پروفیسر ڈاکٹرمحمد جاوید اقبال صدیقی کی زندگی….. تحریر، ریاض احمد قادری

پروفیسر ڈاکٹرمحمد جاوید اقبال صدیقی ہیڈ آف ذولو آجی ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ پو سٹ گریجو ایٹ کالج سمن آباد فیصل آباد ۳۱ دسمبر ۲۰۲۰ کو اپنی مدت ملازمت پوری ہونے پر ریٹا ئر ہو گئے۔

00

آپ نے ایک بھرپور زندگی گزاری۔ حرکت و تعمل اور سرگرمیوں سے بھرپور زندگی جس پرر شک کیا جاسکتا ہے ۔ آپ کی زندگی گرم دمِ جستجو نرم دمِ گفتگو کی عملی تصویر ہے آپ نے بقول اقبال ؒ ایک جسور و غیور و تنومد ، مردِ مومن اور اقبالؒ کے شاہین کی طرح زندگی گزاری ۔آپ نے اپنی سروس کے دوران بے شمار سرکاری اور سماجی ذمہ داریاں نبھائیں۔ طلبہ و اساتذہ اور والدین تینوں طبقات میں انتہائی مقبول اور ہر دلعزیز رہے۔ان جیسے مثالی استاد روز روز پیدا نہیں ہوتے ۔ جنہوں نے جس شعبہ میں بھی کام کیا اپنا حق ادا کردیا۔

پروفیسر ڈاکٹرمحمد جاوید اقبال صدیقی جناب سید محمد یوسف گیلانی ؒ کے ہاں یکم جنوری ۱۹۶۱ کو جڑانوالہ فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد واپڈا میں ایس ایس او ( ون )انچارج گرڈ سٹیشن تھے۔آپ اپنے چار بھائیوں اور ایک بہن میں دوسرے نمبر پر ہیں۔آپ کے بڑے بھائی سید محمد ظفر اقبال گیلانی بطور ڈائیریکٹر آپریشن واپڈا سے ریٹائر ہوئے ہیں۔چھوٹے بھائی سید محمد محمود اقبال گیلانی لاہور گرامر سکول میں وائس پرنسپل ہیں۔سب سے چھوٹے بھائی سید محمدمقصود اقبال گیلانی مصطفائی کالج سرگودھا روڈ فیصل آباد میں ڈائیریکٹر ہیں۔اکلوتی بہن حافظہ قرآن ہیں اوران کے میاں سید محمد اکرم گیلانی سینئر سبجیکٹ سپیشلسٹ ہیں

پروفیسر ڈاکٹرمحمد جاوید اقبال صدیقی نے میٹرک ۱۹۷۶ میں گورنمنٹ ہائی سکول واربرٹن سے کیا۔ اسی دوران ضلع شیخوپورہ میں آپ ڈسٹرکٹ کے والی بال چیمپئین رہے ۔ ایف ایس سی ۱۹۷۸ میں گورنمنٹ اسلامیہ کالج فیصل آباد سے کی بی ایس سی ۱۹۸۲ میں گورنمنٹ کالج فیصل آباد سے کی۔۱۹۸۶ میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے ایم ایس سی ذوآلوجی کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۸۸ میں گورنمنت کالج آف ایجو کیشن فیصل آباد سے بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی۔۱۹۹۰ میں ایم فل اور ۲۰۰۵ میں پی ایچ ڈی ذوآلوجی کی ڈگریاں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے حاصل کیں۔

آپ نے ۲۶ دسمبر ۱۹۸۷ کو گورنمنٹ صادق آباد ڈگری کالج ڈیرہ نواب بہاولپور میں بطور لیکچرر ذوآلوجی اپنی سرکاری ملازمت کا آغاز کیا۔یہاں ایک سال سروس کی اور ۱۹۸۸ میں گورنمنٹ کالج شورکوٹ سٹی آگئے۔اڑھائی سال یہاں گزارنے کے بعد آپ کا تبادلہ ۱۹۹۰ میں گورنمنٹ کالج جڑانوالہ ہو گیا ۔یہاں ساڑھے چار سال گزارے اور ۱۹۹۵ میں گورنمنٹ کالج سمن آباد فیصل آباد آگئے۔ ۲۰۰۶ میں آپآپ کو بطور اسسٹنٹ پروفیسر ترقی ملی اور آپ نے گورنمنٹ کالج تاندلیانوالہ جائن کیا جہاں آپ نے بطورپرنسپل اڑھائی سال تک بہترین خدمات سرانجام دیں اورکالج کے کئی دیرینہ مسائل حل کروائے جن میں کالج مسجد اور کالج ہال شامل ہیں ۔آپ نے کالج میں کالج کے قیام کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کر نے والے شہدائے کرام کی تصاویر بھی لگوائیں اور ان کی قربانیوں کے اعتراف میں کالج میگزین ’’ تاندلہ زار ‘‘ کاایک نایاب نمبر شہدائے کالج نمبر بھی شائع کروایا۲۰۰۸ میں گورنمنٹ اسلامیہ کالج فیصل آباد آگئے۔ ۔۲۰۱۱ میں ڈائیریکٹ ایسوسی ایٹ پروفیسر سیلیکٹ ہو ئے تو گورنمنٹ پوسٹ گریجو ایٹ کالج سمن آباد فیصل آباد میں جائن کیا۔ہیڈ آف ذوآلوجی کے ساتھ ساتھ کنٹرولر امتحانات اور ٹائم ٹیبل انچارج بھی بنے۔

۳ جون ۲۰۲۰
کو گریڈ بیس میں ترقی پاکر بطور پروفیسر آف ذوآلوجی اپنے کالج ہی میں جائن کیا اس وقت آپ کو ڈائیریکٹر کوالٹی اینہانسمنٹ سیل ( کیو ای سی ) کی ذمہ داری بھی سونپی گئی جسے آپ نے انتہائی خوبی سے نبھایا۔آپ کے زیرنگرانی ایم فل اور پی ایچ ڈی کے بے شمار مقالہ جات مکمل ہوئے ۔ آپ کے بے شمار ریسرچ آرٹیکلز بین الاقوامی ریسرچ جرنلز میں شائع ہو چکے ہیں ۔ آپ نے بہت سی ملکی اور انٹر نیشنل ذو آلوجی کانفرنسوں میں شرکت بھی کی ہے ۔ آپ پیپر سیٹر اور ہیڈ ایگزامنر کے فرائض بھی ادا کر چکے ہیں ۔آپ کی کئی ایک نصابی کتب بھی شائع ہو چکی ہیں آپ اعلیٰ پائے کے ادیب ، شاندار نثر نگار اور عمدہ مضمون نگار بھی ہیں ۔کالج میں بے شمار ذوآلوجی سائنسی کانفرنس اور نمائشیں منعقد ہوئیں۔
سٹڈی ٹورز لگائے گئے ذوآلوجی سوسائٹی کے زیر اہتمام کئی فعال پروگرام ہوئے۔آپ نمے اساتذہ مسائل کے لئے ہمیشہ کوششیں کیں۔کالج پی پی ایل اے کے جنرل سیکرٹری بھی رہے ۔ اس دور میں پروفیسر محمود احمد انور کا انتخابات کی ڈیوٹی پر ایک جج صاحب کے ساتھ مسئلہ پیدا ہوگیا۔ جسے آپ نے شبانہ روز کو ششوں کے بعد حل کروایا۔ بطور کنٹرولر امتحانات آپ نے اساتذہ کو ڈیوٹیوں اور پیپر مارکنگ کا معاوضہ کی جنگ لڑی اوع عدالتوں تک بھی گئے اور با لآخر کامیاب ہوئے ۔ آپ ایک مقبول ترین استاد کے طور پر بھی ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

آپ کی شادی ۵ فروری ۱۹۹۳ کو ہوئی ۔۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو بیٹیاں اور دو بیٹے عطا کئے بڑی بیٹی نے ایم فل نفسیات چھوٹی بیٹی نے بی ایس ریاضی، بڑے بیٹے محمد حسن مصطفائی نے ایم فل فزکس، اور چھوٹے بیٹے محمد سبطین مصطفائی نے ڈی پی ایس فیصل آباد سے میٹرک کیا ہے

۱۹۷۶ میں آپ نے محمد افتخار احمد ساغرؔمرحوم کی دعوت پر انجمن طلبہ اسلام جائن کی ۔ جس سے اس وقت بھی روحانی تعلق ہے۔ آپ اکیلے اے ٹی آئی میں نہیں آئے آپ کے ساتھ آپ کے تمام بھائی اور والد صاحب بھی عشقِ رسولﷺ کی اس عالمگیر تحریک میں شامل ہو گئے۔ ۱۹۹۰ میں مصطفائی تحریک کی بنیاد رکھی اور اس کے مرکزی سیکرٹری جنرل بنے۔ انجمن اساتذہ پاکستان کے ضلع فیصل آباد کے جنرل سیکرٹری رہے نوائے اساتذہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے نائب صدر ہیں ۔

آپ ریٹائرمنٹ کے بعد وائلڈ لائف فارم کھولنا چاہتے ہیں۔ دعا ہے اسی طرح خوش و خرم رہیں اور مستقبل میں اللہ تعالیٰ مزید کامیابیوں سے نوازے آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں