پنجاب کے دو اضلاع کا طائرانہ سفر! …………………… تحریر، شفقت اللہ مشتاق

(کالم نگار: ایڈیشنل سیکرٹری (پریزن) ہوم ڈیپارٹمنٹ ہیں)

اونٹ صحرائی جانور ہے اور ماضی میں ذرائع آمد و رفت کا سب سے مؤثر اور ایک بڑا ذریعہ رہا ہے۔ اونٹ ویسے سوزو گداز کا استعارہ بھی سمجھا جاتا تھا کیونکہ ڈھول (یار، سجن، بیلی) اس پر سوار ہوکر پردیس چلا جاتا تھا اور اس کے جانے سے ڈھول کے محبوب کا سارا سکون غارت ہو جاتا تھا۔ ویسے یہ ساری باتیں میں نے سنی ہیں اور کتابوں میں پڑھی بھی ہیں ورنہ میرا محبوب مجسم حالت میں مجھے کبھی نظر نہیں آیا اور نہ ہی میں نے اس کو اونٹ پر چڑھتے دیکھا ہے۔ میں نے پہلی دفعہ پانچ سات اونٹوں کو ایک قطار میں چلتے اس وقت دیکھا جب وہ ہمارے گاؤں میں داخل ہو رہے تھے اور ان کے پاؤں میں باندھے گھنگھرو چھن چھن بج رہے تھے اور ان پر رنگ برنگے کپڑے ہوا میں لہرا رہے تھے۔ اس سارے منظر کو دیکھ کر پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ قافلہ لوگوں سے ایک درگاہ کے لنگر کے لئے نذرانے وصول کرتا ہوا ڈیرہ غازی خان پہنچ جائے گا۔ میں نے یوں پہلی دفعہ سخی سرور اور ڈیرہ غازی خان کا نام سنا تھا۔ بس اتنا ہی سنا تھا یاپھر ملازمت کے دوران کسی افسر نے اپنے کسی خود سر ماتحت کو سیدھا کرنا ہوتا تھا تو ٹرانسفر کی دھمکی دے کر اس کو ڈیرہ غازی خان کے نام سے ڈرایا جاتا تھا۔ مجھے تو خیر کسی نے کبھی نہیں ڈرایا البتہ ایک رات تقریبا گیارہ بجے میرے ایک افسر نے میری پہلے کارکردگی کی اے سی آر لکھی یعنی تعریف کی اور پھر کہیں اور اچھی جگہ تبادلے کا عندیہ دیا اور پھر ڈیرہ غازی خان کا نام سنتے ہی میری رات دن میں بدل گئی اور مجھے دن میں ہی تارے نظر آنے لگے زبان گنگ ہو گئی اور یوں لگتا ہے کہ میں زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔ جواب نہ پا کر افسر موصوف سمجھے کہ میں سو گیا ہوں اور ان کے یہ دریافت کرنے پر کہ سوگئے ہو میں نے عرض کی میں تو جاگ رہا ہوں البتہ میری قسمت سو گئی ہے۔ یہ پس منظر بیان کرنے کا مقصد ہے کہ مجھ جیسے تاریخ جغرافیہ سے ناواقف طالب علموں کا مزکورہ شہر کا نام سن کر کتنا برا حال ہوتا تھا۔ ویسے حال کے لفظ کو خواجہ غلام فرید نے کچھ یوں استعمال کرکے امر کردیا ہے

کِیہ حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نہ ملدا

یہ ایک حقیقت ہے کہ فاصلے بڑھنے سے رابطے کم ہو جاتے ہیں اور رابطے کم ہونے سے بات کے بتنگڑ بن جاتے ہیں تعلق کی صورتحال یکسر بدل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سڑک کو ترقی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں موٹر ویز نے فاصلے نہ صرف کم کئے ہیں بلکہ ختم کردئیے ہیں۔چند دن قبل میں بسلسلہ سرکاری ڈیوٹی لاہور سے نکلا اور اگلے چند ہی گھنٹوں میں ملتان باہروباہر ڈیرہ غازی خان ڈاٹ چوک پہنچ کر چونک گیا کہ یہ شہر تو پاکستان کے سنگم پر واقع ہے۔ ڈاٹ چوک کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں ڈاٹ ہے اور ڈاٹ ماضی کے فن تعمیر کا ایک خوبصورت انداز تھا۔ اس چوک سے ایک سڑک بذریعہ راجن پور کشمور سندھ، دوسری بذریعہ فورٹ منرو بلوچستان، تیسری بذریعہ ملتان سنٹرل پنجاب اور چوتھی بذریعہ تونسہ شریف خیبر پختونخوا ہ کو جاتی ہے۔ کیا خوبصورت بات ہے ابھی تو اور بھی بڑے پہلو ہیں یہاں میدانی علاقے بھی ہیں اور کوہ سلیمان کے وسیع پہاڑ بھی ہیں۔ یہاں جس سے بھی ملاقات ہوئی اس نے وضعداری کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ سائیں کا لفظ اتنا کثرت سے بولا جاتا ہے کہ عام آدمی بھی اپنے آپ کو معتبر سمجھنے لگتا ہے۔ سرائیکی زبان کی اپنی مٹھاس ہے جو ہر مخاطب کو پورے زور شور سے اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اور یوں دلوں کے فاصلے جھٹ میں ختم ہو جاتے ہیں ہاں اگر کوئی انا کے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے تو پھر یہ قبیلے کے لوگ ہیں اور قبائل کے اپنے رسم و رواج ہوتے ہیں۔بڑی مدت بعد میں نے دستار کو اصل حالت میں لوگوں کے سروں پر دیکھا۔ سر اور دستار لازم و ملزوم ہیں سر اور دستار دونوں کو اونچا رکھنا یہاں کے لوگوں کے خمیر میں شامل ہے۔ اس پر بعض اوقات لڑائیاں بھی ہوتی ہیں جو کئی کئی سال چلتی ہیں۔ کسی دور میں اصولوں کی پاسداری کے لئے سروں کودار پر بھی رکھ دیا جاتا تھا۔ جان تو چلی جاتی تھی لیکن بات رہ جاتی تھی درحقیقت بات کا رہنا ضروری ہے جان تو پھر جان ہے ایک دن جانی ہے۔ مختصرا ان لوگوں کے کچھ اصول ہیں اور اصولوں پر جان دینا ان کا شعار ہے۔

ڈیرہ غازی خان، سخی سرور، راجن پور، جام پور، فاضل پور، ماڑی اور کئی جگہیں دیکھیں۔ ڈی جی خان سیمنٹ فیکٹری دیکھی اس فیکٹری سے متصل آٹھ کلومیٹر کنویئر لائن دیکھی جو پہاڑوں سے خام مال لاتی ہے اور یہ فیکٹری دھڑا دھڑ سیمنٹ بنا کر پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کررہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کی حفاظت کو یقینی بنا رہے ہیں۔ گندم، کپاس، گنا اور دیگر فصلات بھی یہاں کی دھرتی پیدا کررہی ہے۔ معدنیات سے بھی یہ خطہ لبریز ہے اور او جی ڈی سی کی ٹیمیں یہاں ڈرلنگ میں مصروف ہیں۔ راجن پور سے دو گھنٹے کے سفر پر ایک جگہ جس کو ماڑی کہتے ہیں یہ بلوچستان کے راستے میں واقع ہے۔ بنیادی طور پریہ راستہ ایک ٹریڈ روٹ ہے ماڑی بڑی بلندی پر واقع ہے۔ جس پر شاید توجہ دی جاتی تو یہ پاکستان کا ایک خوبصورت پکنک سپاٹ ہوتا۔”خیر دیر آید درست آید“۔ موجودہ وزیر اعلی پنجاب جناب عثمان احمد خان بزدار نے مذکورہ سڑک کو نئے سرے سے بنانے کے احکام جاری کئے ہیں۔ یہاں ایک بارڈر ملٹری پولیس کا تھانہ جس کی عمارت بہت پرانی ہو چکی ہے اس عمارت کو بھی نئے سرے سے تعمیر کرنے کے احکام جاری کئے گئے ہیں۔ مزید برآں اس علاقہ کو ڈویلپ کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔ سیاحت سے انسان کی شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے اور اس کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔ میرا آج کا کالم اس بات کا بیّن ثبوت ہے۔ امن و امان اور جرائم کی بیخ کنی کے لئے مزکورہ ادارے کام کر رہے ہیں اور ان کی ہیئت بڑی دلچسپ ہے۔ چونکہ ان کا دائرہ اختیار قبائلی علاقوں تک محدود ہے اس لئے اس کے افسران اور سوار(سپاہی) انہیں قبیلوں سے بھرتی کئے جاتے ہیں۔ ان کو قبائل کے کلچر (ثقافت) سے آگاہی تو ہوتی ہی ہے وہ ایک دوسرے کے مزاج آشنا بھی ہوتے ہیں اور آشنائی ہی ”منہ ملاحظہ” کا باعث بنتی ہے۔ یعنی لوگ ایک دوسرے کا حیا کرتے ہیں ان اداروں کے سربراہ سول سروس سے ہیں جو کہ سرکار اور قبائل میں رابطے کا ذریعہ ہیں اور کمانڈنگ افسر کے فرائض بھی ادا کرتے ہیں۔ ان ادارہ جات کی تنظیم نو کے سلسلے میں اقدامات کرنا بھی موجودہ وزیر اعلی پنجاب کا اعزاز ہے۔ اقتدار آنے جانے والی چیز ہے اور یہ کسی کی میراث بھی نہیں ہوتی لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ فاروق احمد خان لغاری، بلخ شیر مزاری اور عثمان احمد خان بزدار جن کا اس دھرتی سے تعلق ہے سیاست کی دنیا میں وضع قطع کے لوگ ہیں۔ یقینا وضع قطع سے ہی لوگ پہچانے جاتے ہیں۔ کاش سیاست کے آٹے کو وضعداری کے پانی سے گوندھا جائے تو حکومت کی روٹی کچی نہیں رہے گی۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے پہاڑی علاقہ کے اکثر لوگوں کے نام بڑے بڑے رقبے ہیں لیکن اکثر و بیشتر بنجر ہیں اور یہاں کا پانی کڑوا ہے۔ البتہ قبائلی علاقہ سے لوگ مڈل ایسٹ چلے گئے ہیں۔ موٹر سائیکل ہر آدمی کے پاس ہے اور ان علاقوں میں جرائم بھی زیادہ تر موٹر سائیکل اور بھیڑ بکریاں چوری کے ہیں۔ میدانی علاقہ جات میں اب ہل جل نظر آرہی ہے۔ کہیں کاشتکاری ہورہی ہے۔ کہیں دکانیں بن رہی ہیں اور کہیں کہیں فیکٹریاں لگنی شروع ہو گئی ہیں۔ ترقی کی ہوا چل گئی ہے لیکن ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں ترقیاتی منصوبوں سے ترقی کا عمل مزید تیز ہوگا۔ انشاء اللہ

بنیادی طور پر یہ بھی صوفیا کی دھرتی ہے اور یوں صوفیا کرام کے ذکر کے بغیر میں سمجھتا ہوں بات مکمل نہیں ہوگی۔ ویسے تو یہاں بے شمار بزرگ مدفون ہونگے لیکن تین صوفیاء ڈیرہ غازی خان ڈویژن کی پہچان ہیں۔ ان میں خواجہ سخی سرور جن کو غیر مسلموں نے شہید کردیا تھا اور شہید کو مردہ مت کہو وہ تو زندہ ہوتا ہے البتہ تمہیں شعور نہیں یوں اس شہید بزرگ کا فیض آج بھی جاری و ساری ہے۔ دوسرے خواجہ سلیمان تونسوی ہیں جن کا مزار تونسہ شریف میں ہے۔ یہ سلسلہ چشتیہ کے وہ بزرگ ہیں جن کے فیض کی بدولت سیال شریف، گولڑہ شریف اور بھیرہ شریف جیسی بے شمار درگاہیں معرض وجود میں آئیں۔ اور تیسرے خواجہ غلام فرید ہیں جن کا مزار کوٹ مٹھن میں ہے۔ صوفی شاعر ہیں۔پنجاب کے صوفی شعرا کا سلسلہ بابا فرید سے شروع ہوتا ہوا خواجہ غلام فرید پر آکر اپنی معراج کو پہنچتا ہے۔ شاعری سوزو گداز کے بغیر بے کیف ہوتی ہے اور خواجہ غلام فرید کے کلام میں سوز و گداز کا ایک منفرد رنگ ہے یہی رنگ ان کو دیگر پنجابی اور سرائیکی شاعروں سے ممتاز کرتا ہے۔ قوالی برصغیر پاک و ہند میں بہت مقبول ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ قوالی کا ذوق رکھنے والے لوگ خواجہ غلام فرید ؒکا کلام نہ سنیں۔ یہ کلام پیار اور محبت کا کلام ہے جو لہجے میں مٹھاس پیدا کرتا ہے اور کانوں میں رس گھولتا ہے۔ دو دن مسلسل میں ڈیرہ غازی خان علاقہ کو آنکھیں کھول کر دیکھتا رہا اور بالآخر کوٹ مٹھن پہنچ گیا اور پھر میرے آنے کا مقصد پورا ہوگیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں