“ ویلنٹائن ڈے “ ………………… تحریر ، تنویر بیتاب

میں کسی ہسپتال کے بیڈ پر لیٹا تھا ۔ مجھے آکسیجن لگی ہوئی تھی ۔ میں ہوش میں تو آچکا تھا مگر میری ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ میں آنکھیں کھول کر کمرے میں موجود لوگوں کا سامنا کر سکوں ۔ مجھے پتہ تھا کہ میرے پاس اُن کے سوالوں کا کوئ جواب نہیں تھا۔ میں اور لبنی اب سے کچھ دیر پہلے ٹریفک کے حادثے میں زخمی ہو گئے ۔

لبنی سے میری واقفیت فیس بک پر کوئ سال قبل ہوئی تھی۔ وہ مقامی یونیورسٹی سے ایم ایس کر رہی تھی ۔ میں ایک بنک میں ملازم تھا ۔ فیس بک کی چیٹنگ سے بات واٹس اپ پر رابطوں تک جا پہنچی ۔ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی تصاویر شئیر کیں ۔ پھر رومانوی گفتگو کے لئے ان باکس کا سہارا لیا گیا ۔ تعلقات مزید بڑھے تو ٹیلی فون کال پر رات رات بھر باتیں ہونے لگیں تھیں ۔ بے قراری زیادہ بڑھتی تو ہم لوگ ایک دوسرے کو ویڈیو کال بھی کر لیتے تھے ۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو شادی کے لئے چن لیا تھا ۔ ہم اب تک کبھی بھی ایک دوسرے سے ملے نہ تھے لیکن ہم دونوں کی یہ خواہش تھی کہ ہم آپس میں بلمشافہ ملیں لیکن دونوں ہی ڈرتے تھے کہ اگر کسی نے دیکھ لیا تو افسانہ بن جائے گا ۔ ہم دونوں ہی اپنے اپنے گھر والوں کی نظروں سے گر جائیں گے ۔

کچھ دن قبل لبنی نے ہی یہ تجویز دی تھی کہ چند روز بعد آنے والے ویلنٹائن ڈے پر ہم لوگ آپس میں ملیں ۔ میں نے اس تجویز میں یہ اضافہ کیا تھا کہ ہم لوگ شہر کے اندر ملنے کا خطرہ مول لینے کی بجائے گاڑی پر لانگ ڈرائیو پر نکل جائیں ۔ آج صبح۔ طے شدہ مقام پر لبنی عین مقررہ وقت پر پہنچ گئ تھی جبکہ میں تو اُس سے بھی پہلے مقررہ جگہ پر اپنی گاڑی میں موجود تھا۔ لبنی نے سرخ رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا۔میں نے بھی موقع کی مناسبت سے سرخ ٹائی لگائی ہوئی تھی اور سر پر سرخ رنگ کی ہی پی کیپ پہنی ہوئی تھی۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی لبنی نے مجھ سے ہاتھ ملایا تھا اور میں نے بھی اُسے گرم جوشی سے خوش آمدید کہا تھا۔ اب ہماری گاڑی کا رخ شہر کے پاس سے گزرنے والے دریا کی طرف تھا ۔ ہم لوگ ویلنٹائن ڈے منانے کے لئے دریا کے کنارے جا رہے تھے جہاں پر دوپہر کا کھانا ہم نے اکٹھے کھانا تھا۔ ہم لوگ باہم باتوں میں گم اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھے ۔ گاڑی کی رفتار بھی تیس کلو میٹر فی گھنٹہ سے زیادہ نہ تھی ۔ اچانک ہی گاڑی فضا میں اچھلی اور قلابازیاں کھاتی ہوئ سڑک کے کنارے پر اُلٹ گئ ۔ پیچھے سے آنے والے ٹرک نے گاڑی کو ٹکر مار دی تھی۔ لبنی بے ہوش ہو چکی تھی مگر میں ہوش میں تھا ۔ کچھ ہی دیر بعد ریسکیو 1122کی گاڑی آن پہنچی ۔ ہم دونوں کو اس گاڑی میں ڈال کر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا ۔ میں بھی راستے میں ہی بے ہوش ہو گیا تھا ۔ اب میں ہوش میں تو آگیا ہوں مگر آنکھیں موندے لیٹا ہوں ۔ آنکھیں کھولنے کے بعد مجھے یہ بتانا پڑے گا کہ لبنی کون ہے؟ میرا اُس سے کیا تعلق ہے؟ ہم دونوں کہاں جا رہے ؟ کیوں جا رہے تھے ؟

لبنی کو بھی اپنے گھر والوں کو ایسے ہی سوالوں کے جوابات دینا ہوں گے ۔ اُف ! ہم نے تو کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ اللہ جب کسی کے پردے کھولتا ہے تو پھر ایسا بھی ہو جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں