسٹس، ٹیسٹ رپورٹس ، ادویات اور کھانے کے لئے بار بار ہسپتال سے باہر جانا پڑتا ہے۔اُن سے ہر بار پارکنگ فیس پھر سے وصول کی جاتی ہے۔ مریض کے لواحقین پر مریض کے علاج کے آخراجات ہی کم نہیں کہ اُن پر بلا وجہ کا یہ مالی بوجھ بھی ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ شہریوں سے سر ا سر زیادتی ہے۔

کسی بھی پارک یا تفریحی مقام پر بھی پارکنگ فیس پیچھا نہیں چھوڑتی بلکہ وہاں پر فیس کی شرح اور بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اب آپ کسی پارک میں واک کے لئے بھی جائیں تو پارکنگ فیس کو منتظر پائیں گے۔مساجد میں اللہ کی عبادت کے لئے جایا جاتا ہے مگر پارکنگ فیس آپ کو مسجد کے باہر بھی دینا ہو گی۔ ریسٹورنٹ پر آنے والے شہری بھی پارکنگ فیس کی وباء سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔

افسوس ناک امر تو یہ ہے کہ پارکنگ فیس وصول کرنے والا کوئ فرد یا ادارہ آپ کی سواری کی حفاظت کی زمہ داری لینے کو تیار نہیں ۔ کہیں بھی پارکنگ کے لئے سایہ دار جگہ تک نہیں ہے مگر اس کے باوجود شہریوں سے پارکنگ فیس کے نام پر یہ لوٹ کھسوٹ کیوں؟

کیا کوئ بھی صاحب اختیار فرد یا ادارہ اس لوٹ مار کا نوٹس لینا پسند کرے گا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں