سلطنت عمرانیہ…….. تحریر، اورنگزیب اعوان

ملک پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے. جس کے سیاسی حالات اور سیاستدانوں نے عوام کو ذہنی امراض میں مبتلا کر کے رکھا ہوا ہے. حکومت وقت کا کام عوام کو سہولیات کی فراہمی اور اپنی کارگردگی سے مطمئن کرنا ہوتا ہے. مگر موجودہ حکومت ہر وہ کام کر رہی ہے. جو اپوزیشن جماعتوں نے سرانجام دینا ہوتا ہے. حکومتی وزراء اور مشیر صبح سویرے ہی ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر اپنے سیاسی مخالفین پر الزامات کی بوچھاڑ شروع کر دیتے ہیں. ان کا سارا دن اسی فعل کو سرانجام دینے میں گزر جاتا ہے. دن ڈھلے جب حکومتی کارگردگی پر نظر ڈالی جاتی ہے. تو وہ سوائے صفر کے کچھ نہیں ہوتی. کیونکہ حکومتی وزراء اپنے متعلقہ محکموں کی کارگردگی کو دیکھنے کی بجائے سارا دن سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے میں گزارتے ہیں. کوئی ان کو سمجھائے کہ آپ حکومت میں ہو. الزامات لگانا حکومت کا کام نہیں ہوتا یہ فریضہ تو اپوزیشن جماعتوں نے سرانجام دینا ہوتا ہے. مگر پاکستان میں گنگا الٹی بہہ رہی ہے. یہاں ہر وہ کام جو اپوزیشن جماعتوں نے کرنا ہوتا ہے.وہ حکومت وقت سر انجام دے رہی ہے. شاید یہ دنیا کی واحد سلطنت ہے. جس کے حکمران امور حکومت چلانے کی سوجھ بوجھ نہیں رکھتے. تاریخ عالم پر نظر ڈالے تو معلوم پڑتا ہے کہ جتنا نقصان حکومتوں کو ان کے اپنے وزیروں اور مشیروں نے اپنی نالائقی اور نااہلی کی بدولت پہنچایا ہے. کسی اور نے نہیں پہنچایا. اس وقت بھی حکومت میں موجود وزراء اور مشیر اپنی نااہلی اور نالائقی کی ایک سے بڑھ کر ایک داستان راقم کر رہے ہیں. ان کے مشوروں کی بدولت حکومت کو ہر بار منہ کی کھانی پڑ رہی ہے. صوبہ پنجاب جو آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے. اس کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو محض سیاسی رنجش کی بنیاد پر آئینی معیاد پوری ہونے سے قبل ہی اپنے قلمدان سے سبکدوش کر دیا گیا.

جو پنجاب کی عوام کے ساتھ صریحاً زیادتی تھی. ان مقامی نمائندوں کا جرم صرف اتنا تھا. کہ وہ پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھتے تھے. کیا اس بنیاد پر لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جاسکتا ہے. ہرگز نہیں. مگر وزیراعظم پاکستان کے وزیر اور مشیر انہیں غلط راستے پر گامزن کرتے رہے . اور وہ ہوتے گئے . ستم ظرفی تو یہ ہے. کہ دوسال تک ادارے معطل رکھنے کے باوجود بھی نئے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہیں کیا گیا. جس کا نوٹس لیتے ہوئے. سپریم کورٹ آف پاکستان نے آج پنجاب بھر کے سابقہ بلدیاتی اداروں کو بحال کر دیا ہے. اب اینی باقی ماندہ مدت تک یہی ادارے اپنے افعال سر انجام دے گے. یہ سلطنت عمرانیہ کے حکمرانوں کے منہ پر زور کا طمانچہ ہے. تاکہ وہ خواب غفلت سے بیدار ہو جائے.یہ عوام کو باور کرواتے ہیں. کہ دو نہیں ایک پاکستان.

تو ان سے کوئی ذرا پوچھے کہ کون سا ایک پاکستان. کوئی عام پاکستانی آتشیں اسلحہ کی نمائش کرے تو اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے. مگر خاور مانیکا سر عام جدید ترین اسلحہ کی نمائش کے ساتھ ساتھ فائرنگ بھی کر رہا ہے ۔اس کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں ہوئی. اسی طرح آٹا، چینی، ادویات چور حکومت کی صفوں میں بیٹھے ہوئے ہیں. انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں. جبکہ اپوزیشن کے ارکان کو نیب کے ذریعہ سے ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے. تاکہ وہ اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کر لیں. سلطنت عمرانیہ کے حاکم وقت یاد رکھے. ایسا کرنے سے ایک پاکستان نہیں بن سکتا. چور چور ہوتا ہے. وہ چاہے اپوزیشن میں ہو یا حکومت کی اپنی صفوں میں. سب کا یکساں احتساب ہونا چاہیے. آپ خود فارن فنڈنگ کیس میں چھ سال سے چھپ رہے ہے. اب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے آپ کو فائنل نوٹس بھیجا تو آپ کورونا کا شکار ہوکر بیٹھ گئے ہے. آپ کیوں نہیں غیر ملکی فنڈنگ کا حساب کتاب دے رہے. کیا دال میں کچھ کالا ہے. سلطنت عمرانیہ میں انصاف کی صورتحال کا اندازہ اس امر سے لگا لے. کہ سیاسی مخالفین کے جائز گھر گرائے جا رہے ہیں. اور عمران نیازی کے غیر قانونی بنی گالہ کو قانونی بنانے کی غرض سے کہا جاتا ہے. کہ آپ خود سے طے کر لے کہ کیا فیس دیکر اس کو قانونی حیثیت دینی ہے. یہ معیار سب کے لیے کیوں نہیں. نیب نے اب ایک ایسا ہی کیس پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کے خلاف کھولا ہے. کہ جاتی امراء کی کئی ہزار کینال اراضی غیر قانونی طریقہ سے شریف خاندان نےاپنے نام منتقل کروائی ہے. ایسی انتقامی کارروائیاں ہمارے ملکی اداروں کا تمسخر اڑاتی ہیں. جب یہ غیر قانونی کام ہو رہا ہوتا ہے ۔اس وقت ملکی ادارے سو رہے ہوتے ہیں. جب کسی کی پگڑی اچھلنا مقصود ہو تو سب جائز کاموں کو بھی ناجائز ثابت کر دیا جاتا ہے. یہ ہے دو نہیں ایک پاکستان. وزیراعظم پاکستان آپ نے خود کو صادق اور امین کے خول میں چھپا رکھا ہے. آپ کی نظر میں ساری دنیا چور ہے. بس آپ ہی نیک اور پارسا ہے. آپ کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتے. ایسا کرنے سے سیاسی نظام نہیں چلا کرتے. آپ کو قانون سازی کے لیے سبھی لوگوں کو ساتھ لیکر چلنا ہو گا. مگر شاید ایسا کرنا آپ کے لیے ممکن نہیں. آپ کو چاہیے کہ حکومت سے مستعفی ہو کر خود کو گوشہ نشین کر لیں. کیونکہ اس دنیا میں تو ہر انسان ہی گہنگار ہے. اور آپ ٹھہرے نیک اور ایماندار. ایسے میں آپ کا اس دنیا کے ساتھ گزارا نہیں ہو سکتا. آپ سمیت آپ کے حکومتی ترجمانوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے اتحاد میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات پر بغلیں بجانا شروع کر دی. کہ اب ہمیں اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں. آپ کی یہ خوشی بھی وقتی ہی ثابت ہوئی. ہر سیاسی جماعت کا اپنا سیاسی نقطہ نظر ہوتا ہے.اور وہ اسی کے مطابق چلتی ہے. غلط پاکستان مسلم لیگ ن بھی نہیں اور نہ ہی پاکستان پیپلز پارٹی ہے. مگر اختلاف دونوں کی سوچ کا ہے. ایک سمجھتے ہے کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے سے حکومت کمزور ہو جائے گی. مگر دوسرے کا ماننا ہے کہ ایسا کرنے سے اپوزیشن کمزور ہو گی. کیونکہ اس کی عدم موجودگی میں حکومت وقت موجودہ اسمبلیوں سے من پسند بل منظور کروا لے گی. اور ہر صوبہ میں تین چار سیاسی جماعتیں مدمقابل ہیں. جو ان کی جگہ لینے کے لیے تیار بیٹھی ہوئی ہیں . جو ان نشستوں پر انتخابات جیت جائے گی. دونوں جماعتوں کے دلائل میں وزن ہے. مگر یہ سب باتیں بند کمروں میں بیٹھ کر کرنے والی ہیں. پاکستان پیپلز پارٹی کو شیری رحمان سے بازپرس کرنی چاہیے کہ اس نے پی ڈی ایم کی میٹنگ کی گفتگو باہر کیسے آؤٹ کی. اسی نے سات سینیٹر کو سید یوسف رضا گیلانی کے نام پر مہر لگانے کو کہا. جس کی وجہ سے وہ چیئرمین سینٹ کا الیکشن ہار گئے. ہر جماعت کو اپنی صفوں میں چھپی کالی بھیڑوں کو تلاش کرنا ہو گا. اسی میں ان کی سیاسی بقاء ہے. موجودہ حکومت کو بھی ہوش کے ناخن لینا ہو گا. اسے کیسی سیاسی جماعت سے خطرہ لاحق نہیں. اسے اپنے ہی نااہل وزیروں اور مشیروں کے ہاتھوں شکست فاش سے دوچار ہونا پڑے گا. ان کے وزراء کی چرب زبانی جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہے. یہ حالات کو کسی بھی صورت بہتری کی طرف نہیں جانے دینا چاہتے. کیونکہ اگر حالات ساز گار ہو جاتے ہیں. تو ان سیاسی یتیموں کی دکانداری ختم ہو جائے گی اور یہ بے روزگار ہو جائے گے. وزیراعظم عمران خان کی بدقسمتی ہے. کہ انہوں نے حکومتی وزراء اور مشیر ایسے لوگوں کو تعینات کیا ہوا ہے. جو آج تک کونسلر نہیں بنے. جہنیں عوام کو درپیش مسائل و مشکلات کا کوئی ادراک نہیں. سلطنت عمرانیہ اپنی غلط پالیسیوں کے بوجھ تلے ہی دب کر دفن ہو جائے گی. اسے دفن کرنے کے لیے کسی کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں.

کون ڈوبے گا کسے پار اترنا ہے.
فیصلہ وقت کے دریا میں اتر کر ہو گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں