ماضی میں بجلی کے معاہدے مہنگے، 1.95 روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت کیوں بڑھائی؟ عمرایوب

فیصل آباد ، کامرس ڈیسک

وفاقی وزیر توانائی (پاور ڈویژن) عمر ایوب خان نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کے دور میں کئے گئے مہنگی بجلی کے معاہدوں کے باعث حکومت کو اربوں روپے کے مالی بوجھ کا سامناکرنا پڑ رہا ہے کیونکہ معاہدوں کے مطابق آئی پی پیز بجلی پیدا کریں یا نہ کریں انہیں رقوم کی ادائیگی لازمی کرنا ضروری ہے جبکہ ملک میں 70فیصد بجلی درآمدی تیل کے باعث انتہائی مہنگی بن رہی ہے مگر قابل تجدید توانائی کے تحت ہم 6روپے 50پیسے یونٹ بجلی دے رہے ہیں جو ماضی میں 24روپے یونٹ تھی اسی طرح کورونا وباکے دوران عوام کو 650ارب روپے کی رعائت دی گئی نیز ملکی معیشت کی ترقی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے جس کیلئے تربیت یافتہ لیبر انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ ہنر مند افرادی قوت ہو گی تو صنعت و معیشت کی ترقی میں مدد مل سکے گی۔ جمعرات کے روز ایم تھری انڈسٹریل سٹی ساہیانوالہ فیصل آباد میں 132کے وی اے گرڈ اسٹیشن اور ون ونڈو سروس سنٹرز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان کا ویژن ہے کہ پاکستان ترقی کرے اور لوگوں کو باعزت روز گار ملنے سمیت ملک میں قانون کی حکمرانی اور امن کا بول بالا ہو کیونکہ یہی ریاست مدینہ کی اصل روح ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے نبیؐ بھی تجارت کرتے تھے لہٰذا ہم بھی ایڈ کی بجائے ٹریڈ کو ترجیح دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں ہماری ایک سٹر یٹجک لوکیشن ضرور ہے لیکن بزنس کے حوالے سے وہی ممالک پسند کئے جاتے ہیں جہاں سرمایہ کار کو بجلی،گیس سمیت تمام سہولیات میسر آئیں نیز وہاں بیرونی سرمایہ کار بھی بھاگ بھاگ کر جاتے ہیں اسلئے اگر ہمیں ترقی کرنی ہے تو دولت پیدا کرنے والے مواقع مہیا کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ ہم پیپلز پارٹی کی حکومت کو اکثر برا کہتے ہیں لیکن زرداری 2ماہ کا زر مبادلہ چھوڑ کر گئے مگر پچھلی حکومت صرف 2ہفتوں کا زر مبادلہ چھوڑ کر رخصت ہوئی۔انہوں نے کہاکہ وہ پارلیمنٹ اور میڈیا پر جن بارودی سرنگوں کی بات کر تے ہیں وہ ساری پچھلی حکومت کے چھوڑے ہوئے مسائل ہیں۔

انہوں نے کہاکہ 2013 میں لازمی ادائیگی کی مد میں ہمیں 185ارب روپے دینا تھے ا ور2018میں 650 ارب روپے جبکہ 2020میں 860ارب روپے ان کے معاہدوں کی وجہ سے پاکستان کو ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ وہ رقم ہے جو یہ کمپنیاں بجلی پیدا کریں یا نہ کریں ان کو لازمی ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکو مت کی شفافیت یہی ہے کہ ہم سستی بجلی دے رہے ہیں حالانکہ سورج پہلے مہنگا نہیں تھا اور اب سستابھی نہیں ہو گیا۔انہوں نے کہاکہ بجلی کی تقسیم کے نظام پر پہلے بھی ایک خطیر رقم خرچ کی ہے اور اب بھی 75ارب روپے خرچ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ کورونا کی وجہ سے بجلی کی مد میں وزیر اعظم نے 650ارب روپے عوام کو رعائت دی۔انہوں نے کہاکہ 1.95روپے یونٹ کا اضافہ حکومت نے انتہائی مجبوری میں دیا۔ انہوں نے کہاکہ پچھلی حکومت ہمیں بجلی کا ایک انتہائی فرسودہ نظام دے کر گئی ہے جس میں بہتری کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں
۔انہوں نے کہاکہ فیصل آباد انڈسٹری کے حوالے سے پورے بر اعظم ایشیامیں ترقی کرنے والا شہر ہے۔انہوں نے کہاکہ چین کی ترقی کا راز تربیت یافتہ لیبر میں ہے اور انہیں بتایاگیا ہے کہ پچھلے دنوں گورنر پنجاب نے ایک ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کا افتتاح بھی کیا ہے جس سے تربیت یافتہ لیبر کے حصول میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہاکہ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ لیبر کو تربیت کے مواقع پیدا کریں کیونکہ کچھ عرصہ بعد انہیں بھی جب تربیت یافتہ لیبر ملے گی تو ان کی انڈسٹری کو گھر بیٹھے کروڑوں کا فائدہ ہو گا۔انہوں نے کہاکہ ہماری جی ڈی پی کل ملا کر 600ارب ڈالر بنتی ہے یعنی ہماری معیشت کا کل حجم 600ارب ڈالر تک ہے۔
انہوں نے کہاکہ دنیا کے تمام اسلامی ممالک میں تیل پیدا کرنے والا ملک ہونے کے باوجود سعودی عرب کی معیشت کاحجم 800ارب ڈالر ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس زراعت، انڈسٹری اور سروسز میں سرمایہ کاروں کیلئے بہت مواقع ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارا ملک ایک بہت بڑا ملک ہے اور ہمارے پاس ایرو ناٹیکل،میزائل،جہازبنانے کے کارخانے موجود ہیں۔انہوں نے کہاکہ انر جی سیکٹر میں 40ارب ڈالر سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت کا ویژن ہے کہ 2030تک 60فیصد تک گرین انرجی پیدا کی جائے جس میں سولر،بائیو،ونڈ انرجی کے منصوبے شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ عنقریب ہمارا صنعتکار بھی اپنی ضرورت کے مطابق خود بجلی بنائے گا۔انہوں نے کہاکہ ہمارے ارکان قومی اسمبلی اور وزیروں نے اپنے حلقے کے مسائل کا ذکر کیا ہے جسے وہ سراہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ فیڈمک میں ایک سنٹر بنایا جائے گا جو یہاں کے گاؤں کے متاثرین کے مسائل حل کرے گا۔انہوں نے کہاکہ یہاں کے فیڈر کا مسئلہ بھی جلد حل کر لیا جائے گا اور گیس کے 50ہزار مزید کنکشن منظور کرنے کا مسئلہ بھی حل کر نے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے-

انہوں نے کہاکہ جینکو ز کے ملازمین کو فیسکو اور دیگر کمپنیوں میں ایڈجسٹ کرنے کا مسئلہ بھی حل کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ کوہ نور میں تمام کنکشنز کی منظوری دیدی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ سیالکوٹ، مرید کے،گجرات،لاہور اور فیصل آباد میں بڑی تیزی سے انڈسٹری آرہی ہے جس کی بڑی وجہ حکومت کے شفاف اقدامات ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں جاب کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔ وفاقی وزیر نے سینٹ کے انتخابات کے حوالے سے کہا کہ اللہ کے فضل سے پی ٹی آئی سینٹ کا انتخاب ضرور جیتے گی۔قبل ازیں ایم این اے عاصم نذیر نے کہاکہ چک جھمرہ حلقہ این اے 101پسماندگی کا شکار ہیں اسلئے وہ صنعتکاروں سے اپیل کرتے ہیں کہ مقامی لوگوں کو روز گار فراہم کریں۔ انہوں نے کہاکہ چونکہ علاقہ میں آبادی بہت بڑھ چکی ہے اسلئے انہیں آبادی کے تناسب سے سوئی گیس کے کنکشن فراہم کئے جائیں اور اس میں ان لوگوں کو ترجیح دی جائے جنہوں نے اپنی زمین فیڈمک کو فراہم کی ہے۔اس موقع پرفیض اللہ کموکا نے کہا کہ حکومتی اقدامات سے ملک میں معاشی استحکام آرہا ہے اور صنعتی ترقی بھی ممکن ہو رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ اب تک ڈیڑھ ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری آچکی ہے جس کے باعث فیصل آباد پورے ایشیا میں تیزی سے ترقی کرنے والا ملک بنتا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ جن حالات میں انہیں ملک کا اقتدار ملا وہ بہت مشکل تھے لیکن اب مشکلات کا خاتمہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس موقع پر کمشنر فیصل آباد ثاقب منان، و فاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلوے فرخ حبیب، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و اقتصادی امور کے چیئر مین فیض اللہ کموکا ایم این اے، فیسکو چیف ارشد منیر،صوبائی وزیر برائے وزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم پنجاب چوہدری محمد اجمل چیمہ اور ممبر قومی اسمبلی چوہدری عاصم نذیر،چیئر مین فیڈمک میاں کاشف اشفاق سمیت دیگر اہم صنعتی، کاروباری،تجارتی شخصیات بھی موجود تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں