انقلاب روس اور ڈاکٹر مصدق حسین ! ……………………. تحریر، شفقت اللہ مشتاق

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جہاں بھی ذہنی اضطراب اور زود رنج طبیعیت کے لوگ ہوں گے وہاں معاشرے کے تلخ پہلووں کو زبان دی جائیگی اور پھر پرزور انداز سے بات کی جائیگی بلکہ بات یہیں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ جدوجہد کی شکل اختیار کر جائیگی اور اس جدوجہد کی کوئی بھی شکل ہو سکتی ہے۔

تحریر و تقریر، جلسہ جلوس، قید و بند صعوبتیں، جلاو گھیراو، توڑپھوڑ،دھماکے شماکے، پارٹی بازیاں،طیارے اغواء وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس جدوجہد کا بنیادی مقصد انسانیت کو اس کا اصل مقام دلانا ہوتا ہے۔ کوئی بھوکا پیاسا نہ سوئے۔ کسی غریب کے بچے پر تعلیم کے دروازے بند نہ کئے جائیں۔ کوئی مزدور چلچلاتی دھوپ میں کام کرتے کرتے ہلکان نہ ہو جائے اور سرمایہ داراپنی تجوریاں بھر کر آنے والی نسلوں کا مستقبل تاریک نہ بنا سکیں۔ کسان سارا سارا دن اس لئے محنت نہ کرے کہ جاگیردارون کے بچے اور کتے ریشم کے بستروں پر محو استراحت ہوں اور یہ کہ گوشت پوست کے بنے ہوئے انسانوں کو ان کے ہم جنس غلامی کے کنگن نہ پہنائیں تاکہ ان کے اقتدار کا بول بالا نہ ہو۔ بنیادی طور پر یہی وہ سوچ ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے اور وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے سوچ کی پختگی ہر شخص کو کامیابی کے دروازے پر لا کھڑا کرتی ہے اور ایک دفعہ کامیابی کا دروازہ اس پر ضرور کھلتا ہے۔ اگر احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے تو پھر تو کامیابی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ لوگ انسان کی پرواز پر انگشت بدندان رہ جاتے ہیں بہرحال یہ راستہ پرخار ہے شاید پھول کو پانے کے لئے کانٹوں سے پالا پڑنا فطری امر ہے۔ بات عملی جدوجہد کی ہورہی تھی اور انقلاب لانے کے لئے جدوجہد کے علاوہ کوئی راستہ نہیں آو نعرہ لگاتے ہیں انقلاب انقلاب۔ پھر کیا۔ جہد مسلسل

ویسے تو تاریخ انقلاب کی داستانوں سے بھی بھری پڑی ہےاور انقلاب کا لفظ اتنا عام ہو چکا ہے کہ اب ہر شخص اس لفظ سے ضرور واقف ہے ہاں اس کے معانی و مفہوم جاننا ہر کسی کے شاید بس کی بات نہیں ہے۔ میں نے انقلاب فرانس کے بارے میں زمانہ طالب علمی میں پڑھا اس لحاظ سے مجھے مذکورہ انقلاب کی وجوہات اور اثرات کا بخوبی علم ہے۔ اور مجھے یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ آج کے یورپ کی ساری ترقی اسی کی بدولت ہے۔ اتنی بڑی تبدیلی سے ساری استحصالی قوتوں کا خاتمہ. پوپ فارغ، جاگیردارانہ سوچ کا قلع قمع، مزدور کے حقوق کی پاسداری اور قانون کا بول بالا۔ خیر ایک دفعہ تو انقلاب آیا اور یورپ میں تو استحصال کا خاتمہ ہوا لیکن ساری دنیا کیا انقلاب فرانس سے سبق سیکھے گی شاید انقلاب فرانس کی بازگشت ساری دنیا میں سنائی دے گی اور ساری انقلابی قوتیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر کے مخالف قوتوں کے خلاف کھڑی ہو جائینگی اور یہ سیل رواں ہر چیز کو بہا لے جائیگا لیکن اتحاد ہی تو مسئلہ ہے ابتدائی مراحل پر ہی اقتدار کا ذہنی فتور اور دنیا پر فوری حکمرانی قائم کرنے کا دماغی خلفشار انقلاب کے خواب کو چکنا چور کر دیتا ہے اور پھر بیچاری انسانیت پریشانیوں اور مصیبتوں سے چور چور ہو جاتی ہے ہاں البتہ غریبوں کا لیڈر تبدیل۔ یوں تبدیلی تو آگئی ایک نہ ایک دن غریب کی حالت بھی بدل جائیگی-

ڈاکٹر مصدق حسین وہ ماہر تعلیم ہے جس کی گفتگو میں میں نے ہمیشہ غریب کا درد محسوس کیا ہے۔ جو آج بھی انقلاب کے لئے پر امید ہے۔ وہ اپنے نظریات کسی پر مسلط نہیں کرتا بلکہ اپنے خیالات بڑے ہی پیار اور محبت سے لوگوں کے سامنے پیش کرکے دعوت فکر دیتا ہے۔ میری ان سے فیصل آباد میں بڑی ملاقاتیں رہیں وہ انقلاب روس کی بات کرتے ہیں اور میں اسلامی انقلاب کو دنیا کے لئے قابل عمل اور لائق فخر سمجھتا ہوں۔ ہماری گفتگو میں ایک قدر مشترک تھی اور وہ تھی استحصالی قوتوں کا خاتمہ۔ ابھی چند دن پہلے ڈاکٹر مصدق حسین نے مجھے اپنی کتاب بھیجی جس کا عنوان ہے انقلاب روس۔ کافی دنوں سے میں سوچ رہا تھا کہ مذکورہ انقلاب کی وجوہات اور پھر اس کی ناکامی کی وجوہات معلوم کی جائیں۔ مذکورہ کتاب دیکھ کر خوشی ہوئی کہ اس کا مصنف ایک نظریاتی شخص ہے۔ وہ روسی انقلاب کے بارے میں ابھی تک پر امید ہے۔

کتاب کے کل 14 ابواب ہیں جن میں انقلاب روس کا تاریخی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے جملہ خدوخال تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں استعماریت کے خلاف انقلابی سوچ کب بیدار ہوتی ہے اس کا بھی تفصیل سے اظہار کیا گیا ہے۔ مارکسی نظریات کا مکمل طور پر جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ پہلو بھی نمایاں کیا گیا ہے کہ کس طرح معاشرہ سرمایہ دارانہ اور مزدور طبقات میں تقسیم ہو جاتا ہے کماتا کوئ اور ہے اور کھاتا کوئی اور ہے۔ ملیں ریشم کے ڈھیر بنتی ہیں اور دختران وطن تار تار کو ترستی ہیں۔ سرمایہ چند ہاتھوں تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ وسائل کی اس غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف جب انقلابی قوتیں اکٹھی ہوتی ہیں تو انقلاب روس آجاتاہے۔ ایک دفعہ تو تخت گرائے جاتے ہیں اور خلق خدا راج کرنے لگتی ہے۔ پھر انقلابی قوتیں آپس میں دست و گریباں ہو جاتی ہیں شاید سرمایہ دار پھر نئی چال چلتا ہے اور لینن,تروتسکی اور سٹالن انقلاب روس کے آنگن میں اپنا اپنا بول بالا کرنے کے خواب دیکھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ لینن بڑی حکمت اور دانائی سے دیگر انقلابیوں کو ساتھ ملا کر جدوجہد کرتا ہے اور اسی جدوجہد کا نتیجہ مزکورہ انقلاب کی صورت میں نکلتا ہے۔ لیکن بہت جلد لینن٫سٹالن اور تروتسکی کی نظریاتی اور سیاسی کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔

تروتسکی پہلے وزیر خارجہ اور پھر وزیر دفاع بن کر پوری دنیا میں بزور طاقت انقلاب لانے کا خواب دیکھتا ہے۔ سارے خواب پورے نہیں ہوتے بلکہ زیادہ خواب دیوانے کے خواب ہی ہوتے ہیں شاید اس کا ادراک لینن کو بخوبی تھا اور اسی لئے لینن نے جولائی 1918 میں منعقد ہونے والی کانگریس میں اپنی ایک اہم تقریر میں کہا کہ ہاں ہم بین الاقوامی انقلاب کو وجود میں آتا دیکھیں گے لیکن یہ ابھی تک یہ ایک اچھا بہت ہی اچھا مفروضہ یا بچوں کی تصوراتی کہانی ہے۔ میں اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ بچے خوبصورت تصو راتی کہانیوں کو پسند کرتے ہیں مگر میں پوچھتا ہوں کہ سنجیدہ انقلابیوں کو تصوراتی کہانیوں پر یقین کرنا زیب دیتا ہے۔ لینن کی اس تنقید نے تروتسکی کے بین الاقوامی انقلاب کے خواب کو چکنا چور کردیا۔ تروتسکی کی سرخ فوج، اس کی بنائی گئی اک ٹرین اور جبرو استبداد نے انقلابی قوتوں کے آمنے سامنے لا کھڑا کیا اور یوں لینن، تروتسکی اور سٹالن نے ایک دوسرے کو دھوبی پٹکا مارنا شروع کردیا اور لینن کی موت سے تروتسکی کے عزائم استعماریت کی شکل اختیار کر گئے اور یوں تروتسکی سٹالن سے رسوا ہوکر جلا وطن ہوا اور پھر انقلاب روس کا ایک اہم انقلابی انقلاب دشمن،بین الاقوامی جاسوس اور قاتل کا اعزاز لئے قبر میں اتر گیا اور سٹالن لینن کا جانشین بن کر محنت کش قوتوں کا نمائندہ بن گیا۔ پھر سرد جنگ کے جھونکے اور سرمایہ دار اور محنت کش طبقات کی کشمکش اور پھر اسی کشمکش میں افغان جہاد اور امریکی فوجوں کا افغانستان میں آنا اور جانا۔ اسی کشمکش میں روس ٹوٹ گیا۔ امریکہ فاتح بن کر تن تنہا سپر پاور بن گیا۔ مصنف کے خیالات بڑے واضح ہیں وہ اس تبدیلی سے مایوس نہیں ہوتا اور وہ اسے محنت کش قوتوں کی شکست نہیں سمجھتا ہاں ریاست متحدہ روس کی ناکامی ضرور قرار دیتا ہے جس کی وجہ ریاست کے حکمرانوں کی انقلابی مقاصد سے روگردانی ہے۔ ان ساری باتوں کے باوجود انقلاب روس کتاب کا مصنف آج بھی پرامید ہے کہ استحصالی طبقات کا خاتمہ ہر صورت میں ہو گا اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقات ایک دفعہ پھر متحد ہونگے اور پھر ٹوٹ گریں گی زنجیریں۔ یقیننا حوصلے اور ہمت سے انسان کو اس کا کھویا ہوا مقام دلایا جا سکتا ہے لیکن اس کے لئے نظریاتی قوتوں کو اپنے آب کو استحصال سے پاک کرکے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں