حقوق ! ……………….. تحریر ، اورنگزیب اعوان

خالق کائنات نے انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اس کی بقاء کے تحفظ کی غرض سے اسے حقوق کا تحفہ عنایت کیا. حقوق اللہ اور حقوق العباد انسانی زندگی کا نصب العین ہیں. حقوق اللہ میں رب العزت نے انسان کو درس دیا ہے. کہ وہ اپنی ضروریات و مشکلات کے حل کے لیے مقرر کردہ طریقہ کار کے تحت اس کے سامنے گوش گزار ہو. اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں. کہ اسے کسی چیز کا علم نہیں. انسان کو محض یہ بات باور کروانے کے لیے کہ آپ کو اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لیے کچھ فرائض ادا کرنا ہوگے . اللہ رب عزت کو انسان کی عبادت اور دعا کی ضرورت نہیں. وہ تو اسے بغیر مانگے بھی دے رہا ہے. آداب انسانیت کو سمجھانے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنے حقوق بھی فرض کیے ہیں. تاکہ اسے اللہ رب العزت کی کریمی و رحمیی کا احساس ہو سکے. اور یہ اپنے مقصد حیات سے بھٹک نہ جائے. انسان جب اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ سجود ہوتا ہے. تو اس کا دل موم ہوتا ہے. اسے دوسروں کی تکالیف کا پاس ہوتا ہے. غرور اور تکبر سے محفوظ رہتا ہے.دنیا کی بقاء کے لیے انسانوں کے ایک دوسرے پر حقوق فرض کیے گئے ہیں. جب ہر انسان اپنا دینی فرض سمجھ کر اس فریضہ کو سر انجام دیتا ہے. تو کوئی شخص بھی اپنے حقوق سے محروم نہیں رہ پاتا.

بدقسمتی سے آج ہر انسان اپنے حقوق کی جستجو میں تو مگن نظر آتا ہے.مگر فرائض کی انجام دہی کی طرف توجہ بالکل نہیں دیتا. جس کی بدولت دنیا میں انتشار، بے چینی پھیلی ہوئی ہیں. طاقت ور کمزور کو اپنے زیر تسلط رکھنا چاہتا ہے. دولت مند غریب کا حق تلف کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے. دنیا میں آج تک جتنے بھی انقلاب برپا ہوئے ہیں. ان سب کے پس پردہ حصول حقوق کی جدوجہد کارفرما نظر آتی ہے. ان انقلابات کی بدولت بڑی بڑی سلطنتیں اپنا وجود تک ختم کروا بیٹھیں ہیں. مگر انسان اس قدر غافل ہے. کہ ان کے انجام کو دیکھتے ہوئے بھی کچھ سیکھنے کو تیار نہیں. آج بھی لوگوں کے حقوق غضب کرنے کو فخر تصور کیا جاتا ہے. جس کی بدولت دنیا کا امن ہر وقت داؤ پر لگا رہتا ہے. بہت سے ممالک میں اس وقت محکوم قومیں اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں. کچھ دیگر ممالک میں عوام اپنے بنیادی حقوق کی جستجو میں مصروف عمل نظر آتی ہے . امریکہ اور بھارت جو خود کو انسانیت کی فلاح و بہبود کا علمبردار کہتے نہیں تھکتے. وہاں جس قدر اقلیتوں کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے. دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی. یہ سب کچھ انسان کا خود کو دوسروں سے برتر ثابت کرنے کی کوشش کا نتیجہ ہے. وہ دوسروں کے حقوق غضب کرکے اپنے آپ کو نمایاں کرنا چاہتا ہے.شاید وہ بھول جاتا ہے. کہ اس کہ ہستی فانی ہے. اور اسے ایک نہ ایک دن رب العزت کے سامنے جواب دہ ہونا ہے. اقتدار کا نشہ اسے اندھا کر دیتا ہے. اللہ تعالیٰ جب بھی کسی انسان کو آزمانہ چاہتا ہے. وہ اسے اقتدار اور دولت سے نوازتا ہے. انسان کی بربادی ہی اس وقت شروع ہوتی ہے. جب وہ خود کو دوسروں سے برتر تصور کرنا شروع کر دیتا ہے. ملک پاکستان میں حکمرانوں کی جانب سے عوام کو حقوق کی فراہمی بھی غیر تسلی بخش ہے. یہاں جتنے بھی حکمران برسر اقتدار آئے ہیں. سبھی ایک دوسرے کو خود سے کمتر دیکھانے کی کوشش میں ہمہ تن مصروف رہے ہیں. آج وزیراعظم عمران خان بھی اسی نقش قدم پر چل رہے ہیں. وہ خود کو سب سے برتر سمجھتے ہوئے. کسی سے بات کرنے کو تیار نہیں. شاید وہ سابق حکمرانوں سے بھی کچھ سیکھنے کو تیار نہیں. وہ بھی اپنے اپنے دور اقتدار میں ایک دوسرے کو دنیا کا غلط ترین انسان ثابت کرنا چاہتے تھے. انسان کی کامیابی کا زینہ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی میں پنہاں ہے. دنیا جنت نظیر بن سکتی ہے. اگر ہم دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کرنا اپنا فرض سمجھ لیں. تو یقین جانئے کہ ہر انسان خوش حال نظر آئے گا. کیونکہ کوئی شخص ایسا نہیں ہو گا. جس کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہو گی. اللہ رب العزت نے ایسا نظام تشکیل دیا ہے. کہ اس پر عمل درآمد کرنے سے دنیا جنت بن سکتی ہے. شرط اس نطام قدرت پر عمل درآمد کرنا ہے. ملک پاکستان میں حکمران جماعت خود کو سب سے نیک اور بہتر ثابت کرنے کے چکر میں بہت سے لوگوں کے حقوق کی حق تلفی کر دیتی ہے. جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے.

موجودہ حکومت بھی اسی روش پر عمل پیرا ہے. سیاسی مخالفین کی ناجائز پکڑ دھکڑ کی جاتی ہے. ان پر بے بنیاد مقدمات بنائے جاتے ہیں. جن سے کچھ برآمد نہیں ہو پاتا . سابق صدر آصف علی زرداری کو گیارہ سال جیل میں رکھا گیا. لیکن ان کے خلاف کچھ ثابت نہیں کیا جاسکا. اسی طرح سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو بھی پکڑ کر جیل بھیج دیا گیا. پھر دس سال کے لیے جلاوطن کر دیا گیا. اب پھر سے انہیں بے بنیاد مقدمات میں پھنسا کر نااہل کیا گیا ہے. یہ سب کچھ محض قیاس آرائیوں پر ہو رہا ہے. اگر ان کے پاس اپنی جائیداد کے ثبوت نہیں. تو حکومت وقت یا ادارے وہ ثبوت عوام کے سامنے رکھے جن سے پتہ چلے کہ انہوں نے واقع ہی کرپشن کے پیسوں سے یہ جائیدادیں بنائی ہیں. تاکہ عوام کو پتہ چل سکے کہ وہ واقع ہی کرپٹ ہیں. محض الزام تراشی سے تو کوئی کرپٹ نہیں ہو جاتا. پاکستانی عوام آج بھی میاں محمد نواز شریف اور آصف علی زرداری کو ووٹ دے رہے ہیں. کیونکہ عوام کو پتہ ہے. کہ ہمارے ملک میں کیسے کسی کو جھوٹے الزامات میں پھنسا کر نااہل کیا جاتا ہے. عوام کو اب ملکی عدلیہ پر بھی اعتبار نہیں رہا. کیونکہ یہی ایک شخص کو نااہل کرتی ہے. پھر یہی اسے اہل کرکے حکومت سازی کا موقع فراہم کرتی ہے. یہ سب افعال انسانی حقوق کی توہین کے زمرے میں آتے ہیں. کسی بھی انسان پر بغیر ثبوت الزام تراشی نہیں کی جاسکتی. اور نہ ہی اسے بے جا قید میں رکھا جاسکتا ہے. مگر شاید ہمارا ملک دنیا کا وہ واحد ملک ہے. یہاں قانون نام کی کوئی چیز نہیں. یہاں پر طاقت ور کا حکم قانون کا درجہ رکھتا ہے. وزیراعظم عمران خان آپ کو اس روش کو تبدیل کرنا ہو گا. اور سیاسی مخالفین کے حقوق کا بھی پاس کرنا ہوگا. تبھی آپ کے سیاسی قد میں اضافہ ہو گا. سابق صدر آصف علی زرداری سے لاکھ اختلافات کے باوجود ان کی ایک خوبی جس سے کسی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا. انہوں نے اپنے دور اقتدار میں کسی کو سیاسی قیدی نہیں بنایا. بلکہ اپنے شدید ترین سیاسی مخالفین کو بھی اپنے ساتھ اقتدار میں شامل کیا. حقوق مخالف کے بھی ہوتے ہیں. ان کی کسی صورت پامالی نہیں ہونے چاہیے. وقت سدا ایک سا نہیں رہتا. آج آپ تخت نشین ہے. تو کل کوئی اور ہو گا. کوشش کرے کہ اپنے اقتدار کے دوران کسی کی دل آزاری نہ کرے. کیونکہ کل کو یہی سب کچھ آپ کو بھی برداشت کرنا پڑے گا. جب خدا تعالیٰ معاف کرنے کو پسندیدہ فعل قرار دیتا ہے. تو حکمران کیوں فضول میں اپنا اور قوم کے وقت کا ضیاع کر رہے ہیں. آئیے عہد کریں کہ اس ملک و قوم کی بہتری کے لیے ہم سب نے مل جل کر کاوش کرنا ہے. اور ایک دوسرے کے حقوق کا بھی خیال رکھنا ہے. حقوق اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ عطیہ ہے. جو تمام انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتا ہے. حقوق سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں. شدید ترین سیاسی اختلافات کے باوجود بھی حقوق کو کسی صورت معطل نہیں کرنا چاہیے. حقوق انسانوں کے درمیان محبت و بھائی چارے کو فروغ دیتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں