الیکشن یا ڈھونگ ! ………………… تحریر، اورنگزیب اعوان

دنیا بھر میں عوام کو امور حکومت میں شامل کرنے اور ان کی رائے جانچنے کے لیے الیکشن کروائے جاتے ہیں. اس طریقہ سے عوام اپنی پسند کی ایک سیاسی جماعت کو حکومت سازی اور سیاسی منشور کو نافذ عمل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے. ایک مقرر کردہ مدت کے بعد دیکھا جاتا ہے. کہ اس سیاسی جماعت نے اپنے منشور پر کس حد تک عمل درآمد کیا ہے. اگر تو عوام اس کی کارگردگی سے مطمئن ہوتی ہے. تو اس کو دوبارہ ایک خاص مدت کے لیے اپنے ووٹ کی طاقت سے منتخب کر لیتی ہے. اس فعل کو سر انجام دینے کے لیے انتخابات کروائے جاتے ہیں. مگر ہمارے ملک میں الیکشن کے نام پر ڈھونگ رچایا جاتا ہے. عوام کے حق رائے پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے. عوام اپنا ووٹ کسی اور کو ڈالتی ہے. مگر جیت کوئی اور جاتا ہے.یہ جلعسازی کا سلسلہ قیام پاکستان سے ہی چلا آرہا ہے.

آج تک اس ملک میں جتنے بھی الیکشن ہوئے ہیں. ان میں ہمیشہ ہارنے والی سیاسی جماعتوں کی طرف سے دھاندلی کا شور مچایا گیا ہے. یہ مسئلہ کسی ایک جماعت کا نہیں. آج اگر ایک جماعت اقتدار میں ہے. تو کل اسے اپوزیشن میں ہونا پڑ سکتا ہے. تو کیا ہی اچھا ہو کہ وہ سسٹم میں موجود تمام خرابیوں کی خود سے اصلاح کر دے. لیکن یہ سب کچھ کرنے کے لئے ہمت اور حوصلہ کی ضرورت ہے. کیونکہ جب فرسودہ نظام کو چھیڑا جاتا ہے. تو بہت سی طاقتوں کو یہ عمل پسند نہیں آتا. ماضی میں بھی جس کسی سیاسی جماعت نے اس فرسودہ طریقہ انتخاب کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی کوشش کی. اس کو نشان عبرت بنا دیا گیا ہے. دو تین بار کی منتخب حکومتوں نے آپس میں مل بیٹھ کر باہم مشاورت سے طے کیا. کہ اگر اس ملک میں الیکشن صاف و شفاف کروانے ہے. تو ملکی اداروں کو ان کی آئینی حدود کے اندر رہنے کا پابند بنانا ہوا گا. یہ ان کی طرف سے بہت اچھا اقدام تھا. مگر یہ یک طرفہ اقدام تھا. انہوں نے یہ طے نہیں کیا تھا کہ آیندہ سے کوئی سیاسی جماعت بھی ان ملکی اداروں کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرے گی. اگر یہ فیصلہ بھی کر لیا جاتا تو کیا ہی اچھا ہوتا. ملکی آئین میں تبدیلیوں کی گنجائش بھی ہر دور میں رہی ہے. برطانیہ اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ملکی قوانین میں تبدیلی کی گنجائش رکھی ہوئی ہے. ہمارے حکمرانوں کو بھی ملکی اداروں کے ساتھ مل بیٹھ کر یہ طے کر لینا چاہیے کہ آیندہ سے نہ آپ نے سیاسی معاملات میں دخل اندازی کرنی ہے اور نہ ہی سیاسی قیادت نے آپ کے اختیارات میں مداخلت کرنی ہے.

ملکی قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے یہ قانون بنا دینا چاہیے کہ کسی بھی ملکی ادارے کے سربراہ کی تعیناتی میں سیاسی قیادت کی پسند و ناپسند ہرگز شامل نہیں ہوگی. جو بھی شخص میرٹ پر آئے گا وہ اس ادارے کا سربراہ بن جائے گا. اسی سلسلہ میں ملکی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو حیران کن واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں. ماضی میں جب بھی سیاسی قیادت نے اپنی پسند و ناپسند کو مدنظر رکھتے ہوئے. ملکی اداروں کے سربراہان کی تعیناتی کی ہے. وہ خود انہیں کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہوئے ہیں. شاید یہ سربراہان اس قابل ہی نہیں تھے. کہ ان کو پورے ادارے کی کمان دی جاتی. اس کے برعکس اگر میرٹ کے مطابق آنے والے فرد کو موقع دیا جاتا تو شاید ملکی حالات اس نہج تک نہ پہنچ پاتے. جہاں آج ہیں. رہی سہی کسر ہمارے حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کی غرض سے ان اداروں کے سربراہوں کو ملازمت مدت ختم ہونے کے باوجود تین سال کے لیے مزید ملازمت کرنے کی اجازت نے نکال دی ہے. جس سے جونیئر آفیسر کی حق تلفی ہوتی ہے. جب ہماری اپنی سیاسی قیادت نے ہی ملکی اداروں کے سربراہان کے منہ کو خون لگا دیا ہے. تو انہوں نے تو عوام کا خون چوسنا ہی ہے. اور کیا کرنا ہے. ملکی عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور پارلیمنٹ کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنے فرائض منصبی ادا کرنا ہوگے. سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے بیانیہ نے ووٹ کو عزت دو نے اس بحث کو مزید تقویت بخشی ہے. آج ملک بھر میں ملکی اسٹیبلشمنٹ کی آئینی حدود کے تعین پر بحث ہو رہی ہے. گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج نے ملکی سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا ہے. پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن نے ان انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے. ان کے بقول الیکشن کے رزلٹ میں ردوبدل کرکے پاکستان تحریک انصاف کو سیٹیں جتوائی گئ ہیں.

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلز پارٹی نےچیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا ہوا ہے. اب تو چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی حکومتی وزراء کے ہمراہ ہونے والی میٹنگوں کی تصاویر بھی منظر عام پر آچکی ہیں. چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان نے الیکشن میں ہونے والی بے ضابطگیوں کا خود سے اعتراف کیا ہے. کچھ پولنگ اسٹیشن کے بیلٹ بکس کچرا گنڈی سے ملے ہیں. کچھ انتخابی حلقوں میں دوبارہ گنتی کروائی جا رہی ہے. یہ انتخابی دھاندلی اور بے ضبطگیاں نہیں تو اور کیا ہے.پاکستان میں پائی جانے والی سب برائیوں کا سر چشمہ یہ الیکشن کا ڈھونگ ہے. جو گزشتہ بہتر سالوں سے کھیلا جا رہا ہے. اس میں بہتری کی بجائے حکومتی وزراء و ترجمان اس کا دفاع کر رہے ہیں. گزشتہ روز کراچی میں سرکل ریلوے کا افتتاح کرتے ہوئے. وفاقی وزیر برائے ریلوے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میاں محمد نواز شریف کا بیانیہ عمران خان کو طاقت بخش رہا ہے. میاں محمد نواز شریف جس قدر فوج کے خلاف بیان بازی کرے گے. فوج اس قدر ہی عمران خان کا ساتھ دے گی. آج بھی انہوں نے کہا ہے. کہ فوج عمران خان کے ساتھ ہے. اس سے عوام میں فوج کے بارے میں کیا تاثر جا رہا ہے.جب تین بار کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کہتے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو. تو وہ ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں. کیا ہی اچھا ہو کہ موجودہ حکومت تمام اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ بیٹھا کر ایک میثاق جمہوریت ترتیب دے اور اس میں تمام اداروں کی آئینی حدود کا تعین کر دے.

ان مذاکرات میں افواج پاکستان کو بھی شامل کر لینا چاہیے. کیونکہ اس کی شمولیت کے بغیر ہونے والے تمام مذاکرات بے سود ہو گے. ملکی انتیلی جنس ایجنسیوں کو بہت سے معاملات کا علم ہوتا ہے. جن کے بارے میں حکومت وقت اور اپوزیشن جماعتوں بھی نہیں جانتی ہوتیں . انہوں نے ہی خطہ کی موجودہ سیاسی وعکسری صورتحال کے بارے میں سیاسی قیادت کو بریفنگ دینا ہوتی ہے. ان کے اس کردار کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا. ملک کے تمام ادارے اپنی اپنی جگہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں. مگر اپنی اپنی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے. ووٹ کو عزت دو کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ اس میں کچھ قباحت نہیں. اس نعرہ میں ملکی آئین، اداروں اور عوام کی عزت کا کہا جا رہا ہے. ہم سب پاکستانی بھی تو ملکی آئین، اداروں اور عوام کے حق رائے دہی کو عزت و احترام کی بات کرتے ہیں. یہ عمل ہماری ملکی ترقی کے لئے بھی بے حد ضروری ہے. اس نظریہ یا بیانبہ کی مخالفت محض اس لیے ہو رہی ہے. کہ اسے میاں محمد نواز شریف کی طرف سے پیش کیا جا رہا ہے. اچھی بات کسی کی بھی طرف سے کی جانے اس کو کھولے دل سے تسلیم کرلینا چاہیے. کیونکہ اس میں ملکی ترقی اور خوشحالی کا راز پوشیدہ ہوتا ہے . کسی میں کسی کا ذاتی مفاد نہیں ہوتا . کبھی نہ کبھی تو ہمیں عوامی رائے کو احترام دینا ہی پڑے گا. کب تک بزور طاقت عوام کی زبان بندی کرائی جائے گی. ارباب اختیار سے ہاتھ جوڑ کراپیل ہے. کہ ملک میں شفاف انتخابات کروا کر عوام کو اپنی منشاء کے مطابق اپنی نمائندہ حکومت منتخب کرنے کا موقع فراہم کیا جائے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں