آہ! حاجی رانا محمّد الیاس خان ..اُٹھ گئے کیسے کیسے پیارے لوگ ( تحریر، ڈاکٹر اظہار احمد گلزار )

زمین لوگوں سے خالی ہو رہی ہے
یہ رنگ آسماں دیکھا نہ جائے

بہت ہی پیارے’ ہردلعزیز مرنجاں مرنج شخصیت حاجی رانا محمّد الیاس خان بھی اس دارِفانی سے دارالبقا کی طرف کوچ کر گئے‏۔انا للّٰہ و انا الیہ راجعون

حاجی رانا محمد الیاس خاں (صدر ومہتمم مدرسہ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ’ تاندلیاوالا) اور ممبر امن کمیٹی تاندلیاوالا تھے۔۔۔ جو برادر محترم رانا افتخار احمد فرزند ارجمند نور محمّد نور کپور تھلوی کے سمدھی تھے ۔انھوں نے بے شمار رفاہی کاموں کے ساتھ ساتھ ایک دینی مدرسہ اور ایک مسجد بنوائی جس کے انتظام و انصرام کا سارا خرچہ خود اپنی جیب سے کرتے تھے ۔۔ وہ ایک شخص نہیں بلکہ خیالات اور منصوبوں کا ایک سمندر تھا۔ جنہوں نے انسانیت کی بھلائی کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں ۔
دعا ہے کہ اللّه کریم مرحوم کی مغفرت کرے اور سوگواران کو صبر جمیل عطاء کرے ۔۔آمین ۔۔۔۔!!
ایک عہد تمام ہوا….. ان کی خدمات تا دیر یاد رکھی جائیں گی!!!
حق مغفرت کرےعجب آزاد مرد تھا!
اللهم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ…
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شخص گلابوں جیسا تھا
وہ شخص زبانی یاد ہوا
آسان کتابوں جیسا تھا
کچھ درد تھے اس کے سینے میں
پر ضبط بلا کا رکھتا تھا
وہ درد دبا کر سینے میں اتنا سارا ہنستا تھا
پھر بعد میں مجھ سے کہتا تھا یہ ہنسنا تیری خاطر تھا
اور ساتھ میں یہ بھی کہتا تھا
تم جان سے بڑھ کر پیارے ہو

حاجی رانا محمّد الیاس خان اپنی عملی زندگی میں نہایت سنجیدہ ،شفیق ،ملنسار اور مخلص انسان تھے ۔اپنے دوستوں ، عزیزوں ،دینی حلقوں کے ہر فرد کے ساتھ اخلاق اور اخلاص سے پیش آنا سدا ان کا شیوہ رہا ۔ مہمان نوازی، خوش اخلاقی اور شگفتہ مزاجی ان کی جبلت میں شامل تھی۔انھوں نے اپنی فطری شگفتہ مزاجی کو رو بہ عمل لاتے ہوئے ہمیشہ لوگوں کے دل جیتے ۔ گردِشِ ایام ،زندگی کے تضادات ، سماجی زندگی کے نشیب و فراز، بے ہنگم ارتعاشات ،بے اعتدالیاں اور حالات کی ستم ظریفی دیکھ کر وہ ان شقاوت آمیز نا انصافیوں پر اپنی شدید نفرت کا ہمدردانہ انداز میں اظہار کرتے تھے ۔ ۔وہ موت کو ماندگی کے ایک وقفے سے تعبیر کیا کرتے تھے جس کے بعد نئی منزل کی جانب پیش قدمی نا گزیر ہے ۔ وہ موت کو ایک اٹل حقیقت کا نام دیتے تھے اور زندگی کو ایک ایسی گُتھی سمجھتے تھے کہ جب کوئی اس کی گرہ کشائی کی جانب نصف منزل طے کرلیتا ہے تو اجل کے بے رحم ہاتھ اسے دبوچ لیتے ہیں اور زندگی کے سربستہ رازوں سے دُور کر دیتے ہیں۔ اس طرح زندگی کے بارے میں اس شخص کی داستان نا گفتہ رہ جاتی ہے۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ اس فانی دنیا کی ہر چیز کا وجود نقش برآب ہے تو پھر یہ بات کیا معنی رکھتی ہے کہ کون سا نقش کب اور کس وقت ہمیشہ کے لیے مِٹتا ہے ۔

محترم حاجی رانا محمّد الیاس خان کے نہ ہونے کی ہونی دیکھ کر دِل دہل گیا اورآنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ۔زندگی اور موت کے اسرار و رموز پر ابہام کے پردے کچھ اس طرح پڑے ہیں کہ کچھ سُجھائی نہیں دیتا۔اپنی تمام تر پیش بینی اور بصیرت کے باوجود یہ بات کسی شخص کو معلوم نہیں کس جگہ اور کس وقت اُس کی زندگی کا بے آوازساز ٹُوٹے گا اور ہمیشہ کے لیے سکوتِ مرگ طاری ہو جائے گا۔ زندگی کی رعنائیاں اور رنگینیاں جب انسانوں کو سرابوں کے عذابوں کی بھینٹ چڑھا دیتی ہیں تو یہ موت کا ناگزیر اور اٹل خوف ہے جو الم نصیبوں کو نشانِ منزل دیتا ہے ۔ وہ درویش منش اور شگفتہ مزاج انسان جو زندگی بھر اپنے لبوں سے قہقہے لُٹا کر اپنے لاکھوں مداحوں اور پیاروں میں مسرتیں بانٹتا رہا’ وہ چُپکے سے ہماری بزمِ وفا سے اُٹھ کر ہم سے بہت دُور چلا گیا ۔ رانا محمّد الیاس خان تو سب سلسلے توڑ کر چلا گیا مگر یہ احساس دلا گیا کہ موت سائے کی طرح ہر زندہ شے کا تعاقب کرتی ہے ۔شہرِ خموشاں کا جان لیوا سکوت موت کی تلخ حقیقت کو اُجاگر کرتا ہے۔ موت کا سیل ِ رواں فراست ،تدبر ،بصیرت ،تفکر ،ثروت ،قوت ،ہیبت ،حشمت اور جاہ و جلال کے سب سفینوں کو غرقاب کر دیتا ہے اور بڑے بڑے نامیوں کے نام تاریخ کے طوماروں میں دب جاتے ہیں ۔قیصر و کسریٰ ،دارا و سکندر اور جمشید کا سب ٹھاٹ یہیں پڑا رہ جاتا ہے اور ہر بنجارہ عدم کی بے کراں وادیوں کی جانب سدھار جاتا ہے ۔ یہی اصول ِ فطرت ہے اور یہی قضا و قدر کا فیصلہ ۔ رانا محمّد الیاس خان کے لاکھوں الم نصیب مداح مشیتِ ایزدی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ رانا الیاس خان !اللہ حافظ ۔

ہر دردِ محبت سے اُلجھا ہے غمِ ہستی
کیا کیا ہمیں یاد آیا جب یاد تیری آئی
پھیلی ہیں فضاؤں میں اس طرح تیری یادیں
جس سمت نظر اُٹھی آواز تیری آئی
(صوفی تبسم)

———–
کہا جاتا ہے کہ موت مرنے والوں کی نہیں ہوتی موت تو پیچھے زندہ رہ جانے والوں کی ہوتی ہے۔۔جنھوں نے ساری زندگی لمحہ بہ لمحہ زندگی کی تاریک راہوں سے نبرد آزما ہونا ہوتا ہے ۔۔۔۔اس بیٹے کو یہ وقت ہمیشہ یاد رہے گا جو ایک نجی دورہ اور سیاحت کے بعد ترکی سے واپس اپنے گھر پہنچ رہا تھا کہ ائیر پورٹ پر لینڈ ہونے کے فورا بعد اچانک جب اس کی نظر فیس بک آئی ڈی پر پڑی جس میں اس کے پیارے باپ کی اچانک موت کی خبر تھی ۔۔۔پڑھ کر اس پر جو مصیبت کے پہاڑ ٹوٹے وہ تو بیٹا ہی جان سکتا ہے ‘جو اپنے باپ کی جان تھا۔ بلا شبہ آصف الیاس پر غم و اندوہ کا ایک پہاڑ آن پڑا ہے جس کے باپ نے دو ماہ قبل اس کے سر پر سہرا سجا کر ابھی تو اس کی خوشیوں کو دیکھنا تھا ۔۔۔اس کی ترقیوں کی طرف بڑھنے والے ایک ایک قدم کو دیکھنا تھا ۔۔۔۔ابھی تو اس کے چھوٹے بیٹے کاشف الیاس نے بہت مدارج طے کرتے ہوئے اپنے آپ کو منوانا تھا ، سر پر سہرا سجانا تھا ۔۔کاروباری معاملات اور زندگی کے رموز کو سیکھنا تھا ۔۔سب کچھ دھرے کا دھرا رہ گیا ۔۔۔بیٹیاں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتیں ہیں ۔بیٹیوں کی بہت ساری خوشیوں کو اپنے سامنے دیکھنا تھا ۔۔۔۔۔بیٹوں جیسا بھانجا اور داماد نوید اختر اپنے ماموں کی سانسوں کے ساتھ سانس لیتا تھا ۔۔۔بھانجے کی خوشی اپنے ماموں کی خوشی اور مسرت میں چھپی ہوتی تھی ۔۔۔نوید کو وہ لمحہ کیسے بھولے گا جب اس کی جھولی میں اس کے باپ جیسے ماموں کی جان قفس عنصری سے پرواز کر گئی تھی اور وہ بے بس تھا ۔۔۔آج مجھے ان کے ساتھ دو ماہ کی قرابت داری کے سفر کے بعد یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے اس شخص کے ساتھ برسوں کی قرابت داری تھی ۔۔ان دو ماہ میں رانا صاحب کے ساتھ بے شمار ضیافتیں کھائیں ۔خوب خوش گپیاں کیں ۔۔۔۔ہر کی بار رانا صاحب کے ساتھ مل کر ایک نئی خوشی اور طمانیت ملتی ۔۔۔۔ان کی دھیمی دھیمی مسکراہٹ کی خوشبو آج بھی میرے گرد و پیش میں پھیلی ہوئی ہے ۔۔۔۔رانا افتخار احمد اور رانا محمّد الیاس خان دونوں بہت اچھے اور پیار کرنے والے سمدھی ثابت ہوۓ ۔۔۔دونوں کو اپنی اس نئی قرابت داری پر بہت ناز تھا ۔۔دونوں اپنی اپنی جگہ پر بہت خوش تھے کہ ان کو اچھے خاندانی لوگ ملے ہیں ۔۔۔اسی بات پر دونوں اکثر نازاں رهتے تھے ۔۔یہ اللّه کریم کی بہت بڑی رحمت ہوتی ہے کہ اس کو نیک طینت ، سادہ مزاج اور شریف النفس رشتہ دار مل جائیں ۔۔ رانا افتخار احمد اور رانا محمّد الیاس خان کی میٹھی میٹھی مسکراہٹوں کا تبادلہ مجھے بہت بھلا اور اچھا لگتا تھا ۔۔ان دو ماہ کی قرابت داری میں ہم نے بہت عمدہ لمحے گزارے۔۔ مجھے دیکھ کر رانا صاحب کتنی دیر میری چہرے پر مسکراہٹ سجائے میری طرف دیکھتے رہتے ہیں ۔بہت ہنس مکھ ، کھلتے گلاب جیسا چہرہ ،آگے بڑھ کر دوسرے کو اپنے معانقے میں لینا رانا صاحب کا طرہ امتیاز تھا۔ان کی شگفتہ مزاجی ہی ان کا خاصہ تھی ۔۔آہ ! رانا محمّد الیاس خان نے کس قدر چپکے سے ایسی دنیا میں بسیرا کر لیا ہے جہاں جانے کے تو بہت سے رستے ہیں ، آنے کا کوئی رستہ نہیں ہے ۔

حاجی رانا محمّد الیاس خان کی زندگی سر چشمۂ فیض تھی اور وہ ایک شجرِ سایہ دار کی طرح دُکھی انسانیت کو آلامِ روزگار کی تمازت سے محفوظ رکھنے کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ان کی رحلت کے بعد وفا کے سب افسانے دم توڑ گئے ۔ حاجی محمد الیاس خان جیسے مقرب بارگاہ بزرگوں کا وجود اہل عالم کے لیے خالق کائنات کا بہت بڑا انعام تھا ۔ان کے افکار و اعمال ان کے معتقدین کے لیے سدا خضرِ راہ ثابت ہوئے ۔ان کی وفات پر ہم خود کو فکری اعتبار سے تنہا اور بے بس محسوس کرتے ہیں ۔اب اپنی دعائے نیم شب میں ہماری مسرت ،سلامتی اور صحت کی دعا کون کرے گا؟ ہمارے گھر کے در و بام پر محرومی ،اُداسی اور حزن و یاس کے سائے بڑھنے لگے ہیں ۔ان کی رحلت کے بعد بھی موضوع گفتگو نہیں بدلا بل کہ ہر محفل میں ان کا ذکر اچھے لفظوں میں کیا جا رہا ہے ۔۔

۔۔۔۔۔۔ اللّه رب العزت ہم سب کے پیارے حاجی رانا محمّد الیاس خان کی اگلی منزلیں آسان کرے اور درجات کی بلندی سے نوازے ۔۔۔پسماندگان کو صبر جمیل عطاء کرے ۔۔آمین ۔
چن جیہاں صورتاں نوں مٹی نے لگا لیا
جت دی اے موت جہنے ساریاں نوں ڈھا لیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں