سیاسی اپ سیٹ! …………………. تحریر ، اورنگزیب اعوان

انسانی خواہشات کا لامتناہی سلسلہ اسے متعدد بار مایوسی سے ہمکنار کرتا ہے.جسے وہ اپنی شکست تصور کرتا ہے. درحقیقت وہ کسی دوسرے انسان کی کامیابی ہوتی ہے. شکست اور فتح کا بھی عجب کھیل ہے. ایک انسان کی فتح کا انحصار دوسرے کی شکست پر ہوتا ہے. گزشتہ روز پاکستان کے ایوان بالا سینٹ کے الیکشن کے موقع پر بھی ایسے ہی مناظر دیکھنے کو ملے. جس میں حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے متفقہ امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں سے شکست سے دوچار ہونا پڑا. ویسے تو چاروں صوبائی اسمبلیوں میں سینٹ کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا. مگر پاکستانی عوام کی نظریں دارالحکومت اسلام آباد کی جنرل نشست پر ہونے والے مقابلہ پر مرکوز تھیں. کیونکہ اس ایک سیٹ کی ہار جیت نے آیندہ کی ملکی سیاست کی سمت کا تعین کرنا تھا. اس واحد نشست پر الیکشن اس لیے بھی قابل توجہ تھا. کہ اس پر دو اہم شخصیات اپنی سیاسی بقاء کی جنگ لڑ رہی تھی. ایک طرف ملک کے سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی تھے. جو ایک صوفی گھرانے سے تعلق رکھتے ہے. اور اپنے سیاسی سفر کے دوران وہ متعدد اہم ترین ملکی سیاسی عہدوں پر تعینات رہے ہے. دوسری طرف ملک کے موجودہ وزیر خزانہ حفیظ شیخ تھے. جو دنیا کے اہم ترین تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کے عمل سے مستفید ہو چکے ہیں. اور دنیا کے نامور مالیاتی اداروں میں خدمات سرانجام دینے کا فریضہ ادا کر چکے ہیں.

حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے حفیظ شیخ کی جیت کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا. تو دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے اپنے امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کو فتح سے ہمکنار کروانے کے تمام تر سیاسی کارڈ کھیلنے کا منظم پروگرام تشکیل دیا. دونوں طرف سے سیاسی جوڑ توڑ کے لیے بھرپور حکمت عملی ترتیب دی گئی. سید یوسف رضا گیلانی کو اپنے مدمقابل پر سیاسی برتری حاصل رہی. کیونکہ بطور سپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعظم پاکستان انہوں نے اراکین اسمبلی سے بہت اچھا سیاسی رویہ روا رکھا. جس کو اراکین اسمبلی آج بھی یاد کرتے ہیں. جبکہ حفیظ شیخ اتنے عرصہ کے لیے ہی ملک میں قیام کرتے ہیں. جتنا عرصہ وہ وزیر رہتے ہیں. وزیراعظم عمران خان اور ان کے وفاقی وزراء نے شکست کے بعد قوم کو اخلاقیات کا درس دینا شروع کیا ہوا ہے. تو ان سے کوئی پوچھے کہ پچھلی مرتبہ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو کس طرح سے منتخب کیا گیا تھا؟ بلوچستان کی جمہوری حکومت کو راتوں رات کس نے ختم کیا تھا؟ قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کو بھیڑ بکریوں کی طرح جہاز میں بھر کر کون لاتا تھا؟ اب صوبہ بلوچستان میں جس شخص کو سینٹ کا الیکشن جتوایا گیا ہے. اس کے بارے میں آپ کی پارٹی کے لوگ ہی 75 کروڑ بطور رشوت لیکر جتوانے کا کہہ رہے ہیں. اسی طرح سے صوبہ سندھ میں آپ کے حکومتی ارکان 35 کروڑ بطور رشوت لیکر ایک آزاد امیدوار کی حمایت کا دعویٰ کر رہے ہیں. کیا یہ سب کچھ اخلاقی لحاظ سے ٹھیک ہے. اسی طرح سے آپ کے گورنر پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی ارکان اسمبلی کو پارٹی سے بغاوت پر اکساتے ہیں تو آپ انہیں شاباش دیتے ہیں.

گلگت بلتستان کے الیکشن میں آپ کے حکومتی وزراء نے جیسے لوگوں کے ضمیروں کی خریدو فروخت کی. وہ بھی جائز تھا. جو فعل بھی آپ کے لیے سود مند ہوتا ہے. وہ درست ہے. اور جو دوسروں کی ذات کے لیے فائدہ مند ہو. وہ غیر اخلاقی ہے. حالیہ قومی اسمبلی NA – 75 ڈسکہ الیکشن بھی آپ کی اعلیٰ اخلاقیات کو منہ چڑھا رہا ہے. وزیراعظم پاکستان عمران خان اپنی سیاسی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے. فی الفور نئے الیکشن کا اعلان کرے. اور خود کو عوام کی عدالت میں پیش کرے. اراکین قومی اسمبلی کی اکثریت کی طرف سے آپ اور آپ کی حکومتی معاشی و اقتصادی پالیسیوں پر عدم اعتماد کے بعد وزیراعظم کے منصب پر فائز رہنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہے . آپ اعتماد کا ووٹ لینے کی بات کس منہ سے کر رہے ہیں.آپ کے وفاقی وزیر اطلاعات فرماتے ہیں. کہ سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کی وڈیو منطر عام پر آچکی ہے. جس میں وہ پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کو ووٹ ضائع کرنے کا طریقہ کار بتا رہے ہیں. تو وزیر موصوف کو یاد ہو گا کہ ایسی ہی ایک وڈیو صوبہ خیبر پختون خواہ میں پیسوں کی گڈیوں کے لین دین کی سامنے آئی تھی. جس میں پیسے لینے اور دینے والے پاکستان تحریک انصاف ہی کے لوگ تھے. آپ نے ان میں سے ایک شخص کو پارٹی ٹکٹ دیکر ڈھائی سال تک صوبہ خیبر پختون خواہ کا وزیر قانون بنائے رکھا. جو آدمی ووٹ ڈالنے کے عوض رقم لے رہا ہے. اس نے اتنے اہم منصب پر بیٹھ کر کیا گل کھلائے ہو گے. اس کا حساب کون دے گا.فیصل واڈا جو کہ آپ کے وفاقی وزیر تھے. دوہری شہریت پر وہ ڈھائی سال تک اس ملک کے آئینی اداروں کا تمسخر اڑاتے رہے. اب وہ سینیٹر منتخب ہوگئے ہیں. یہ کون سی اخلاقیات ہے. جو چیز ہمیں فتح سے ہمکنار کرتی ہے. وہ جائز اور جو ہمیں شکست خوردہ کرتی ہے. وہ ناجائز. یہ دستور دنیا ہے.اس کی وجہ سے ہی دنیا میں فسادات برپا ہیں. کاش ہم لوگ اس بات کو کھولے دل سے تسلیم کر لیں. کہ ہر انسان فتح اور جیت کا جذبہ لیکر میدان میں اترتا ہے.اگر ہم اس سے بہتر ہے تو ہم فتح یاب ہوسکتے ہیں. ورنہ اس کا حق ہے کہ وہ کامیاب قرار پائے. کچھ عرصہ قبل آپ ہی کا فرمان تھا کہ یوٹرن سب سے بہتر سیاسی ہتھیار ہے.

اگر نیوٹن اس پر عمل درآمد کرتا تو اس سے بڑا لیڈر دنیا میں کوئی نہ ہوتا. تو آصف علی زرداری، میاں محمد نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن اس سیاسی کھیل کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں. وہ اس سیاسی کھیل کے رموز و اوقاف سے بخوبی واقف ہیں. آپ کا غرور اور تکبر ہی آپ کی سیاسی تنزلی کا سبب بن رہا ہے. آپ اخلاقیات کا درس دینے کی بجائے نئے الیکشن کروانے بارے سوچے. عوام اور اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اب تو آپ کے اراکین قومی اسمبلی بھی آپ سے بیزار ہو چکے ہیں. کیونکہ آپ ہر بات سابقہ حکومتوں پر ڈال دیتے ہیں. اس لیے آپ کے اراکین اسمبلی نے اپنے قمیتی ووٹ بھی سابقہ حکومتوں کے متفق امیدوار سید یوسف رضا گیلانی کو ڈال دیئے ہیں. کیونکہ انہوں نے بھی عوام کی عدالت میں پیش ہونا ہے. اس لیے وہ آپ کی بجائے عوام کی آواز پر لبیک کہہ رہے ہیں. ایک طرف آپ اپنے ارکان اسمبلی کو ضمیر فروش کہہ رہے ہیں. دوسری طرف ان ہی ضمیر فروشوں سے اعتماد کا ووٹ مانگ رہے ہیں. کیا یہ کھلا تضاد نہیں. آج آپ آرمی چیف کے پاس سیاسی مدد لینے پہنچ گئے ہیں. صبح وزیراعظم ھاؤس کی طرف سے اعلامیہ جاری ہوتا ہے . کہ وزیراعظم پاکستان نے اپنی تمام سیاسی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں. پھر کچھ دیر بعد آپ آرمی چیف سے ملاقات کرتے دیکھائی دیتے ہیں. یہ کن نجی معاملات پر ملاقات تھی. عوام جاننا چاہتی ہے. اب عوام کو مزید بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا. آپ نے انتقام پر مبنی سیاست کی انتہا کر دی ہے . اب اس ملک و قوم کی خدارا جان چھوڑ دے. اس قوم میں مزید جھوٹ سننے کی سکت نہیں. یہ آپ کی ریاکاری کو سمجھ چکی ہے . اس ملک کے وسیع تر مفاد میں فیصلہ سازی کرتے ہوئے. فوری طور پر الیکشن کا اعلان صادر فرمائے. اگر آپ قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے بھی لیتے ہیں. تب بھی آپ کے حق میں کچھ بہتر نہیں ہونے والا . کیونکہ اپوزیشن مزید طاقت ور ہو گئ ہے.اب وہ آپ کو آرام سے بیٹھنے نہیں دے گی . اس سیاسی کشمکش کا واحد حل نئے الیکشن ہیں.

نکلو جو کبھی ذات کے زنداں سے تو دیکھو
آباد ہیں عبرت کے مقامات کہاں تک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں