ہوائی فائرنگ کیوں ؟؟؟ ………………….. تحریر، تنویر بیتاب

شادی بیاہ اور خوشی کی دیگر تقریبات کے موقع پر ہوائی فائرنگ کرنے کا رجحان دن بہ دن بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں تقریبات میں شامل افراد زخمی بھی ہوتے ہیں اور موت سے ہمکنار بھی۔علاقے میں ہوائی فائرنگ سے خوب شور مچتا ہے ، خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوتی ہے ۔ چھوٹے بچے خوف کے مارے ماؤں سے لپٹ جاتے ہیں ۔طالب علم اس شور میں پڑھ نہیں سکتے ، مریض سو نہیں سکتے ، بزرگ آرام نہیں کر سکتے۔مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کے اس ہوائی فائرنگ کا فائدہ کیا ہے؟ اگر کسی دوست کو معلوم ہو تو وہ مُجھے بھی بتائیں ۔

ایک عرصہ تک تو یہ سمجھا جاتا رہا کہ ہوائی فائرنگ کی وجہ تعلیم کی کمی ہے مگر اب وکلاء اور ڈاکٹرز جیسے پڑھے لکھے لوگوں نے بھی اپنی تقریبات میں اندھا دُھند ہوائی فائرنگ کر کے اس سوچ غلط ثابت کر دیا ہے۔ہوائی فائرنگ پڑھے لکھے اور ان پڑھ دونوں طبقات کرتے ہیں ۔کیا ہوائی فائرنگ کرنے کو جہالت کہا جا سکتا ہے؟ اور ہوائی فائرنگ کرنے اور کروانے والے تمام ہی افراد کو جاہل؟ کوئی بھی عقل مند اور باشعور فرد ہوائ فائرنگ کو اچھا نہیں سمجھتا۔تمام ہی تقریبات میں صاحب عقل و شعور ہوائی فائرنگ کے عمل کی مذمت کرتے پائے جاتے ہیں مگر باوجوہ وہ اس قبیح فعل کو روک نہیں پاتے۔ہوائی فائرنگ کرنا قانونا بی منع ہے۔

پولیس کا یہ فرض ہے کہ وہ تقریبات میں ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کرے مگر وہ ایسا کرنے سے قاصر رہتی ہے جس کی وجہ پولیس میں کرپشن کے ساتھ سیاسی مداخلت بھی ہے۔دیکھا یہ گیا ہے کہ ہوائی فائرنگ کرنے کروانے عموما با رسوخ لوگ ہوتے ہیں جن میں وکلاء، صحافی،اعلی افسران اور سیاست دان خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔خوشی کی تقریبات کو غم کے مواقع میں بدلنے والے اس جان لیوا ہوائی فائرنگ کے عمل کو ہر قیمت پر روکا جانا چاہئیے۔ہوائی فائرنگ کے شوقین افراد کو بھی اپنے اس عمل پر غور ضرور کرنا چاہئیے۔صاحب عقل و دانش لوگوں کا فرض ہے کہ وہ ہوائی فائرنگ کرنے والوں کو اس بُرے فعل سے روکیں۔پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی چاہئیے کہ وہ تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف بلا امتیازقانونی کاروائی کریں تاکہ بے گناہ شہریوں کی زندگیوں اور جان و مال کو محفوظ بنایا جاسکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں