انسانی منڈی ! …………… تحریر ، اورنگزیب اعوان

زمانہ قدیم میں انسانوں کی باقاعدہ منڈیاں سجائی جاتیں تھیں. جن میں انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح خریدوفروخت کیا جاتا تھا .معاشرتی ترقی اور انسان شعور نے اس فرسودہ رسم کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے ناپید کر کے رکھ دیا ہے. اب تو مہذب دنیا کا ہر ملک شخصی آزادی کو انسان کا بنیادی حق تصور کرتے ہوئے. اس کو اپنے ملکی دستور میں لازمی شامل کرتا ہے. مگر یہ جان کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے. کہ کراہ ارض پر آج بھی ایک ایسا خطہ وقوع پذیر ہے. جہاں انسانوں کی خریدوفروخت کا مکروہ دھندہ پوری آب وتاب سے جاری و ساری ہے. انسان یہ جان کر مزید حیرت کدہ میں مبتلا ہو جاتا ہے. کہ یہاں انسان خود کو خوشی خوشی فروخت کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں –

اس خطہ ارض کا نام ملک پاکستان ہے. یہاں ہر خاص و عام فروخت ہونے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے. بس انہیں خریدنے کے لیے موزوں خریدار ہونا چاہیے. ایوان بالا سینٹ کے الیکشن قریب آتے ہی ضمیر فروشی کا شور ہر طرف برپا ہو گیا ہے. ضمیر فروشی کے سدباب کے سلسلہ میں حکومت وقت کی جانب سے گزشتہ دنوں ارکان صوبائی اسمبلی کی رقم وصول کرتے ہوئے وڈیو بھی منظر عام پر لائی گئ ہے. مگر ہماری قوم اس قدر ضمیر فروش ہو چکی ہے. کہ اس پر ایسی چیزوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا. جو لوگ اس وڈیو میں رقم لیتے دیکھائی دے رہے ہیں. وہ بجائے شرمندہ ہونے کے بڑی ہی ڈھٹائی سے ٹی وی چینلز پر آکر بیان بازی کر رہے ہیں. کہ ہمیں تو فلاں نے کہا تھا کہ رقم لے لوں. اور ہم نے فلاں جگہ پر رقم لی تھی. اگر ان کی معصومیت اور لاعلمی کو مان لیا جائے. تو ان سے کوئی پوچھے کہ کیا یہ لوگ کسی کے کہنے پر اپنی جان دے سکتے ہیں. ہرگز نہیں. اصل میں انسانی خریدوفروخت ہمارے معاشرے میں اس قدر سرایت کر چکی ہے. کہ لوگ اس کو اچھائی سمجھ کر اپناتے جا رہے ہیں. ہر شعبہ زندگی اس ناسور سے متاثر نظر آتا ہے. سرکاری ملازمت کے لیے لوگ بھاری بھر کم رقم بطور رشوت دے کر بھرتی ہوتے ہیں. پھر یہی لوگ دوران ملازمت رشوت لینا اپنا فرض منصبی تصور کرتے ہیں.

اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کی وڈیو بھی منظر عام پر آچکی ہیں. کہ وہ کس طرح سے فون اور واٹس ایپ کالز کے ذریعہ سے اپنے فیصلہ جات کو تبدیل کر دیتے ہیں. اسی طرح سے سیاسی جماعتیں الیکشن کے موقع پر امیدواروں سے پارٹی فنڈ کے نام پر کروڑوں روپے وصول کرتی ہیں. امیدوار پہلے ٹکٹ کے حصول کے لیے کروڑوں روپیہ پارٹی کو بطور فنڈ دیتا ہے. پھر الیکشن جیتنے کے لیے عوام کے ووٹ کو خریدتا ہے. عوام کی اکثریت بھی پیسے لیکر اپنا ووٹ ڈالتی ہے. جب یہ امیدوار کامیاب ہو کر قومی یا صوبائی اسمبلی میں پہنچ جاتا ہے. تو یہ اپنی رقم وصول کرنے کے لیے سینٹ الیکشن اور ترقیاتی منصوبوں کی مد میں ملنے والی رقم سے خرد برد کرتا ہے. وزیراعظم عمران خان اگر آپ واقعہ ہی اس ناسور کا قلع قمع کرنا چاہتے ہیں. تو آپ کو نچلی سطح پر اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنا ہو گے. ایسا مربوط نظام نافذ عمل کرنا ہو گا. جس کی بدولت کسی بھی سطح پر اس ناپسندیدہ فعل کی حوصلہ افزائی نہ ہو سکے. سرکاری ملازمت کے لیے رشوت اور سفارشی کلچر کو ختم کرنا ہو گا. عدلیہ اور فوج کے سربراہان کی تعیناتی خالصتا میرٹ کی بنیاد پر کی جانی چاہیے اس میں ذاتی پسند و ناپسند کا عنصر کارفرما نہیں ہونا چاہیے. اسی طرح سے تمام سیاسی پارٹیوں کو الیکشن کے موقع پر پارٹی کے مخلص اور دیرینہ ورکرز کو ٹکٹ دینے چاہیے. قطعاً اس بات کے. کہ ان کی مالی حیثیت کیا ہے. جب سیاسی پارٹیاں مالدار لوگوں کو پارٹی ٹکٹ دیتی ہیں. تو وہ سیاست کو کاروبار سمجھ کر سرمایہ کاری کرتے ہیں . اور الیکشن جیتنے کی صورت میں وہ سود سمیت اپنے سرمایہ کو وصول کرنا چاہتے ہیں.

وزیراعظم پاکستان کو تمام سیاسی جماعتوں اور دیگر شعبہ زندگی کے ماہرین کی مشاورت سے اس لعنت کے سدباب کے لیے سنجیدہ قانون سازی کرنا ہو گی. محض ایک شعبہ سے ضمیر فروشی کا خاتمہ کرنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا. آج آپ سینٹ الیکشن قریب آتے ہی سینٹ الیکشن کے طریقہ کار میں تبدیلی کے لیے فکر مند نظر آتے ہیں. شاید آپ بھول جاتے ہیں. کہ جب لوگ اپنی دولت کے بل بوتے پر جیت کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچتے ہیں. تو ان سے اچھے کی امید نہیں رکھی جاسکتی. یہ تمام سرمایہ دار یا ان کے سہولت کار لوگ ہوتے ہیں. جہنوں نے اپنی خرچ کی گئی رقم کو سود سمیت وصول کرنا ہوتا ہے. آج عوام موجودہ حکومت سے مہنگائی کا شکوہ کرتی نظر آتی ہے. تو اسے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا. جب الیکشن کے وقت یہی غریب لوگ جو آج مہنگائی کا رونا روتے ہیں. اپنے ووٹ کو چند پیسوں کی خاطر فروخت کرتے ہیں. اس وقت انہیں محض پانچ یا دس ہزار روپیہ ملتا نظر آتا ہے. اس وقت انہیں اپنی کھال اترتی نظر نہیں آتی. جب یہ سرمایہ دار الیکشن جیت کر اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں. تو یہ اپنا اور اپنی سرمایہ دار برادری کا خیال کرتے ہیں. انہیں غریب عوام کی مشکلات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا. اس سرمایہ دار مافیا کو کنڑول کرنا پارٹی سربراہ کے بس میں بھی نہیں رہتا.سرکاری ملازمین بھی سڑکوں پر حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں. کہ ہماری تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے. کوئی ان سے پوچھے کہ اگر آپ لوگ حکومت سے تنخواہ لیتے ہو تو پھر عوام سے جائز کام کرنے کی رشوت کیوں طلب کرتے ہو. تمھاری ماہانہ تنخواہ تو بینک اکاؤنٹ میں پڑی رہتی ہیں. آپ لوگ تو روز عوام سے رشوت کی مد میں ہزاروں رویپہ وصول کرتے ہو. پھر کس منہ سے حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہو. پاکستانی معاشرہ ہی ضمیر فروشوں کا ہے. یہاں ہر کوئی دوسرے سے شکوہ کرتا نظر آتا ہے. مگر اپنے ذاتی فعل پر نظر نہیں ڈالتا. مہنگائی، بے روزگاری، غربت سب ہماری اپنی پیدا کردہ مشکلات ہیں. اگر ہم خود کو ٹھیک کر لیں تو سب کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے. حکومت کے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہوتی کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر دیں. حکومت اور اس کے اراکین بھی ہمارے ہی معاشرہ کا حصہ ہیں. اگر ہم لوگ بحیثیت معاشرہ خود کو بہتر نہیں کرسکتے تو پھر حکومت سے بھی کسی قسم کا شکوہ کرنا ہرگز جائز نہیں. پہلے ہمیں خود کو اور اپنے ضمیر کو فروخت کرنے سے توبہ کرنا ہوگی. پھر ہی معاشرہ کی بہتری کی بات ہمارے منہ سے اچھی لگے گی. ملک پاکستان میں تمام برائیوں کی اصل جڑ محض چند ٹکوں کی خاطر ضمیر فروشی ہے. جس دن عوام نے اس لعنت پر کنٹرول کر لیا اسی دن اس ملک کی تمام مشکلات خود بخود حل ہو جائے گی. ہمارا قومی المیہ ہے کہ ہم خود کو درست کرنے کی بجائے. تمام ملبہ دوسروں پر ڈال دیتے ہیں. آئے مل کر عہد کریں کہ ہم بحیثیت قوم ملک پاکستان کو ترقی کے سفر پر گامزن کرنے کے لیے اس ضمیر فروشی کے ناسور کو ہمیشہ کے نست و نابود کر کے رکھ دے گے.
چراغوں کی لو خود بجھائی گئ ہے.
ہواؤں پہ تہمت لگائی گئی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں