سیاسی ڈربی……… تحریر، اورنگزیب اعوان

زمانہ قدیم ہی سے گھڑ سواری کو شان و شوکت کی علامت سمجھا جاتا ہے. موجودہ دور میں بھی دولت مند، رئیس، نواب، چوہدری، جاگیردار گھڑ سواری کو اپنے لیے باعث فخر محسوس کرتے ہیں. ان لوگوں نے اپنے شوق کی تسکین کے لیے اعلیٰ نسل کے گھوڑے رکھے ہوئے ہیں. یہ لوگ اپنے اعلیٰ نسل گھوڑوں کی نمود و نمائش کی غرض سے گھڑ سواری کے مقابلہ جات منعقد کرواتے ہیں. جن کو دور جدید میں ڈربی کا نام دیا جاتا ہے. ملک پاکستان میں ایک مقتدر حلقہ بھی اس شوق کا بہت دلدادہ ہے. وہ اپنے اس شوق کی تسکین کے لیے اعلیٰ نسل کے گھوڑوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ نسل کے سیاستدان کی پرورش بھی کرتے ہیں. . اس مقتدر حلقہ کا دنیا بھر میں کوئی ثانی نہیں. یہ اپنے شوق و دل لگی کے لیے انسانوں کے درمیان مقابلہ جات منعقد کرواتے ہیں. جو ان کا زیادہ وفا دار ہوتا ہے. اسے فتح سے ہمکنار کروا دیا جاتا ہے. مگر ہمارے سیاستدان اور عوام اس قدر معصوم ہیں. کہ وہ ایک دوسرے پر افترا پردازی کرتے ہیں. کہ وہ سلیکٹڈ ہے. حالانکہ سبھی کی سیاست کی شروعات سلیکٹڈ سے ہی ہوئی ہے. یہ بعد کی بات ہے. کہ جب ان کے مقابلہ میں کسی اور پر مقتدر حلقہ کی نظر کرم ہو جاتی ہے. تو یہ باغی بن جاتے ہیں. موجودہ ملکی سیاسی حالات اسی صورتحال کی منظر کشی کر رہے ہیں.

حکمران اور اپوزیشن اتحاد ایک دوسرے کو سلکٹیڈ ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں. اب تو اس بحث کا آغاز اپوزیشن اتحاد کی جماعتوں کے درمیان بھی چھڑ گیا ہے. پی ڈی ایم (پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ) کے درمیان سینٹ الیکشن پر بڑی دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئ ہے. اپوزیشن جماعتوں کا یہ اتحاد حکمران جماعت اور اس کے اتحادیوں کو اقتدار کے ایوانوں سے باہر کرنے کے لیے بنا تھا. مگر یہ اپنے نصیب العین سے بھٹک کر ذاتی مفادات کی جنگ میں الجھ کر رہ گیا ہے. اسٹیبلشمنٹ نے ان کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی غرض سے انہیں حکومتی عہدوں کی لالچ دینا شروع کی. جس کو پاکستان مسلم لیگ ن نے یکسر مسترد کر دیا. مگر پاکستان پیپلز پارٹی ان کے جال میں پھنس گئ. اور اس نے چیئرمین سینٹ کے لیے سید یوسف رضا گیلانی کو اپنا امیدوار نامزد کر دیا. پی ڈی ایم میں شامل دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بھی ان کے لیے حمایت کے لیے جدوجہد کی گئی. پاکستان مسلم لیگ ن نے اسلام آباد سے اپنے امیدوار کو دستبردار کرکے سید یوسف رضا گیلانی کی حمایت کی یقین دہانی کروائی اور قومی اسمبلی میں اپنے 83 ایم این ایز کے ووٹ سید یوسف رضا گیلانی کو ڈالے. جس کی بدولت سید یوسف رضا گیلانی سینیٹر منتخب ہونے میں کامیاب ہوگئے. مگر اسلام آباد سے خواتین کی سینٹ سیٹ سے پاکستان مسلم لیگ ن کی امیدوار کو شکست سے دوچار ہونا پڑا. جس کو پاکستان مسلم لیگ ن نے کھلے دل سے تسلیم کر لیا. اس کے بعد سینٹ کے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے لیے میدان سجا. جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینٹ اور جمعیت علمائے اسلام ف کے غفور حیدری ڈپٹی چیئرمین کے امیدوار تھے. اس موقع پر بھی بڑی دلچسپ اور ڈرامائی صورتحال دیکھنے کو ملی. سید یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن کے تمام کے تمام ووٹ کاسٹ ہوئے. مگر ریٹرننگ آفیسر نے بد نیتی کے تحت سات ووٹوں کو محض اس لیے مسترد کر دیا کہ مہر امیدوار کے نام پر لگی ہوئی ہے. حالانکہ یہ کوئی معقول وجہ نہیں تھی. مگر اسی الیکشن میں غفور حیدری کو سات ووٹ اپوزیشن جماعتوں کے کل ووٹ سے بھی کم پڑے . جس پر وزیر داخلہ شیخ رشید ایک نجی ٹی وی چینل پر کہہ چکے ہیں. کہ ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن میں بہت پیسہ چلا ہے . عفور حیدری بیچارہ غریب آدمی تھا. سید یوسف رضا گیلانی اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اس سینٹ الیکشن کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعادہ کیا. مگر اندر ہی اندر اپوزیشن لیڈر کے لیے جوڑ توڑ شروع کر دیا. یہ ذہنی طور پر شکست تسلیم کر چکے تھے. حالانکہ سینٹ کے اپوزیشن لیڈر کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن نے اپنا امیدوار دینا تھا. جو پی ڈی ایم کے اجلاس میں فارمولا طے پایا تھا. اس کے تحت. مگر پاکستان پیپلز پارٹی اس وعدہ سے انحراف کر گئی. اور حکومت کی مدد سے اپنی اکثریت شو کر کے سینٹ میں اپوزیشن لیڈر سید یوسف رضا گیلانی کو بنوا لیا . پاکستان پیپلز پارٹی نے پہلی بار ایسا نہیں کیا.

اسلام آباد کی سینٹ کی خواتین نشت پر، پھر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے موقع پر اپنی اتحادیوں سے دھوکہ دہی کی گئی. اسی طرح سے ایک بار پہلے بھی آصف علی زرداری نے میاں محمد نواز شریف سے وعدہ کر کے وعدہ خلافی کی تھی. اور جواب میں کہا تھا. کہ معاہدات کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہوتے. سینٹ اہوزیشن لیڈر کو لیکر پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان الفاظ کی گولہ باری شروع ہو گئی ہے. پاکستان پیپلز پارٹی والے اعظم تارڈ کے نام پر اعتراض کرتے ہیں. کہ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کا وکیل ہے. اس لیے ہم اسے ووٹ نہیں دے سکتے. تو انہیں کوئی سمجھائے. کہ وکیل نے تو فیس لیکر کیس لڑنا ہوتا ہے. اس کی کسی سے ذاتی رنجش نہیں ہوتی. چلے پاکستان پیپلز پارٹی کے موقف کو درست بھی مان لیا جائے تو کیا اخلاقی طور پر انہیں مریم نواز شریف کو کہنا نہیں چاہیے تھا کہ آپ اپنا امیدوار تبدیل کر لیں. ہمارے اس پر تحفظات ہیں. پاکستان مسلم لیگ ن میں ایک سے بڑھ کر ایک قابل انسان ہے. مصدق ملک، عرفان صدیقی جیسے بے شمار لوگ ہیں. جن کی قابلیت پر کسی کو کوئی شک نہیں. مگر یہ تو پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے ایک بہانہ تھا. اصل میں سید یوسف رضا گیلانی مقتدر حلقوں کا گھوڑا تھا جس کو سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت سینٹ میں لایا گیا ہے.

گھوڑوں پر غصہ نکالنے کی بجائے
اصطبل کو گرانا ہو گا.

پاکستان مسلم لیگ ن غصہ میں لال پیلی ہو رہی ہے اور سید یوسف رضا گیلانی اور پاکستان پیپلز پارٹی کو برا بھلا کہہ رہی ہے. یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کے گھوڑے ہیں. اور جب اسٹیبلشمنٹ کسی گھوڑے پر سواری کا پختہ ارادہ کر لیتی ہے. تو پھر وہ مردہ گھوڑے میں بھی جان ڈال دیتی ہے. عمران خان کو انہوں نے جتنا استعمال کرنا تھا کرلیا. اب وہ کسی نئ سواری کی تلاش میں ہیں. عمران خان نے بطور وزیراعظم جتنی غلطیاں سرزد کی ہیں. ان کا حساب کون دے گا. کشمیر کو سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت بھارت کے سپرد کر دیا گیا. اب بھارتی وزیر اعظم انہیں محبت بھرے خط لکھ رہا ہے . یہ بھی ان کو مودی بھائی کہہ کر بلا رہے ہیں. میاں محمد نواز شریف اپنے گھر کو صاف کرنے بات کرے تو غدار. خود کرے تو محب الوطن. چین کے ساتھ سی پیک کے منصوبے کو عملاً سبکدوش کر دیا گیا ہے. جس کے نتیجہ میں چین کے وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ پچیس سالہ تجارتی معاہدہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ وہ ملک نہیں جو ایک فون کال پر لیٹ جاتا ہے. اس کا اشارہ پاکستان کی طرف تھا. مہنگائی کی تمام کی تمام ذمہ داری وزیر خزانہ شیخ حفیظ کے کندھوں پر ڈال کر خود عوام کی نظروں میں بری الذمہ ہونا چاہتے ہیں. تو شاید انہیں معلوم نہیں کہ اب عوام ان کے کسی بہکاوے میں نہیں آنے والی. مقتدر حلقے بھی حکومت کی ان نااہلیوں سے بخوبی واقف ہو چکے ہیں. اس لیے انہوں نے اب اس لولے لنگڑے گھوڑے سے جان چھوڑانے کا پختہ عزم کر لیا ہے. اب وہ کسی نوجوان اور صحت مند گھوڑے پر سواری کے خواہش مند ہیں.

پاکستان پیلز پارٹی ان کو یہ سہولت فراہم کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار بیٹھی ہے. پاکستان مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام ف و دیگر اپوزیشن جماعتیں عوام کی حق حکمرانی پر یقین رکھتے ہوئے. متقدر حلقوں سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کرنے کو تیار نہیں. میاں محمد نواز شریف تین بار وزیراعظم رہ چکے ہیں وہ متقدر حلقوں کی ہر چال سے اچھی طرح واقف ہے. انہیں اقتدار کی کوئی ہوس نہیں. یہ تو اب عوام کی حق حکمرانی کی جنگ لڑنا چاہتے ہیں. ورنہ اقتدار کی پیشکش تو انہیں بھی کی جا رہی ہیں. مگر وہ اپنے اصولی موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں . اس وقت پر جو شخص بھی اپنے اصولی موقف سے پیچھے ہٹے گا. وہ ماضی کا قصہ بن کر رہ جائے گا. پاکستان پیپلز پارٹی اصول پسند سیاسی جماعت ہے. اسے وقتی فائدہ کے لیے اپنے شہداء کے خون سے غداری ہرگز نہیں کرنی چاہیے. اگر اقتدار ہی پاکستان پیپلز پارٹی کا مقصد ہوتا تو ذوالفقار علی بھٹو پھانسی نہ جھولتے. اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نہ ہوتی. بلاول بھٹو زرداری آپ کے کندھوں پر شہداء کی لعشوں کا وزن ہے. آپ ان کا سودا نہیں کر سکتے. ساری سیاسی جماعتیں بھی قافلہ جمہوریت سے الگ ہو جائے تب بھی آپ کو راہ حق پر چلتے رہنا چاہیے اسی میں جمہوریت پسند قوتوں کی جیت ہے. ماضی میں سبھی نے متقدر حلقوں کی سواری بن کر دیکھ لیا ہے. مطلب پورا ہوتے ہی
یہ ان کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں. خدارا تمام جمہوریت پسند قوتوں سے ہاتھ جوڑ کر التجا ہے. کہ کاروان جمہوریت کو منزل مقصود تک پہچانے کے لیے اپنا اپنا مثبت کردار ادا کریں.

باطل سے مری جنگ ہے. میں غازی حق ہوں.
میں کام لیا کرتا ہوں. خنجر کا قلم سے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں