ہسپتالوں میں پارکنگ فیس ! ……………. تحریر، تنویر بیتاب

یوں تو شہر بھر میں ہر جگہ ہی پارکنگ فیس کے نام سے شہریوں سے لُوٹ کھسوٹ کا سلسلہ جاری ہے ۔ شاپنگ مالز ہوں یا واکنگ ٹریکس ، عدالتیں ہوں یا ریلوے سٹیشن ، بس اڈہ ہو یا ہوائی اڈہ ، بازار اور مارکیٹس ہوں یا کھیل کے میدان ہر جگہ گداگر اور پارکنگ کمپنی والے موجود ہوتے ہیں ۔ پارکنگ کمپنی کے نمائندے پرچی پر درج رقم سے دوگنی پارکنگ فیس وصول کرتے ہیں اور اگر کوئی شہری اعتراض کرے تو غنڈہ گردی پر اُتر آتے ہیں ۔ اُن کی طرف سے دی گئی پارکنگ سلپ پر واضح طور پر لکھا ہوتا ہے کہ “ گاڑی / موٹر سائیکل چوری ہونے کی صُورت میں کمپنی زمہ دار نہ ہو گی “ اگر سواری کی حفاظت کمپنی کی زمہ داری نہیں تو پھر کمپنی پارکنگ فیس کیوں وصول کرتی ہے ؟ یہ پارکنگ فیس تو نہ ہوئی یہ تو سیدھا سیدھا غُنڈہ ٹیکس ہی ہو گیا ۔

سب سے بُری صورت حال ہسپتالوں کی پارکنگ میں پیش آتی ہے ۔ جہاں پر جتنی بار بھی مریض کے لواحقین کو ہسپتال سے باہر جانا پڑے گا اُتنی بار ہی طے شُدہ رقم سے دوگنی اور بعض صُورتوں میں تین گُنا پارکنگ فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔ مریض کے لواحقین جو پہلے ہی پریشان ہوتے ہیں اور مریض کے ٹیسٹس اور ادویات کے مالی بوجھ کو اُٹھائے ہوتے ہیں اُن کے لئے یہ پارکنگ فیس بھی ایک ناروا مالی بوجھ ہے۔ ہسپتالوں میں لاگو یہ پارکنگ فیس ماضی کی طرح ختم کی جانی چاہئیے۔ہسپتال میں آنے والے مریضوں کے لواحقین اور تیمار داروں کے لئے ہسپتالوں میں مُفت محفوظ پارکنگ کا بندوبست ہونا چاہئیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں