موت کا وائرس ! ………………..تحریر، ممتاز علی

آج پوری دنیا کو کورونا کے وائرس نے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ نظام زندگی معطل ہے۔ دنیا کی معشیت اور سٹاک مارکیٹس کریش ہوگئی ہیں۔ قدرت کا اپنا ہی طریقہ کار ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ کورونا وائرس کا علاج ممکن ہوجائے گالیکن موت ایک حقیقت ہے پوری دنیا کے سائنس دان اور ڈاکٹر مل کر بھی موت کے وائرس کا قیامت تک کوئی بھی علاج دستیاب نہیں کر سکےں گے۔ جتنا مرضی بچ لیں ، بچ بچ کر بھی ایک نہ ایک دن موت نے مجھے اور آپ کو دبوچ لینا ہے۔انسانوں کا مر جانا ایک سچی حقیقت ہے ۔ کسی نہ کسی طرح انسانیت کی خدمت ضرور کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے میں سے ہی کچھ نہ کچھ دے کر مستحق لوگوں کی ہمیں ضرور مدد کرنی چاہیے۔
احتیاط بہت ضروری ہے ہر قسم کی وبا سے بچنا چاہیے لیکن مرنے کے خوف سے ہی نہ مرجانا چاہیے۔ موت کا وقت مقرر ہے اس نے آنا ہے اور ہم سب نے جانا ہے۔ ایسی موت سے پناہ مانگنی چاہیے جس کے جنازہ میں کوئی شرکت کرنے والا نہ ہو۔ کورونا وائرس نے ان ممالک جن کا درجہ حرارت 15 سینٹی گریڈ سے کم ہے اُن کو زیادہ متاثر کیا ہے۔ پیرانہ سالی پر اس نے کڑے وار کیے ہیں۔ وہ لوگ زیادہ مرے ہیں جو شراب اور سگریٹ کثرت سے پیتے ہیں اور بغیر ٹینشن کے خوشگوار زندگی گزارتے ہیں ان کیلئے کسی قسم کا سٹریس ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ کورونا کا خوف ان پر حاوی ہو گیا ہے۔

مسلمانوں کو دنیا میں آنکھ ، ناک، کان اور گلے کی بیماریاں سب سے کم ہیں وجہ یہ ہے کہ وہ وضو کرتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنا ایک نظام ہے دنیا ایک ہارڈویئر اور نظامِ دنیا اس کا سافٹ ویئر ہے ۔ ہم نے فطرت کے خلاف کیا کچھ نہیں کیا ۔ یہ گاڑیاں ، کارخانے ، ملیں ان کا دھواں ، جنگیں اور جنگلات کی آگ نے فضا کو آلودہ کر کے رکھ دیا ہے۔ آپ کسی کو گاڑی چلانے سے منع کر کے دیکھ لیں وہ کبھی بھی آپ کی بات نہیں مانے گا۔ جب کوئی جانور مرتا ہے تو اس کا تعفن ناقابل برداشت ہوجاتا ہے لیکن نظامِ قدرت متحرک ہو جاتا ہے۔ گِد جو کہ ایک پرندہ ہے اس مردار گوشت اور باقیات کو کھا جاتی ہیں۔ بارش اس تعفن کو دھو کر بدبو ختم کر دیتی ہے ۔یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہم نے فضا کو جتنا آلودہ کر دیا ہے اس کو ایک دفعہ صفائی کی ضرورت ہو۔
کورونا کے خوف کی وجہ سے دنیا نے ہر چیز کو بند کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی فضا کو ریفریش (Refresh) اور اوزون کی تہہ کو پھر سے بہتر کرنا ہوتاکہ جانداروں کا نقصان کم سے کم ہو جائے ۔

مسلمانوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کریں ، اپنی اپنی چھوڑ کر اس کی مانیں۔ وہ کبھی بھی مایوس نہیں کرتا ۔ انسانیت کی بھلائی کیلئے دعائیں مانگیں ، ہر مرض کی شفا اسی نے دینی ہے، احتیاط اور دوا سنّتِ نبوی ہے لیکن صحت اور تندرستی وہی عطا کرتا ہے ۔ جتنے وائرس آپ کے اردگرد ہیں زرا ان کا تصور کریں ۔ ہمارے گلی، محلے ، سڑکیں اور بازاروں میں کتنی غلاظت ہوتی ہے ۔ ہماری طرزِ زندگی کے ہر طرف وائرس ہی وائرس ہیں پھر بھی زندگی کا پہیہ رواں دواں رہتا ہے۔ یہ سب اللہ کے فضل کی وجہ سے ہے وہ ناراض ہے اس کو راضی کریں ، وہ مانتا ہے وہ مان جائے گا ۔ ہم سے پہلی قوموں پر بھی اللہ کے عذاب نازل ہوئے ہیں جنہوں نے ہر چیز کو تہس نہس کر دیا تھا۔ یہ عذاب نہیں بلکہ آزمائش اور امتحان ہے۔ کوشش کریں کہ آپ بھی کسی نہ کسی طرح اس امتحان میں کامیاب ہو جائیں۔ مرنا ہے مرجانا ہے موت کے وائرس کا قیامت تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوگا۔ موت کے وائرس کا خوف ہی سب دنیاوی وائرسوں کا بہترین علاج ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں