مولانا مجاہد الحسینی رحمۃ اللہ علیہ ………………………. ایک برس بیت گیا!


تحریر:محمد ابوبکر صدرؔ

خالقِ ارض و سماء نے ہمیں موت وحیات کے ایسے نظام میں مصروفِ عمل رکھا ہے۔ جس میں تغیر وتبدل اور اختیار کی مجال نہیں، اس آئینِ فطرت کے سامنے سرِ تسلیم خم کئے۔ ہم اپنی نہایت محبوب اور عزیز از جان ہستیوں کو سپرد خالق ومالک حقیقی کرکے اس کی رجا پر راضی ہوجاتے ہیں۔ رب العالمین کی قدرت کاملہ کے آگے انسان مجبور و بے بس ہے اور پھر ماہ سال کی گردش کی گنتی شروع ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ 17دسمبر2020کو والدگرامی قدر مولانا مجاہد الحسینی رحمۃ اللہ تعالیٰ کو اس دار فانی سے رخصت ہوئے ایک برس بیت گیا۔ اب نہ وہ ’پررونق محافل ہین اور نہ ہی دوست احباب کی ضیافتیں وظرافتیں‘، بس مہکتی یادوں سے اعزاء واقارب ان کے ساتھ اپنے روابط وتعلقات کو یاد کرکے نذرانہ عقیدت ومحبت پیش کرتے ہیں۔

میں بھی یادوں کے دریچے کو وا کئے یاس وامید میں گزرنے والے ان دردناک لمحات کے کرب کی شدت کو محسوس کرکے ورطہ تحریر میں لانے کی کوشش کررہا ہوں۔ دسمبر کی سرد رات کے وہ جاں گزیں لمحات جو والد محترم کی رفاقت میں آخری لمحات ثابت ہوئے۔ تاریک رات کا آخری پہر، وقت جیسے تھم سا گیا ہو، ہر طرف خاموشی کا راج، والد گرامی کی مضمحل طبیعت اور ہم دست بستہ ان کے بیڈ کے گرد بے بس ولاچار اپنے تئیں کوشاں، شاید کوئی دوا ان کے لئے شفاء بن جائے۔

والد محترم ؒ بظاہر آخری دم تک بقائم ہوش وحواس ہمت ہارتے نظر نہ آتے تھے۔ مگر وہ وقتِ معین جب کسی ذی روح کو دنیائے فانی سے رخصت ہونا ہوپورا ہوچکا تھا۔

اچانک خرابی طبیعت نے انہیں ایسی راہ کی طرف گامزن کردیا جہاں سے واپسی کی کوئی شاہراہ نہیں۔ جہاں معاملہ انسانی فہم وفراست سے بالا تر ہوجائے۔ سانس کی ڈور آہستہ آہستہ ٹوٹنے لگی اور والد محترم نے نہایت اطمینان وسکون سے آنکھین موند لیں، اناللہ واناالیہ راجعون۔ جنازے میں ہرمکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ جن میں علمائے دین، مفکرین ومبلغین، خطباء و ادباء،طالبان علم اور کاروباری حضرات شامل تھے۔ جن کے آنسوؤں سے تر چہرے میری نظروں سے کبھی معدوم نہ ہوں گے۔
مظہر وہ کیا مقام ہے دلکش جہاں سے پھر
لوٹے نہ جتنے دوست ہمارے چلے گئے

کاروان حیات اسی طرح رواں دواں ہے، ایک برس بیت گیا ہم شفقت پدری سے محروم ہوگئے۔ خزینہ ادعیہ کی پرتاثیر آواز خاموش ہوگئی۔ عشق الٰہی کے درنایاب دامن میں سمیٹے اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل پیرا ہوکر شاندار مثالی زندگی گزارنے والی شخصیت منظر ہستی سے اس جہان چلی گئی جہاں جلیل القدر، جرأت وعزیمت کی پیکر، علم وحکمت کے سرچشمے، دینی ودنیاوی علوم سے شناسا ہستیاں منوں مٹی تلے مدفون ہیں۔ ان کے چاہنے والوں کی طرف سے تعزیت کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ دینی مدارس کے احباب ودیگر عقیدت مندان ایصال ثواب کے لئے باقاعدگی سے قرآن خوانی اور کلمات طیبات کے اوراد کاسلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔بیرون ممالک میں مقیم دوست اقارب بذریعہ موبائل وٹیلی فون آخری دیدار سے محرومی پر اظہار افسوس کرتے رہے۔ صبح کی سیر کے رفقاء اکثر نہ صرف ان کی کمی کی شدت محسوس کرتے بلکہ ان کے لئے دعائے مغفرت اور قبر پر حاضری ان کا معمول ہے۔ میں ان سب کا تہہ دل سے مشکور وممنون ہوں۔ جزاکم اللہ خیر الجزاء۔ (آمین)

والد محترم ؒ ہمہ جہت وہمہ صفت شخصیت کے حامل تھے، پرکشش، سادہ مزاج، دنیاوی رعنائی ودلکشی سے بے نیاز عبادت گزار انسان تھے، نہ کوئی لالچ نہ کسی عہدہ کی تمنا، فروغ دین تبلیغ واشاعت کی انجام دہی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ ان کی زندگی مشکلات ومصائب اور جہد مسلسل سے عبارت تھی۔ تحقیق وجستجو، تصنیف وتالیف، زندگی کا بڑا حصہ صحافتی خدمات میں بسر ہوا۔

کتب سیرت میں اول صدارتی ایوارڈ یافتہ کتاب ’سیرت وسفارت رسولﷺ‘ اور ’رسول اللہ ﷺ کا نظام امن عالم‘ شامل ہیں۔ دیگر کتب میں رسول اللہﷺ کا نظام خدمت خلق، علمائے دیوبند، معاشیات قرآن، مشاہیر کی تقریریں، آخری جیل کے آخری قیدی، تحریک ختم نبوت 1953ء، مولانا ابوالکلام آزاد پر مرزا قادیانی کے جنازے میں شرکت کے بہتان کی حقیقت، ارض الاسلام(سفر نامہ)، خطبات امیر شریعت، شاہ ولی اللہ کے دیس میں (سفرنامہ)، تعلیم القرآن(باتصویر ورنگین)، سیرت النبی ﷺ(چارٹ)، مسئلہ امامت، تاریخ اوقاف اسلامی اور خدمت حج، حج وعمرہ اور سات سورتیں شامل ہیں۔ جبکہ سفرنامے، متنوع موضوعات پر مبنی مقالہ جات، نشری تقاریر، علم وحکمت پر کالم نگاری اور بے شمار اداروں اور تنظیموں کی طرف سے دئیے گئے ایوارڈز ان کا سرمایہ حیات ہے۔
بہت دشوار ہے بکھرے خیالات کوالفاظ کی ترتیب وتنظیم میں منضبط کرنا، بہرحال اس تذکرے سے ان سے وابستہ یادوں کو مہکانا اور دینی وادبی خدمات پر روشنی ڈالنا مقصود ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، ان کی قبر کو اپنے نور سے منور فرمائے، ورثاء کو صبر جمیل اور اپنی خاص رحمتوں اور نعمتوں سے سرفراز فرمائے اور ان کے مقصد حیات کی تکمیل میں ہمیں بھی مقبول حصہ ڈالنے کی توفیق عطاء فرمائے تاکہ تشنگان علم وادب اس سرچشمہ سے پیاس بجھاتے رہیں اور عاشقان رسول ﷺ سیرت النبی ﷺ پر ان کی تحقیق وجستجو سے فیضیاب ہوتے رہیں۔ (آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں