زرعی یونیورسٹی کے 543 ایڈہاک اور کنٹریکٹ ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری ، کیا فیصلہ کر لیا؟؟

فیصل آباد(آن لائن)

زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں کی جانب سے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے 543 ایڈہاک اور کنٹریکٹ ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری سنادی، زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں کے فیصلہ پر ملازمین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی،زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ایڈہاک اور کنٹریکٹ ملازمین کو پنجاب ریگولرائزیشن ایکٹ کے تحت مستقل کرنے جبکہ سنٹرفار ایڈوانسڈ سٹڈیزبرائے خوراک و زراعت کی بحالی کا فیصلہ۔

آن لائن کے مطابق یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں کی زیرصدارت 322ویں سنڈیکیٹ کے اجلاس میں تین سال سے زائد عرصہ تک ملازمت کا دورانیہ مکمل کرنے والے وہ تمام ملازمین جو ایڈہاک یا کنٹریکٹ پر تعینات کئے گئے تھے انہیں پنجاب ریگولرائزیشن ایکٹ کے تحت مستقل کرنے کے ساتھ ساتھ سنٹرفار ایڈوانسڈ سٹڈیز برائے خوراک و زراعت (CAS) جسے گزشتہ کچھ عرصہ سے معطل کیا گیا تھا اسے دوبارہ بحال کرتے ہوئے متحرک بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا اور کیس کے ملازمین کی ادا نہ کی جانے والی تنخواہیں بھی جاری کی جائیں گی یاد رہے کہ سابق یونیورسٹی انتظامیہ نے 14سال سے کام کرنے والے ملازمین کو غیر قانونی قرار دے کر ملازمت سے برطرف کیا تھا اور سیاسی طور پر ممبران اسمبلی کو نواز نے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔ آن لائن کے مطابق سابق یونیورسٹی کے وائس چانسلر چوہدری محمد اشرف نے سینکروڑوں ملازمین کو برطرف کرنے کے نوٹس جاری کردے تھے تھے جبکہ ملازمین نے سابق یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے فیصلہ کے خلاف عدالت عالہ سے رجوع کر رکھا تھا جس پر عدالت عالیہ نے حکم امتناعی جاری کردیا تھا –

گذاشتہ سنڈیکیٹ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ پنجاب ریگولرائزیشن ایکٹ کو اختیار کرنے سے جہاں ایک طرف ملازمین کو مستقل کیا جا سکے گا وہاں یونیورسٹی کے وسائل کا بے جا اصراف بھی ختم ہو گا۔ ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ ان کی زیرنگرانی ایک وژن 2030ء تیار کیا گیا تھا جس میں ملکی زراعت اور لائیوسٹاک شعبے کے آئندہ 20سالہ منظرنامے اور پیش بندی کے لئے راستہ متعین کیا گیا تھا اس سفر کو مزید موثر بنانے کے لئے یونیورسٹی بطور تھنک ٹینک اپنا کردار موثر انداز سے ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی زرعی پالیسی کے خدوخال تیار کرنے میں یونیورسٹی نے اہم کردار ادا کیا تھا جسے بھرپور پذیرائی میسر آئی۔ سنڈیکیٹ کے اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی چوہدری علی اختر، پرووائس چانسلر ڈاکٹر آصف تنویر، ڈاکٹر مہرمحمد سعید اختر، ڈاکٹر عطیہ اعوان، ایڈیشنل سیکرٹری پلاننگ ایگریکلچر راؤ عاطف رضا، ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیوسٹاک ڈاکٹر محمد اقبال شاہد، ڈین کلیہ سائنسز ڈاکٹر محمد اصغر باجوہ، پرنسپل آفیسر اسٹیٹ کیئر ڈاکٹر قمربلال، رجسٹرار عمرسعید قادری، ڈاکٹر محمد ارشد،ڈاکٹر سدرہ اعجاز، وصی باجوہ، ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل فنڈ گلفراز احمد، ہائرایجوکیشن کمیشن کے نمائندہ ڈاکٹر محمد اشرف نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں