ووٹ کو عزت دو! ………………….. تحریر ، اورنگزیب اعوان

پاکستانی سیاست شروع دن سے ہی متنازعات کا شکار رہی ہے. ہر الیکشن کے بعد ووٹ چوری اور نتائج کی تبدیلی کا شور برپا کیا جاتا ہے. مگر اس برائی کےسدباب کے لیے کسی بھی سیاسی جماعت کی طرف سے آج تک کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا گیا. یا شاید انہیں اس اقدام سے باز رکھا جاتا ہے. ملک میں حالیہ ضمنی انتخابات بالخصوص پنجاب کے دو حلقوں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ 51 میں الیکشن کے بعد ایک بار پھر سے ملک بھر میں ووٹ کو عزت دو کی باز گشت سنائی دے رہی ہے. یہ الفاظ محض ایک سیاسی جماعت کا موقف نہیں ہے. بلکہ اس قوم کی محرومیوں کا ازالہ کرتے نظر آتے ہیں. ووٹ کو عزت دو کا حقیقی مطلب عوام کو اظہار رائے کی آزادی، میڈیا کو سچ بولنے و دیکھانے کی ہمت اور ملکی اداروں کو اپنی آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض منصبی سرانجام دینے کے ہیں. اس لیے تمام جمہوری سوچ رکھنے والی قوتوں کو اس موقف کی پرزور حمایت کرنی چاہیے. اس اچھی و مثبت سوچ کو صرف اور صرف میاں محمد نواز شریف کے بیانیہ سے منسوب کر کے اس کی افادیت سے کسی بھی طرح سے انکار نہیں کیا جاسکتا. جمہوریت میں کسی طرف سے بھی کی گئی اچھی بات کو تسلیم کر لینا ہی احسن اقدام مانا جاتا ہے. کیونکہ جمہور نام ہی عوامی حکومت کا ہے. اس نظام کا بنیادی فرض ہی عوام کی فلاح و بہبود اور اس کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا ہے. وزیراعظم عمران خان تو خود اکیس سال تک اسی کام میں مصروف عمل رہے ہیں. ان سے بہتر اس کی افادیت کو کون جان سکتا ہے. کہ جب آپ کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے. تو اس کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں. الیکشن 2013 کے بعد آپ نے ووٹ کی عزت کی خاطر اسلام آباد میں پاکستان کی تاریخ کا طویل ترین عوامی دھرنا دیا تھا. اس وقت آپ کا ایک ہی موقف تھا. کہ قومی اسمبلی کے چار حلقہ جات کی دوبارہ گنتی کی جائے. کیونکہ وہاں ووٹ کے تقدس کو پامال کیا گیا ہے.

آپ اس نیک مقصد کی تکمیل کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان تک گئے. قدرت کا کھیل بھی بڑا نرالا ہے.الیکشن 2018 میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکومت سازی کا موقع فراہم کیا. جس پر تمام اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے الیکشن میں دھاندلی کا شور برپا ہوا. مگر آپ نے اس پر توجہ نہیں دی. آپ کو چاہیے تھا. کہ فوراً اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ بیٹھا کر اس پر بات چیت کرتے. اور الیکشن دھاندلی بارے موثر قانون سازی کرتے. کیونکہ آپ سے بہتر اس مسئلہ کو کوئی اور نہیں سمجھ سکتا. مگر آپ نے اپنے ڈھائی سال دور اقتدار میں اس اہم ترین مسئلہ پر کوئی پیش رفت نہیں کی. اب جب سینٹ ایوان بالا کے الیکشن منعقد ہونے والے ہیں. اور آپ کو اپنے اراکین کی طرف سے شدید خدشات ہیں. کہ وہ کہی اہوزیشن کے امیدواروں کو ووٹ نہ ڈال دیں . تو آپ کو ایک بار پھر سے ووٹ کے تقدس کی یاد ستانے لگی ہے. اور آپ اس غرض سے ایک بار پھر سے عدالت عظمیٰ میں چلے گئے ہے. کہ ووٹ کی عظمت کی خاطر قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو پابند کیا جائے. کہ وہ اپنی اپنی جماعت کے امیدواروں کو ہی ووٹ دیں. اور سینٹ الیکشن کو اوپن بیلٹ پییر کے طریقہ کار کے تحت منعقد کیا جائے. تو وزیراعظم پاکستان عمران خان جب ڈسکہ کے الیکشن میں عوام کے حق رائے دہی پر ڈاکہ زنی کی جارہی تھی. اس وقت آپ کی ووٹ کے تقدس کی سوچ کہاں سو رہی تھی. آپ کے حکومتی اراکین کھلم کھلا الیکشن کمیشن کے احکامات کی دھجیاں بکھیر رہے تھے. بات یہی تک محدود نہیں رہی. جب سارا دن سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلم لیگ ن کے اکثریت والے علاقوں میں ہوائی فائرنگ، قتل و غارت اور حکمت عملی کے تحت پولنگ کو سست روی کا شکار بنا کر بھی مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہو سکے . تو رات کو تیئیس پریزائیڈنگ افسران کو الیکشن کے سازوسامان سمیت اغواء کر لیا گیا. رات بھر ان کے موبائل فون بند رہے. چیف الیکشن کمشنر ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے. اسی اثناء میں انہوں نے آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری پنجاب کو بھی فون کالز کیں. مگر کسی نے انہیں موثر جواب نہ دیا. جس کا انہوں نے اپنی پریس ریلیز میں ذکر کیا ہے. بالآخر صبح کے وقت تمام کے تمام پریزائنڈنگ آفیسر کھلے ہوئے بیلٹ بکس کے ہمراہ آر او آفس اکٹھے پہنچ گئے. جب ان سے دیر سے آنے پر استفسار کیا گیا. تو ان کے بیانات بڑے ہی دلچسپ تھے.

کسی نے کہا کہ اس کی عینک گم ہو گئی تھی. تو کسی نے کہا کہ شدید دھند تھی اس لیے میں لیٹ ہو گیا. کوئی ان عقل کے اندھوں سے پوچھے کہ ان کو پولیس نے اپنی حفاظتی تحویل میں لیکر آر او آفس آنا تھا. اگر عینک گم گئی تھی. تو کون سا اس نے گاڑی چلا کر اکیلے آنا تھا. اسی طرح سے شدید دھند تھی تو کیا اپنا کام چھوڑ کر سرکاری دستاویزات کو گھر لیجانے کی اجازت تھی؟ چلے یہ تو پریذیڈنگ افسران تھے. مگر پولیس کیا کر رہی تھی وہ رات بھر کدھر رہی اور صبح کو ان کو کہاں سے لیکر آئی. وزیراعظم پاکستان یہاں دال میں کالا نہیں. ساری دال ہی کالی ہے. آپ نے تو پاکستان کی عدالت عظمیٰ سے صادق اور امین کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا ہوا ہے. اس طرح کا فعل تو آپ کو سرٹیفکیٹ دینے والوں کی قابلیت پر بھی سوالیہ نشان پیدا کرتا ہے. کیا فرق پڑ جانا تھا اگر ڈسکہ کا الیکشن پاکستان مسلم لیگ ن جیت جاتی. اس سے کون سا آپ کی حکومت کا خاتمہ ہو جانا تھا. مگر آپ کے درباری عثمان ڈار اور فردوس عاشق اعوان نے خود کو آپ کی نظروں میں ہیرو ثابت کرنے کے چکر میں پوری پاکستان تحریک انصاف کو ذلیل و رسوا کروا کے رکھ دیا. انہوں نے آپ کے ریاست مدینہ کے نعرہ کو بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کرکے رکھ دیا. عوام سوچنے پر مجبور ہے. کہ یہ کیسے حکمران ہے. جو اپنی طاقت کے نشہ میں ہر غلط کام کو بھی بڑی دیدہ دلیری سے سر انجام دینے کو اپنے لیے باعث فخر محسوس کرتے ہیں . وزیراعظم عمران خان آپ کو اپنے ان درباریوں سے جان چھڑوانا ہو گی. ورنہ یہ آپ کو کسی قابل نہیں چھوڑے گے. اگر ان میں ذرا سی بھی قابلیت ہوتی تو یہ خود الیکشن نہ جیت جاتے. آپ نے شکست خوردہ مہروں کو اپنا مشیر مشیر مقرر کر رکھا ہے. ان سے اچھے کی امید نہ رکھے. کیونکہ ان کی سوچ اور عقل ہی اتنی ہے. جتنی وہ استعمال کر رہے ہیں. میاں محمد نواز شریف کے بیانیہ ووٹ کو عزت دو کے حقیقی معنی کو سمجھنے کی کوشش کریں. اس میں آپ کی حکومت کے بارے میں کوئی سازشی پہلو پنہاں نہیں. پتہ نہیں آپ کے ان نالائق مشیروں نے آپ کے ذہن میں یہ بات کیوں ڈال دی ہے. کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف ہے. کیا آپ کو ووٹ کی عزت عزیز نہیں. کیا آپ نے عوام کی ووٹ کے ذریعہ سے منتخب نہیں ہونا. تو پھر آپ کیوں عوام کو حقیقی اظہار رائے کی آزادی دینے سے خوف زدہ ہے.

آپ کی تو سیاست کی بنیاد ہی عوام کو انصاف کی فراہمی پر تعمیر ہوئی ہے. پھر کیوں اپنے ہاتھوں سے اسے زمین بوس کر رہے ہیں. ووٹ کو عزت دو کے الفاظ ملک کے تین بار کے منتخب وزیراعظم نے کہے ہیں . تو انہوں نے یہ الفاظ کچھ نہ کچھ سوچ سمجھ کر ہی کہے ہو گے. آپ کو ان الفاظ کی قبولیت میں کچھ عار نہیں ہونی چاہیے. یہ الفاظ تو عوام اور ملک کے تمام آئینی اداروں کی عظمت کی بحالی کی طرف نشاندہی کرتے ہیں. ووٹ کو عزت دو کے الفاظ کو تو ملک کی ہر سیاسی جماعت کو اپنے سیاسی منشور میں شامل کرنا چاہیے. کوئی بھی سیاسی شخص جو ووٹ کو عزت دو کے الفاظ سے اختلاف کرتا ہے. یا تو وہ جمہوری سوچ کا مالک نہیں. یا پھر وہ سیاسی نہیں. آمریت کی پیداوار جو ہر دور حکومت کا حصہ ہوتی ہے. وہ ایسے اچھے اقدامات کو کبھی بھی پروان چڑھتا نہیں دیکھ سکتے . اس وقت بھی حکومت کے اہم ترین قلمدان انہیں لوگوں کے سپرد ہے. یا دوسرے الفاظ میں انہیں اہم ترین وزارتیں تفویض کی گئی ہیں. انہیں وزارتوں نے ملکی قانون سازی اور آیندہ کی سیاسی حکمت عملی بارے پالیسی مرتب کرنا ہوتی ہے.. موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا جاسکتا ہے. کہ وزیراعظم عمران خان بھی انہیں درباریوں کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں. جو ماضی کی حکومتوں کے زوال کا سبب بنے تھے. اب بھی وقت ہے کہ وزیراعظم پاکستان ان نااہل درباریوں سے اپنا دامن چھوڑا کر ووٹ کی عزت کی بحالی کے لیے حقیقی قانون سازی کریں. ورنہ آپ بھی ماضی کا قصہ ہائے ناتمام بن کر رہ جائے گے.مستقبل میں جب مورخ تاریخ راقم کرے گا. تو وہ آپ کا ذکر اچھے الفاظ میں ہرگز نہیں کریگا. ابھی بھی وقت ہے. ووٹ کو عزت دو.
نظام میکدہ بگڑا ہوا ہے اس قدر ساقی
اسی کو جام ملتا ہے جسے پینا نہیں آتا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں