پروفیسر محمد حنیف مرحوم ک ا57 واں یوم پیدائش ، ساری زندگی کیا پیغام دیتے رہے؟؟


تحریر، پروفیسر ریاض احمد قادری

آج 5- اپریل 2021 فزکس کے عظیم استاد اور عظیم انسان جناب پروفیسر محمد حنیف مرحوم و مغفور کا 57 واں یوم پیدائش ہے وہ آج اگر حیات ہوتے تو اپنی 57 ویں سالگرہ منا رہے ہوتے۔ آپ ان کی مغفرت کی دعا فرمائیں – ان کے چاہنے والے اور شاگردان ان کے ایصالِ ثواب کے لئے قرآن خوانی کریں اور ان کی روح اور ان کے والدین کی ارواح کو ایصال ثواب فرمائیں ۔انہیں ہم سے بچھڑے ساڑھے نو سال ہو چکے ہیں وہ 2 ستمبر 2011 کو داعی ء اجل کو لبیک کہہ گئے تھے۔

جناب پروفیسر محمد حنیف ؒ 2 –اپریل 1964 کو بابا جی سراج دین قادری ؒ کے ہاں چاندنی چوک غلام محمد آباد فیصل آباد میں پیدا ہوئے وہ اپنے والدین کے اکلوتے چشم و چراغ تھے۔ ان کے والدین سلسلہ قادریہ عالیہ فاضلیہ 122 گ ب جڑانوالہ فیصل آباد میں بیعت تھے اور پیروں کے بہت عقیدت مند تھے۔

وہ اپنے والدین کی اکلوتی نرینہ اولاد تھے۔ ان کی والدہ ان سے بہت محبت کرتی تھیں۔جب تک رات کو پڑھتے رہتے والدہ جاگتی رہتیں۔ ان کے والد ان کے بغیر ایک پل بھی نہ رہتے تھے۔ ان کی تمام بڑی بہنیں انہیں اپنی اولاد سے بھی بڑھ کر پیار کرتی تھیں۔ ان سب کو یقین کامل تھا ان کا بیٹا کامیاب ہوکر ایک دن بڑا آدمی ضرور بنے گا والد صاحب انتہائی محنتی انسان تھے۔ وہ ایک مزدور تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنے۔انہوں نے اپنی تمام جمع پونجی، تمام توانائی اور تمام تر توجہ اپنے بیٹے پر صرف کردی۔ انہیں گورنمنٹ نیو ماڈل ہائی سکول غلام محمد آباد میں داخل کروایا گیا جہاں وہ ہر کلاس میں اول آتے تھے۔ ان کی تمام تر توجہ اپنی پڑھائی پر مرکوز ہوتی تھی، نہایت محنتی اور ذہین طالب علم ہونے کی وجہ سے اپنے اساتذہ کی آنکھ کے تارے بھی بن گئے۔ انہوں نے والدین کے کام میں ہاتھ بٹانے کا سلسلہ ایک دن بھی نہ چھوڑا۔تعلیم کے ساتھ ساتھ محنت اور گھر کا کام بھی کرتے رہے۔1979 میں انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور اپنے سکول میں اول رہے۔ پھر انہوں نے ایف ایس سی کیلئے گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں داخلہ لیا اور 1981 میں ایف ایس سی اور پھر 1983 میں بی ایس سی کے امتحانات اسی کالج سے پاس کر لئے پھر پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ایم ایس سی ریاضی میں داخلہ لے لیا لیکن والدین کی جدائی برداشت نہ کرسکے تو ان کی محبت سے مجبور ہو کر لاہور چھوڑ دیا پھر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ایم ایس سی فزکس میں داخلہ لیا اور 1986 میں امتیاز کے ساتھ ایم ایس سی فزکس کی ڈگری حاصل کی۔ ایم ایس سی میں انہوں نے سولر پینل شمسی چولہا تیار کیا۔ جو آج ہر گھر کی ضرورت اور لوڈ شیڈنگ کا بہترین توڑ ثابت ہوچکا ہے۔ اس وقت اتنا عام نہیں تھا اسی شمسی چولہا کی بنیاد پر ان کی سیلیکشن پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں بطور سائنس دان فزکس بھی ہو چکی تھی لیکن انہیں درس و تدریس کا پیشہ زیادہ پسند تھا وہ ایک استاد بننا چاہتے تھے ۔

پنجاب پبلک سروس کمیشن میں لیکچرر فزکس کی پوسٹیں آئیں تو آپ نے بھی اپلائی کیااور سیلیکٹ ہو گئے آپ نے 27۔ اکتوبر 1987 کو گورنمنٹ کالج میانوالی میں جائن کیا۔ 1990 میں آپ کی شادی ہوئی۔ 6۔ اگست 1990 کو ٹرانسفر ہو کر گورنمنٹ ٹی آئی کالج ربوہ میں آگئے یہاں سے آپ روزانہ فیصل آباد آجایا کرتے تھے۔14 نومبر 1994 کو ڈائریکٹ اسسٹنٹ پروفیسر سیلیکٹ ہوکر گورنمنٹ پوسٹ گریجو ایٹ کالج سمن آباد فیصل آباد تعینات ہوئے۔۔

آپ نے پروفیسر سید وقار حیدر بخاری اور پروفیسر چودھری عبدالرؤ ف کے اشتراک سے سائنس اکیڈمی کھولی جو غلام محمد آباد کی کامیاب ترین اکیڈمی ثابت ہوئی۔آپ کی تدریس کی بدولت سینکڑوں طلبہ و طالبات ڈاکٹر اور انجینیئر بن گئے۔ ان کے پڑھائے ہوئے دوعدد ڈاکٹر صاحبان ہمارے گھر میں بھی ہیں ( میرے بھائی ڈاکٹر نیازاحمد قادری اور بہن ڈاکٹر صفیہ مغل ) ان کے نوٹس بہت مشہور ہوئے۔ان کے دن کا آغاز صبح تین بجے ہوتا تھا وہ پہلے تہجد کی نماز ادا فرماتے پھر اپنے نوٹس اپنے ہاتھوں سے تحریر فرماتے پھر فجر کی نماز ادا کرتے۔ پھر اپنی اکیڈمی چلے جاتے اور کالج جانے سے پہلے پہلے دوتین گروپ پڑھا لیتے۔ کبھی کبھار وقت ملتا تو صبح کی سیر گلشن پاک چاندنی چوک میں کرتے جہاں ان کے چاہنے والوں کا ایک حلقہ احباب تھا ۔ان کے نوٹس بعد میں چودھری غلام رسول اینڈ سنز اردو بازار لاہور کی کرنٹ سیریز مین مرزا غلام محمد بیگ کی نگرانی میں کتابوں کی شکل مبں شائع بھی ہوئے۔ مرزا غلام محمد بیگ میرے دوست تھے اور میں نے انہیں پروفیسر محمد حنیف مرحوم کے بارے میں بتایا تھا پھر انہوں نے ان سے کتب کی اشاعت کے سلسلے میں رابطہ کیا۔انہیں فزکس کے کلئے اور فارمولے فنگر ٹپس پر یاد تھے۔ وہ فزکس کے قابل ترین استاد کے طور پر مشہور ہوئے۔اللہ نے ان کو بہت زیادہ عزت بخشی اور وہ جولائی 2008 کو انہیں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر ترقی ملی اور وہ گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج آف سائنس فیصل آباد میں جائن کر گئے۔وفات سے قبل انہوں پروفیسر چودھری محمد منیر احمد سے مل کر الخیر اکیڈمی بی بلاک غلام محمد آباد قائم کی جو آج بھی ان کی یادگار ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں پانچ بیٹوں محمد عثمان حنیف، محمد سلمان حنیف، محمد حسان حنیف، محمد عفان حنیف اور محمد ثوبان حنیف سے نوازا۔

31اگست 2011 بروز بدھ کو عید الفطر تھی وہ خوش خوش ہم سب سے عید ملے ہم نے الٰہی مسجد میں نماز عید ادا کی کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ ان کی آخری عید ہے۔عید کے تیسرے دن وہ ہمارے ساتھ ہی الٰہی مسجد مدینہ چوک غلام محمد آباد میں نماز جمعہ پڑھ رہے تھے۔ گھر آتے ہی ان کی طبیعت خراب ہوئی۔ ان کی سانس رک گئی ان کے بیٹے انہیں الائیڈ ہسپتال لے گئے اور وہ وہیں نمازِ عصر کے وقت اللہ کو پیارے ہو گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وعدہ آگیا اور وہ شہر بھر کو روتا چھوڑ کر اپنے خالقِ حقیقی کے پاس چلے گئے۔ ان کے انتقال کی خبر شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ان کے ہزاروں شاگرد ، دوست ، محلہ دار اور چاہنے والے ان کے گھر پہنچ گئے۔ رات دس بجے بڑے قبرستان غلام محمد آباد میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ اتنا بڑا جنازہ اس سے پہلے کم ہی کسی نے دیکھا ہوگا۔انہیں بڑے قبرستان غلام محمد آباد میں سپردِ خاک کیا گیا۔

وہ انتہائی با اخلاق شخصیت تھے۔ وعدے کے پکے، با اصول، وقت کے پابند، ملنسار، منکسرالمزاج، انتہائی مہمان نواز،فرض شناس، اور ایمان دار، محبِ وطن، اپنے مضمون پر مکمل دسترس، انکا مضمون انہیں انگلیوں پر یاد تھا۔پڑھانے پر مکمل کمانڈ، تدریسی عمل میں طاق اور اعلی انسانی قدروں کا مرقع تھے ۔طلبہ و طالبات میں نظم و ضبط پیدا کرنے اور ان میں اخلاقی اقدار کو ابھارنے میں ان کا اہم کردار ہے۔ صرف سبق ہی نہیں پڑھاتے تھے بلکہ اخلاق بھی سکھاتے تھے۔ دوستوں کے دوست، ماں باپ کے تابع فرمان، ماں باپ کی اجازت کے بغیر ایک قدم بھی نہیں اٹھاتے تھے۔کالج میں ان کو جو بھی ذمہ داری سونپی گئی انہوں نے اسے بطریق ِ احسن پورا کیا سمن آباد کالج میں انہیں بجلی اور تعمیرومرمت کا انچارج بنایا گیا وہ اسے ادا کرنے کیلئے بے چین رہتے تھے۔ کالج میں گھوم پھر کر دیکھتے کہ کونسا پنکھا خراب ہے کونسا بلب فیوز ہوگیا ہے۔فزکس کے ٹی کلب کے بھی انچارج تھے۔ان کے دور میں فزکس کا شعبہ کالج کا سب سے بڑا ٹی کلب تھا اور انتہائی مہمان نواز شعبہ ۔ ہر آنے والے پروفیسر کی خدمت میں چائے پیش کی جاتی ۔ دیگر شعبوں کے استاد بھی فزکس کے ٹی کلب کا ممبر بننا پسند کرتے تھے۔ غلام محمد آباد کی سبزی منڈی سے تھوک کے حساب سے پھلوں کی پیٹیاں لاتے اور دوستوں کو کھلاتے۔ ان کے ہونے سے بہاریں ہی بہاریں تھیں۔جو ایک بات کہہ دیتے اس پر ڈٹ جاتے پھر نہ اپنا قول بدلتے نہ اپنی بات۔

طالب علموں کو دیکھتے ہی بتا دیتے اس کے کتنے نمبر آئیں گے بعد میں جب رزلٹ آتا تو ان کی بات سو فیصد درست ثابت ہوتی۔کبھی لالچ نہ کرتے۔ قناعت پسند تھے۔ کبھی دو سے زیادہ گروپ نہ بناتے۔ یتیم اور غریب بچوں کی فیس اپنی جیب سے ادا کرتے۔ کتابیں بھی خرید کر دیتے۔بہت سے ایسے بچوں کو میں نے ان کی سرپرستی سے انجنیئر اور ڈاکٹر بنتے دیکھا جن کے والدین اپنی غربت کی وجہ سے ان کو میٹرک کے بعد کام پر لگانا چاہتے تھے۔ صبح کی سیر کے شوقین تھے۔ چاندنی چوک غلام محمد آباد کے گلشن پارک میں بھی روزانہ صبح کی سیر کے لئے جاتے وہاں بھی سیر کرنے والوں کا ایک گروپ بنا ہوا تھا۔ان کو بھی ہفتہ وار ناشتہ کرواتے۔ جب کوئی اور دوست بھی ناشتہ کا اہتمام کرتا تو حنیف صاحب وہاں ناشتہ تقسیم کرنے کی خدمت سرانجام دیتے اور سب کو کھانا پلیٹوں میں ڈال کر دیتے خود نہ کھاتے یا آخر پر تھوڑا سا کھا لیتے۔ پرہیزی کھانا کھاتے تھے۔ دوسروں کو کھلا کر انہیں زیادہ خوشی ہوتی تھی۔ خود کھانے کا اتنا لالچ نہ کرتے۔ ہمیشہ کہا کرتے جس کا جتنا رزق ہے جب اس نے وہ رزق کھا لیا یا اکٹھا کر لے گا وہ اس دنیا سے رخصت ہوجائے گا۔وہ خود اپنے اس قول کی عملی مثال بن گئے۔ ان کو 24 سال کی عمر میں ملازمت ملی تھی تقریباََ 24 سال ہی سروس کرکے 47 سال کی جواں عمری میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ خدا انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے آمین۔

ان کے صاحبزادوں میں سے محمد عثمان حنیف نے سروس شروع کی ہے۔ حافظ محمد سلمان حنیف نے بی ایس آنرز فزکس کیا ہے اور باپ کے نقشِ قدم پر چل پڑا ہے۔ اور ابو کی بنائی ہوئی الخیر اکیڈمی غلام محمد آباد چلا رہا ہے اور ایک پرائیویٹ کالج میں لیکچرر ہے محمد حسان حنیف نے بی ایس آنرز ریاضی کیا ہے وہ بھی الخیر اکیڈمی میں پڑھاتا ہے ۔ محمد عفان حنیف ایم بی بی ایس کر رہا ہے اور ڈاکٹر بن کر اپنے باپ دادا اور والدہ کی آرزو پورا کررہا ہے ۔ سب سے چھوٹا محمد ثوبان حنیف ایف ایس سی کررہا ہے۔ دعا ہے پروفیسر محمد حنیف کا یہ باغ پروار اور چمن ہمیشہ پھلا پھولا رہے کیونکہ جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے پروفیسر محمد حنیف نے پالے ہیں

پھلا پھولا رہے یارب چمن میری امیدوں کا
جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں

آج ان کی 57ویں سالگرہ پر ان کی بخشش و مغفرت کی لئے سب دعا فرمائیں
دعا ہے اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ان کی والدین کو بھی جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل کی دولت عطا فرمائے ۔ آمین

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پنہاں ہو گئیں
وے صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں
اب دیکھنے کو جنکو آنکھیں ترستیاں ہیں
ان کو منظوم خراجِ تحسین بھی پیش کیا ہے یہ بھی آپ کی نذر کر رہا ہوں
صدق و خلوص اور محبت کے تذکرے
ہر اک زباں پہ ہیں تری چاہت کے تذکرے

تفویضِ علم و فیضِ محبت میں جو ہے کی
ہوتے ہیں تیری اعلیٰ سخاوت کے تذکرے

جو طالبانِ علم کو سیراب کر گئی
جاری ہیں تیری چشمِ عنایت کے تذکرے

تدریسِ علم تیری عبادت رہی مدام
روشن ہیں دل میں تیری عبادت کے تذکرے

تو بھی عظیم تھا تری باتیں بھی تھیں عظیم
بزمِ جہاں میں ہیں تری عظمت کے تذکرے

افسانہ و فسوں سے نہیں کچھ غرض مجھے
تحریر کر رہاہوں حقیقت کے تذکرے

میرے لئے جو باعثِ اعزاز ہے ریاضؔ
کرتا ہوں میں حنیفؒ کی شفقت کے تذکرے

( (ریاض احمد قادری- گورنمنٹ گریجو ایٹ کالج سمن آباد فیصل آباد 5۔ اپریل2021 پیر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں