اے مسلماں تو تو مسجود ملائک تھا کبھی! …………………. تحریر، شفقت اللہ مشتاق

فرقہ واریت کے پے در پے واروں سے اس وقت امت محمدی مکمل طور پر نڈھال ہوچکی ہے اور جملہ حکیموں، طبیبوں اور ڈاکٹروں کی اصلاح کی ساری تدبیریں خاک میں مل چکی ہیں حالانکہ اس قوم کے پاس نسخہ کیمیا بھی ہے اور خاک شفا بھی۔ ویسے تو اس قوم کے سب افراد ان دونوں چیزوں کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ ہیں لیکن شاید ان کو ان کے استعمال کا شعوری احساس نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سب ہوا میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں بلکہ اب مایوسی کا شکار ہو کر مکھیاں مار رہے ہیں افسوس ہم مرنے مارنے پر تل گئے ہیں غیروں نے تو اپنے آپ کو سائنسی اور علمی لحاظ سے مکمل طور پر مسلح کرلیا ہے اور اب ہمارا ان کی طرف دیکھنا ہماری اپنی موت ہے لہذا ہم نے اپنوں کو ہی مارنا شروع کردیا ہے۔ ہم خود ہی قاتل ہیں خود ہی مقتول۔ خود ہی شہید ہیں اور خود ہی دشمن بلکہ خود ہی کافر ہیں اور خود ہی مسلمان۔ روم و فارس کو فتح کرنے والے مسلمان آج اپنی حفاظت کے لئے ہنود و یہود کی طرف دیکھ رہے ہیں اور اس قوم کو شیطان اور شیطان کے چیلے چانٹے اس حالت میں دیکھ کر فتح کے شادیانے بجا رہے ہیں
اے مسلماں تو تو مسجود ملائک تھا کبھی
پھر یہ شیطاں کی غلامی کیوں تری تقدیر ہے

یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے پاس قرآن و احادیث کی صورت میں ایک نایاب علمی خزانہ موجود تھا جس کی تشریح و توضیح کا کام انہیں سر انجام دینا تھا اور یہ اپنی نوعیت کا ایک انتہائی اہم اور مشکل کام تھا۔ قرآن مجید میں محکمات و متشابہات آیات اور ناسخ و منسوخ آیات کے امور انتہائی حساس نوعیت کے حامل تھے اور احادیث کی روایت و درایت اور پھر تدوین بھی کوئی آسان کام نہ تھا۔ بہرحال ان کاموں کو محدثین،فقہاء کرام اور مفسرین نے اپنی اپنی استعداد اور نیک نیتی سے سرانجام دیا بلکہ آج تک دیا جا رہا ہے۔ تاہم جیسے مذکورہ سطور میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ کام اتنا بھی آسان نہیں تھا قرآن و احادیث کا علم ایک بحر بے کراں ہے اور اس کی تشریح و توضیح میں اختلاف رائے ایک فطری امر ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اسلام میں اختلاف رائے کی پوری گنجائش ہے۔ یہ اختلاف تو صحابہ کبار کے درمیان بھی مختلف امور میں پایا جاتا تھا اور یہ سلسلہ تابعین اور تبع تابعین کے علاوہ محدثین اور فقہاء کرام میں بھی پایا جاتا تھا۔ سلطنت عباسیہ کے دور میں مدینہ اور کوفہ میں فقہ پر بڑا کام ہو رہا تھا۔ مدینہ میں امام جعفر صادق رح اور امام مالک رح جیسی سر بر آوردہ شخصیات موجود تھیں اور کوفہ میں امام ابو حنیفہ اور ان کے شاگرد امام محمد اور امام ابو یوسف جیسے فقہاء نے اپنے مخصوص طرز استدلال سے تحقیقی کام کیا۔

مزے کی بات ہے کہ ان کے درمیان مکالمہ کی بڑی مضبوط روایت تھی۔ بحث و تمحیص سے روز مرہ پیش آمدہ مسائل کی گتھیوں کو سلجھایا جاتا تھا۔ ایک ایسا وقت بھی آیا جب امام ابو حنیفہ رح مدینہ تشریف لائے اور تاریخ کتب اس بات کی گواہ ہیں کہ امام جعفر صادق رح،امام مالک رح اور امام ابو حنیفہ رح کے مابین مختلف علمی بحثیں ہوتی تھیں لیکن لڑائی جھگڑے یا مخاصمت کا ماحول کبھی کسی نے نقل نہیں کیا ہے۔ بلکہ یہ ایک روایت ہے کہ ایک دفعہ امام ابو حنیفہ رح اپنے مقلدین کے ہمراہ امام مالک رح کے پاس تشریف لے گئے۔ جس پر امام مالک رح نے اپنے متعلقین کو ہدایت کی کہ امام ابو حنیفہ رح رفع یدین نہیں کرتے لہذا آج آپ حضرات دوران نماز رفع یدین نہ کریں ورنہ مہمانوں کی دل آزاری ہو گی۔ بعینہ امام ابو حنیفہ رح نے جانے سے پہلے اپنے رفقاء کرام کو ہدایت کی کہ وہ آج اس لئے رفع یدین کریں گے کہ امام مالک رح رفع یدین کرتے ہیں بصورت دیگر ان کی دل آزاری ہوگی ۔ اس طرح دوران ملاقات جو رفع یدین کرتے تھے وہ نہیں کررہے تھے اور جو نہیں کرتے تھے وہ کر رہے تھے۔ یوں دل آزاری سے بچنے کے لئے اتنے جید فقہاء نے وہ عمل وقتی طور پر ترک کردیا جس پر آج مناظرے ہو رہے ہیں بلکہ گالی گلوچ اور قتل و غارت تک نوبت آجاتی ہے۔ یہ تو بھلا ہو غیر مسلموں کا جنہوں نے تادیبی کاروائی زیر دفعہ 107/151ضابطہ فوجداری بنا دیا ہے اور مسلمانوں کو پابند ضمانت کیا جاتا ہے۔ مختصرا یہ بھی وضاحت ضروری ہے کہ سنی اور اہل تشیع اماموں میں علمی لحاظ سے اختلاف رائے پایا جاتا تھا۔ بلکہ سلسلہ ہائے تصوف کے بزرگان دین کے درمیان بھی مختلف امور میں اختلاف پایا جاتا تھی اور یہی وجہ ہے کہ سلسلہ چشتیہ ،قادریہ، سہروردیہ،نقشبندیہ، صابریہ، نظامیہ وغیرہ معرض وجود میں آئے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جملہ صوفیاء سید عبدالقادر جیلانی غوث اعظم رح کو روحانیت کے لحاظ سے سید الاولیاء تسلیم کرتے ہیں اور آپ فقہی طور پر امام احمد بن حنبل کے طور طریقہ سے وابستہ رہے۔ حالانکہ آپ سے روحانی فیض پانے والوں میں سب سے زیادہ شاید حنفی ہوں

مذکورہ صورتحال بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ واضح کیا جا سکے کہ مسلمانوں میں اختلاف رائے کوئی خلاف شرح فعل نہیں ہے۔ دل آزاری کی اس مذہب میں کسی طرح بھی گنجائش نہیں ہے اور اس سے ہر صورت میں بچنا ہوتا ہے خواہ اس کے لئے بے شک فقہی طریقہ کار میں بھی سردست تبدیلی کرنا پڑے۔ روز مرہ آمدہ مسائل کی روشنی میں اجتہاد بہت ضروری ہے اور اس کے لئے امام محمد اور ابو یوسف کے درمیان اختلاف رائے کی گنجائش ہے۔ ہمارا اصل منشور قرآن پاک ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اسوہ حسنہ اور ان کی تعلیمات کی روشنی میں اجماع اور اجتہاد ہمارا طریقہ کار ہے۔ بدقسمتی سے اجتہاد کا دروازہ تو اب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کردیا گیا ہے اور جن فقہاء نے وقتا فوقتا اجتہاد کیا تھا ان کی تعلیمات کو جواز بنا کر فرقے بنا لئے گئے اور اجماع کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ فرقہ بندی بن گئی۔ دراصل فقہاء کرام نے محنت اور ریاضت سے تحقیق کی اور یہ تحقیق جو کہ آئندہ آنے والی نسل کے لئے ایک سپیڈ ورک کی حیثیت رکھتی تھی اور اسی کی روشنی میں قوم میں اتفاق رائے پیدا ہونا تھا۔ جس کا ادراک بعد میں آنے والے مسلمانوں کو نہ ہوا اور وہ شیعہ، سنی، اہلحدیث، بریلوی، دیوبندی اور نہ جانے کیا کیا فرقوں میں بٹ گئے۔ مولوی حضرات کو شروع شروع میں لاوڈ سپیکر میں شیطان دکھائی دیا اور پھر وہ خود اس شیطانی فعل کا شکار ہو گئے۔ جس کے ہاتھ سپیکر آیا اس نےمخالف فرقہ کا تیا پانچہ کردیا اور یوں بات یہود و ہنود سے نکل کر دیو بندی بریلوی اور شیعہ سنی تک پہنچ گئی۔ اس نا گفتہ بہ صورتحال پر سپیکر میں بولنے والے شیطان نے جلتی پر تیل کام کیا اور ہمارے اتحاد اور اتفاق کا کام تمام ہوگیا۔ آج ہمارے پاس غیروں کو دوش دینے کے سوا کچھ نہیں بچا اور بدقسمتی سے آئندہ کا لائحہ عمل بذریعہ سوشل میڈیا عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے اور اس لائحہ عمل کا منشور کفر کے فتوے ہیں اور وہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف۔

کاش آج بھی عصر حاضر کے علماء ومشائخ عظام بلکہ امت مسلمہ کے سارے پڑھے لکھے لوگ قوم کو فرقہ واریت کے بارہ میں بتائیں اور وہ یہ بتائیں کہ اللہ نے قرآن مجید میں واضح طور پر فرقہ بندی سے منع کیا ہے۔ فقہاء کرام کا منشا و مقصود تحقیق تھی نہ کہ فرقوں کی بنیاد رکھنا تھا۔اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان اتفاق اور اتحاد چاہتے ہیں اور اخوت ہمارے مذہب کی عمارت کی بنیاد ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور اب آخرت تک ہم نے پوری دنیا کو ہدایت کا پیغام دینا ہے اور وہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم اجتہاد اور اجماع سے اپنے آپ کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالیں۔ مسلکی اختلاف کو اختلاف رائے سمجھتے ہوئے علمی بحث تمحیص تک محدود رکھیں۔ فرقہ بندی کو ہوا دینے کے لئے نعرے نہ لگائیں بلکہ الحادی قوتوں کے خلاف مسلم قوم میں جذبہ پیدا کرنے کے لئے نعروں کا استعمال کیا جائے۔ قرآن فہمی کا شعور پیدا کیا جائے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کے جذبات پیدا کئے جائیں تاکہ لوگ اسلامی تعلیمات پر پوری طرح کار بند ہوسکیں۔ آخر پر قارئین کرام کے لئے عرض ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں دیکھا ہے کہ فرقے کے معاملہ میں بہت زیادہ سنجیدہ نہیں ہونا چاہیئے ہر فرقے میں بڑے بڑے نیک لوگ بھی میں نے دیکھے ہیں اور بڑے بڑے شر پسند بھی۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلکی تعلیمات کی کوئی حیثیت نہیں ہاں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات جو کہ عبادات و معاملات سے متعلق ہیں ان کی ہی ضرورت ہے اور جملہ محدثین، مفسرین، فقہاء کرام، اولیاء عظام اور علماء کرام نے دین اسلام کی ترویج و اشاعت کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اب ہم ان کے وارث ہیں اور ہم نے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق دین متین کی تشریح و توضیح کرنی ہے اور وہ بھی دنیا والوں کی راہ نمائی کے لئے نہ کہ فرقہ بندی کو ہوا دینے کے لئے۔
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں