23 مارچ یوم تجدید عہد وفا! ………………………. از قلم پروفیسر محمد احمد مرتضےٰ

مسلمان برصغیر پاک و ہند میں ایک فاتح کی حیثیت سے آئے تھے۔ یہاں اپنی سلطنتیں قائم کرنے کے بعد انھوں نے بڑی رواداری کا مظاہرہ کیا اور مقامی لوگوں کی نہ تذلیل کی اور نہ ہی ان سے اچھوتوں جیسا سلوک کیا۔ دنیا میں ہندوستان واحد ملک ہے جہاں مسلمان آٹھ سو سال حکمران رہے، لیکن نہ تو انھوں نے ہندوؤں کو زبردستی مسلمان بنایا اور نہ ہی ان کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی، یہی وجہ ہے کہ آٹھ سو سال حکومت کرنے کے باوجود وہ یہاں اقلیت میں رہے لیکن اس کے برعکس برصغیر میں فروری 1937 ء کے انتخابات میں ہندو پہلی دفعہ حکمران بنے اور1937 ء کے انتخابات اور اس کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال میں وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ہندو بنیوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے گرد معاشی، سیاسی، سماجی و معاشرتی گھیرامزید تنگ کرنا شروع کر دیا تھا،ذات پات، اونچ نیچ اور فرقوں میں بٹے ہوئے ہندو بنیوں نے نہ صرف مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی تھی بلکہ دیگر اقلیتوں جن میں عیسائی وغیرہ بھی شامل تھے ان کا جینا بھی دو بھر ہو گیا تھا، ایسے حالات میں مسلمانوں کو اپنی سماجی، ثقافتی، سیاسی، معاشرتی، مذہبی اور معاشی روایات کو پروان چڑھانے میں شدید مشکلات کا سامنا تھا اور یہ دو قومی نظریے کی انتہا تھی، مزید یہ کہ اقتدار کے نشے میں مست کانگریسی حکومت نے ہندو اکثریت کو رام کرنے کے لیے انتہاپسند فیصلے کیے۔ بندے ماترم جیسے مسلم مخالف ترانے کا انتخاب انہی میں سے ایک فیصلہ تھا ایسے مزید فیصلے بھی کانگریسی حکومت نے اقتدار کے نشے میں کیے جن کی وجہ سے مسلم لیگ اور مسلمانوں کو اپنی الگ پہچان اور تشخص برقرار رکھنا مشکل سے مشکل تر ہوتا گیا جواہر لعل نہرو اور گاندھی کی تقاریر بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت کے بیج بو رہی تھیں لیکن نفرت کے نتیجے میں ایک آزاد مملکت کی راہیں بھی ہموار ہو رہی تھیں۔ نہرو نے کہا کہ ہم سب ایک ہیں اور ہندوستان میں مسلمانوں کی علیحدہ کوئی شناخت نہیں۔ مسلم ثقافت کیا چیز ہے اور ہندوستان میں کہاں پائی جاتی ہے؟ بہتر یہی ہے کہ مسلمان اپنی بچی کُھچی روایات کو عظیم ہندوستانی قوم میں ضم کر دیں ان تمام تر مشکل حالات کے باوجود مسلمانان برصغیر آل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم تلے اکھٹے ہوگئے اور اپنا مستقبل حضرت قائد اعظم رحمتہ الله عليه کے ہاتھ میں دے کر دوقومی نظریے کو پروان چڑھانے کے لیے شبانہ روز کوششیں کرنا شروع کر دیں بالآخر 22 مارچ 1940 کا سورج طلوع ہوا اور آل انڈیا مسلم لیگ کے زیر اہتمام لاہور کے منٹو پارک میں عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس میں ہندوستان کے طول و عرض سے بڑی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی –

23 مارچ 1940ء کو لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ نے قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں ا یک قرارداد منظور کی جسے قرارداد لاہور کا نام دیا اور بعد ازاں قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ وہ تاریخی قرار داد تھی جو حصول آزادی کیلئے نہ صرف ایک سنگ میل کی حامل ٹھہری بلکہ اس قرارداد نے تاریخ کے دھارے کا رخ بدل کر رکھ دیا۔

یہ قرارداد شیر بنگال مولوی اے کے فضل الحق نے پیش کی اور چودھری خلیق الزمان نے اس کی تائید کی جن دوسرے عمائدین نے قرار داد کی بھرپور حمایت کی ان میں مولانا ظفر علی خان ، سردار اورنگزیب خان، عبداللہ ہارون، نواب اسماعیل خان، قاضی محمد عیسیٰ، عبدالحمید خان، ابراہیم اسماعیل چندریگر، عبدالروف اور بیگم محمد علی شامل تھے۔ اس قرارداد کی منظوری کے بعد پاکستان کے حق میں برصغیر میں ایک ایسی لہر اٹھی جسے کوئی بھی نہ روک سکا۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے نہ صرف پاکستان کا تصور دیا بلکہ یہ بھی ان کا قوم پر احسان عظیم ہے کہ انہوں نے قوم کو ایک عظیم رہنما قائد اعظم محمد علی جناح کی صورت میں دے دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ قرارداد کی منظوری کے بعد صرف سات سالوں میں ہی انگریز حکمرانوں کو برصغیر نہ صرف چھوڑنا پڑا بلکہ 14 اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر پاکستان کا نام ابھرا اور یوں 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک میں مسلمانان ہند نح جو عزم کیا تھا وہ پورا ہوا۔

ہندو، مسلمانوں کے مذہبی عقائد کے بالکل برعکس اجرام فلکی، بزرگوں کی روحوں اور بتوں کو خدائی صفات و اختیارات کا حامل سمجھتے تھے اور مانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے مخصوص اختیارات میں شریک کر رکھا ہے مسلمانوں کی طبع پر سب کچھ گراں گزرتا تھا یہ حقیقت ان کی اسلامی رویئے اور طرز حیات پر ایک کاری ضرب تھی۔ مسلمانوں کے اخلاق اور قوانین ہندوؤں سے یکسر علیحدہ تھے۔ ان کی خریدوفروخت، بول چال، کھانے پینے کی عادات اور وضع قطع سب ہندوؤں سے بالکل جدا تھیں۔ سرسید نے یہ بات واضح کر دی کہ ہندوستان ایک ملک نہیں بلکہ ایک برصغیر ہے جہاں دو قومیں آباد ہیں۔ معروف انگریز سکالر ہنڈرل مون نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ دو قومی نظریہ پیش کر کے سرسید احمد خان نے نہ صرف حقیقی مسئلے پر انگلی رکھ دی بلکہ بالاواستہ حل بھی تجویز کر دیا یعنی اگر دو قومیں ایک گدی پر نہیں بیٹھ سکتیں تو اسے کیوں نہ تقسیم کر دیا جائے۔

مسلم لیگ نے محسوس کر لیا کہ ہندو اصولوں پر قائم سیاسی اور معاشرتی نظام میں کسی مسلمان کی آزادی قائم کی ہی نہیں جا سکتی۔ وہ مسلمانوں کے خلاف مہم جوئی سے کام لے رہے تھے جس کے نتیجے میں ہر وہ دروازہ بند ہوگیا جو ہندو مسلم اتحاد کی طرف لے جاتا تھا۔ قائد اعظم نے بالآخر کہا کہ ہمارا کوئی دوست نہیں۔ نہ ہمیں انگریز پر بھروسہ ہے نہ ہندو بنئے پر، ہم دونوں کے خلاف جنگ کریں گے۔ انہوں نے جداگانہ مسلم قومیت کے تصور کو پوری محنت اور دیانت داری سے اس طرح بیان کیا کہ انگریز اور پڑھے لکھے ہندوؤں کا ایک بڑاطبقہ سمجھ گیا کہ پاکستان کی تحریک محض ایک علیحدگی کی تحریک نہیں بلکہ مسلمانوں کے قومی وجود کے قیام کی تحریک تھی۔ کانگریس کے پلیٹ فارم سے بالآخرکانگریس کمیٹی کے رکن امین سخاوت نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہندو مسلم قضیے کا حل یہی ہوگا کہ ہندوستان میں ہندو، مسلم کو دو قومیں سمجھ لیا جائے اور متحدہ قومیت کا خیال ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دل سے نکال دیا جائے۔ ہندو ایک سازش کے تحت مسلمانوں کو اپنے زیر اثر رکھنے کیلئے مشترکہ جدوجہد آزادی کی باتیں کرتے تھے تاکہ انگریز سے چھٹکارا پانے اور وطن کو آزاد کرانے کیلئے مسلمانوں کو استعمال کرسکیں اور پھر آزادی کے بعد محکومیت کی دوسری شکل میں ہندوؤں کے زیر اثر زندہ رہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان ہندوؤں کے ساتھ ایک قوم بن کر انگریز سے دفاع کی کوشش کریں۔ اس کے برعکس مسلمان غلامی کے فتنے سے نجات پا کر ایک ایسا دارالسلام چاہتے تھے جس میں اللہ کا دین اپنی پوری حکمتوں سے رائج ہو سکے۔ وہ ایسے ذرائع کی تلاش میں تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی زمین کو ایمان اور تقویٰ کا گڑھ بنا سکیں۔ 23 مارچ کے اجلاس کے بعد یہ جدوجہد حصول پاکستان ایک نئے موڑ پر آپہنچی۔ قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت، مسلمانوں کی شبانہ روز محنت، اعتماد، اتحاد اور تنظیم کی عظمت کے زیریں اصول مہر عالم تاب کی طرح چمک اٹھے اور انہوں نے حصول پاکستان کے تمام کانٹے صاف کر دیئے۔

علامہ محمد اقبالؒ کے تصور پاکستان کے خواب کے آہنی عزم نے امیدوں کے چراگ روشن کر دیئے۔ اللہ تعالیٰ نے اسلامیان ہند کو پذیرائی عطا فرمائی۔ 27 رمضان المبارک 14 اگست1947ء کو ایک نئی سلطنت اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کے نقشے پر ضوفشاں ہوگئی۔ آج ہم جب 23 مارچ کے حوالے سے یوم تجدید عہد وفا منا رہے ہیں تو ہمیں تحریک پاکستان کے محرک اور اساسی نظریے پر اپنے یقین کی تجدید کرنی چاہیے اور قائد اعظم ؒ کے فرمودات کی روشنی میں پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی اور فلاحی مملکت بنانے کے لئے اپنے تمام صلاحیتوں اور تونائیوں کو وقف کرنے کا عہد کرنا چاہیے جب تک ہم مملکت خداداد پاکستان کو آئین اور قانون کی راہ پر نہیں لائیں گے اور تمام سیاسی جماعتیں اور قائدین اور ریاستی ادارے اس بات کے عزم کا اعادہ نہیں کریں گے کہ ملک کی ترقی کا حقیقی راستہ آئین اور قانون کی حکمرانی میں ہے اس وقت تک ملک حقیقی معنوں میں اقبال ؒ اور قائداعظم ؒ کے خواب کی تشریح کرنے سے قاصر رہے گا آخر میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے اگلے برس جب ہم 23 مارچ کا دن منائیں تو ملک و قوم کی خوشحالی اور خود مختاری کا سورج طلوع ہو چکا ہو اور ہم سب اس ملک کی خدمت میں اپنا اپنا حصہ ڈالنے کے قابل ہوں اور جس آزادی اور خودمختاری کے لیے قائد اعظم ؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں مسلمانان برصغیر نے قربانیاں دیں وہ حقیقی آزادی ملک و قوم کو میسر آ سکے آمین-

خدا کرے مری ارض پاک پہ اترے وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں