انجمن فقیرانِ مصطفیٰ فیصل آبادکی 213 ویں ماہانہ طرحی نعتیہ محفل مشاعرہ


رپورٹ : پروفیسرریاض احمد قادری

انجمن فقیرانِ مصطفیٰ فیصل آباد شہرِ نعت کی متحرک ترین اور سب سے بڑی نعتیہ تنظیم ہے جس کے زیر اہتمام ماہانہ طرحی نعتیہ مشاعروں کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے ۔ 28 فروری 2021 بروز اتوار اس کے 213 ویں مشاعرے کا انعقاد ہوا ۔ جس کی صدارت وطن عزیز کے نامور صاحبِ دیوان نعت گو شاعر جناب ڈاکٹر ملک مقآصود احمد عاجز نے فرمائی انہی کا مصرعہ
ع دستِ طلب حضور کے آگے بڑھا کے دیکھ
دیا گیا تھا بسلسلہ جشنِ ولادت حضرت علی حیدرِ کرارؑ انہی کا مصرع برائے منقبت دیا گیا تھا
ع مشکلوں میں میرے یاور حیدرِ کرارؑ ہیں
اس مشاعرہ کی خاص بات فیس بک گروپ ” گلزار سخن ” پر انہی دو مشاعروںکا انعقاد بھی تھا جس کے ایڈمن اور روح رواں نوجوان شاعر سید خورشید نواز لائق بخاری ہیں ۔ یہ مشاعرہ اسی گروپ میں لائیو بھی چلایا گیا۔ کراچی سے معروف نعت گو اور نعت خواں جناب فیصل حسن نقشبندی خصوصی طور پر شرکت کے لئے تشریف لائے۔ جو مہمان خصوصی قرار پائے۔ ان کے ہمراہ دنیائے نعت کی نہایت قد آور شخصیت جناب ڈاکٹر ریاض مجید جن کی نعت گوئی پر سرحد یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی ہو چکی ہے اور درجنوں ایم فل ہو چکے ہیں ، بھی تشریف لائے ۔ وہ بھی مہمان خصوصی تھے۔ تیسرے مہمان خصوصی تصویر صائم چشتی ؒ جناب محمد لطیف ساجدؔ چشتی تھے۔مہمانان اعزاز محمد افضل خاکسار اور کوثر علی تھے ۔ پروفیسر محمد طاہر صدیقی نے 63 اشعار اس مصرع پر تخلیق کئے جن میں حمد و نعت و منقبت سلام اور دعا کے اشعار شامل تھے یہ اس موقع پر خاصے کی چیز تھی جس کی بے پناہ داد دی گئی۔ نقیب محفل پروفیسر ریاض احمد قادری حضرت علی حیدر کرارؑ کی دس مناقب پیش کیں جو اس مصرع پر کہی گئی تھیں۔ ڈٖاکٹر محمد اقبال ناز منقبت کے مصرع پر نعت پیش کرکے اختصاص حاصل کیا۔محمد افضل خاکسار، ڈاکٹر ریاض مجید اور محمد فیصل حسن نقشبندی نے موقع پر ہی فی البدیہہ کلام لکھ کر تازہ ترین کلام سنانے کا اعزاز حاصل کیا۔ محمد سرور قمر قادری نے سب سے زیادہ داد دے کر مین آف دی داد آف مشاعرہ کا اعزاز حاصل کیا۔
تلاوت محمد مودود عظیم چشتی نے پیش کی ۔ اپنا ہی کلام ترنم سے پیش کرنے والے شعرائے کرام میں محمد زبیر نقشبندی، محمد سلیم شاہد، محمد مودود عظیم چشتی، اور مہمانِ خصوصی فیصل حسن شامل تھے۔ محمد سلمان منیر خاور اور محمد منیر احمد خاورؔ باپ بیٹا شاعر اور مودود عظیم چشتی اور فقیر حسین چشتی بھی باپ بیٹا شاعر کی حیثیت سے شامل ہوئے۔دیگر شعرائے کرام میں محمد عمیر لبریزؔ،محمد حسین آسل، تبسم قادری ،نصیر احمد اختر، ، عرفان علی عرفان ، سید اسد رضوی، علامہ طالب کوثری کا کلام بھی پڑھ کر سنایا گیا،ناصر حسین راضی،اشفاق ہمزالی، شوکت جلال چشتی، اللہ نواز منصور اعوان ، فیضان اعوان،جاوید اطہر، ابرار نجمی، اللہ رکھا عاجز سیالوی،سرور قمر قادری، مسعود چشتی، اقبال ناز، شامل تھے۔جن شعرائے کرام نے آن لائن کلام بھیجا ان میں سید شاہد حسین شاہد، محمد امین عزمی، زاہد سرفراز زاہد، محمد رضوان تقی شاہ، سائیں محبوب حیدر چشتی، این ایس شانی، اویس بشیراویس ، ارشد ستار ارشد، ڈاکٹر محمد ابراہیم حسان، خورشید نواز لائق بخاری، باسط ممتاز سید شامل تھے۔
محفل مشاعرہ کے اشعار کا انتخاب پیشِ خدمت ہے

دستِ طلب حضورﷺ کے آگے بڑھا کے دیکھ
پھر اس کے بعد رنگ عطائے خدا کے دیکھ
ڈاکٹر ملک مقصود احمد عاجز

پردے تعینات کے سارے ہٹا کے دیکھ
الا کی ممکنات میں اثرات لا کے دیکھ
رکھ ربط اس خبیر و علیم و سمیع سے
جو سن رہا ہے تیری تو اس کو سنا کے دیکھ

ڈاکٹر ریاض مجید
مجھ پر عطائے خاص مرے بے نیاز کر
محمودِکائنات کا مجھ کو ایاز کر
دنیا سے مانگنے کی نہ حاجت رہے گی پھر
” دستِ طلب حضورﷺ کےآگے دراز کر”

فیصل حسن نقشبندی کراچی

طاہرؔ بنامِ ربِ عُلیٰ کر سخن تمام
پھر کشتِ جاں پہ معجزے ابرِ عطا کے دیکھ

پروفیسر محمد طاہر صدیقی
خیرالوریٰﷺ کے نام کی تختی لگا کے دیکھ
دن کو حریمِ نیرِ تاباں بنا کے دیکھ
ناصر حسین راضی

شب کو کمالِ گیسوئے شاہ ﷺ سے ہو مستفید
دن میں اجالے سیدَخیرالوریٰ کے دیکھ
شوکت جلال چشتی

تجھ کو کمی رہے گی نہ پھر کوئی بھی ذرا
” دستِ طلب حضورﷺ کے آگے بڑھا کے دیکھ ”
مسعود چشتی

عشقِ رسولِ پاکﷺ میں عاجزؔ تُو ڈوب کر
انوار قلب و روح پہ اُن کی ثنا کے دیکھ
ڈاکٹر مقصود احمد عاجز

تجھ کو درود پاک کی نسبت ملے ضرور
آقاﷺ کی اے ریاضؔ تو نعتیں سنا کے دیکھ

ریاض احمد قادری

فیضی ؔ تو آستان محمد پہ آ گیا
اے ناشناس ! تو بھی کبھی سر جھکا کے دیکھ

مبشر حسین فیضی

تو اپنی بات چھوڑ تو ہے ان کا امتی
غیروں پہ سلسلے ذرا ان کی عطا کے دیکھ

تبسم قادری

چارہ گرانِ شوق ہیں عاجز تو چل حسن ؔ
“دستِ طلب حضور کے آگے بڑھا کے دیکھ”ٗ

ڈاکٹر محمد رئوف حسنؔ بھٹی

آسل یہ زندگی کی متاعِ عظیم ہے
حبِ رسولِ پاک میں سب کچھ لٹا کے دیکھ

محمد حسین آسلؔ

حالات کے ستم سے پریشاں نہ ہو زبیرؔ
دنیا کی بات چھوڑ ، اب ان کو سنا کے دیکھ

محمد زبیر نقشبندی

ہوگا سخن وری میں اضافہ اے کو ثریؔ
اک نعت گو فقیرؔ کے پیکر میں اآکے دیکھ

علامہ طالب حسین کوثریؔ

عرفان تجھ پہ روپ کی دولت نثار ہو
خاکِ درِ رسول کو غازہ بنا کے دیکھ

عرفان علی عرفان

صد خامیاں ہیں پھر بھی تو ان کی نظر میں ہے
کتنے کرم ہیں تجھ پہ اسدؔ مصطفیٰ کے دیکھ

سید اسد رضوی

خونِ جگر ہے اشک نہ سرورؔ اسے تو جان
افکار میں تو لا اسے جلوے ثنا کے دیکھ

محمد سرور قمر قادری

عالمؔ تجھے ملے گا طلب سے سوا سدا
” دستِ طلب حضور کے آگے بڑھا کے دیکھ

محمد محبوب عالم حیدرسمندری

مشتاق ہوں گے راستے لبریز سب ترے
دیوارِ دل پہ طیبہ کا نقشہ لگا کے دیکھ

محمد عمیر لبریز

اے نُورِ لَم یَزَل دلِ شاہدؔ پہ اِک نظر
اس کی طرف ہیں بڑھ رہے سائے قضا کے دیکھ

سید شاہد حسین شاہد

لب کھولنے سے پہلے ہی ہو گی دعا قبول
منصور تو درود کو اس میں ملا کے دیکھ

اللہ نوازمنصور

اخترؔ بھی فیض یاب اسی روشنی سے ہے
جلوے بھرے جہان میں شمس الضحیٰ کے دیکھ

نصیر احمد اختر

کردیں گے تجھ کو نامی گرامی جہان میں
خود کو نبی کے نام پہ باسطؔ مٹا کے دیکھ

باسط ممتاز سید

رتبہ تجھے بلال سا مل جائے گا ضرور
خو کو ولائے آقا میں اطہرؔ مٹا کے دیکھ

محمد جاوید اطہر

طیبہ کا یہ سفر بھی نہیں عام سا اویس
شہر نبی کا قافلہ دل میں سجا کے دیکھ

محمد اویس بشیر اویس

سارےہی درد دور ہوں دل سے ترے ضرور
زاہد نبی کی الفتیں دل میں بسا کے دیکھ

زاہد سرفراز زاہدؔ

جنت ترے نصیب میں ہوجائے گی امینؔ
سرکارِ دوجہاں کو وسیلہ بنا کے دیکھ

پروفیسر محمد امین عزمی

ہوں گے کرم نصیب ، ترے روز و شب منیرؔ
دل میں سراجِ نور کی نسبت جگا کے دیکھ

میاں منیر احمد منیرؔ

گلشن کے پھول تجھ پہ کریں رشک بار بار
ابرارؔ دل میں نعت کا غنچہ لگا کے دیکھ

محمد ابرارنجمی

مل جائیں گی عطائیں تقی دوجہان کی
دست طلب حضور کے آگے بڑھا کے دیکھ

سید محمد رضوان تقی بخاری

بیک یا رسول کا نعرہ لگا کے دیکھ
دست طلب حضور کے آگے بڑھا کے دیکھ
ارشد ستار ارشد

درپر بلائیں گے تجھے بھی مصطفیٰ ضرور
خاورؔ تو ان کے پیار میں خود کو مٹا کے دیکھ

منیر احمد خاور

دونوں جہاں میں پاۓ گا خورشيد تُو فلاح
راہِ محمدیﷺ پہ تو خود کو چلا کے دیکھ

خورشيد عالم خورشيد

بھرتے ہیں خالی جھولیاں سب کی مرے کریم
کیسے نصیب جاگے ہیں تائب ، گدا کے دیکھ

عبدالغنی تائبؔ

بینائی لوٹ آئے گی باطن کی دیکھنا
معصوم عشق آقا ﷺ کا سرمہ لگا کے دیکھ

انعام الحق معصوم صابری

دردو الم کے دور میں پاحوصلہءِزیست
آقاکی زندگی کو تصور میں لا کے دیکھ

ڈاکٹر محمد ابراہیم حسان

مودود صدقہ آپ کا بخشے گا رب تجھے
سرکارِ دوجہاں کو وسیلہ بنا کے دیکھ

محمد مودود عظیم چشتی فیصل آباد

دیتے تھے دے رہے ہیں ازل سے ابد تلک
“دست طلب حضور کے آگے بڑھا کے دیکھ ۔”

این ایس شانی
صاحب صدر جناب ملک ڈاکٹر مقصود احمد عاجز نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا
جناب محمد افضل خاکسار صاحب، جناب کوثر علی صاحب، جناب محمد طاہر صدیقی صاحب، جناب منیر احمد خاور صاحب، جناب ناصر راضی صاحب، میاں منیراحمد صاحب کا سپاس گزار ہوں کہ نہ صرف انہوں اس مشاعرہ میں شرکت فرمائی بلکہ آج کے مصرعہ پر اپنےخوبصورت کلام سے بھی اس بزم کو جلا بخشی۔بالخصوص ریاض قادری صاحب نے اور جناب طاہر صدیقی نےاس مصرعہ پر انتہائی شاندار کلام عطا کئے۔ خاص طور پر جناب طاہر صدیقی صاحب نے 63 اشعار پر مشتمل کلام سنا کر محفل پر کیف طاری کر دیا ۔ زہے نصیب کہ کراچی سے ملک کے نامور نعت گو شاعر اور ثنا خوان ِ مصطفیٰ محترم جناب فیصل الحسن صاحب اس بزم میں جلوہ افروز ہوئے۔ آج کی اس بزم کی رونقیں اور یہ برکتیں انجمنِ فقیرانِ مصطفی کے بانی عاشقِ رسول حضور قبلہ حضرت فقیرِ مصطفیٰ امیرنواز رحمت اللہ علیہ کا فیض ہے ان کی توجہ ہے ۔اگرچہ میری ان سے کبھی ملاقات تو نہ ہوئی لیکن اس آستانہ کے فیوض و برکات دیکھ کر ان کے مراتب اور مقام کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور لگتا ہے کہ وہ ہماری اس بزم میں موجود ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے مقامات اور درجات میں مزید اضافہ فرمائےاور ہماری اس بزم کی حاضری قبول فرماکرذریعہ نجات بنائے اور صاحب زادہ جناب اللہ نوازمنصور اعوان صاحب کے رزق، مال جان اور اولاد میں برکتیں عطا فرمائے اور ان کی توفیقات میں مزید اضافی فرمائے آمین
مارچ 2019 میں میری کتاب وسیلہء بخشش کی رونمائی ہوئی اس وقت ادبی حلقوں میرا آنا جانا نہ ہونے کے برابر تھا۔
تقریب کے آخر پر صاحبِ صدر کو فقیرمصطفیٰ نعت ایوارڈ پیش کیا گیا ۔ انہوں نے مشاعرے کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور شعرائے کرام کا شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں