بلاجواز مہنگائی ، حکومت پنجاب کے انسدادی اقدامات ! تحریر،محمد اویس عابد (انفارمیشن آفیسر)

وزیراعظم عمران خان نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے جا مہنگائی اور ناجائز منافع کا سخت نوٹس لیکر متعلقہ حکام کو عوام کی مشکلات کو فوری دور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں اس پر حکومت پنجاب پوری تندہی سے عملدرآمد کررہی ہے اس سلسلے میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے صوبہ کی تمام تر انتظامی مشینری کو متحرک کر رکھا ہے تاکہ پرائس کنٹرول میکنزم پر کامیاب عملدرآمد کویقینی بنا کر عوام کو ریلیف فراہم کیا جاسکے۔حکومت پنجاب مارکیٹ میں روز مرہ استعمال کی ضروری اشیاء کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے علاوہ صارفین کے معاشی ریلیف کے لئے ہمہ جہت اقدامات کررہی ہے جن کی کامیابی کے لئے موثرانداز میں مانیٹرنگ بھی کی جارہی ہے۔پنجاب کابینہ کمیٹی صوبہ کی تمام ڈویژن وضلعی انتظامیہ کے ساتھ روزانہ ویڈیو لنک کانفرنس کے ذریعے رابطے میں ہے جس میں پھلوں،سبزیوں،دالوں،چاول،چینی،آٹا اور دیگر اشیاء کی عام مارکیٹوں،غلہ منڈی اور سبزی منڈیوں کی قیمتوں کا موازنہ کرنے کے علاوہ اشیاء کی دستیابی اور عوامی طلب ورسد کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ کسی شے کی قیمت اسکی دستیابی کے مطابق نظروں سے اوجھل نہ رہے اور سرکاری ادارے بھی فعال ومتحرک رہیں۔

پنجاب کابینہ کمیٹی برائے پرائس کنٹرول مختلف اشیاء ضروریہ کی عام مارکیٹوں میں قیمت فروخت،دستیابی کی صورتحال،کوالٹی اور انتظامیہ کی کارکردگی کے بارے میں خفیہ اداروں کی رپورٹس سامنے رکھ کر انتظامی افسران کو خامیوں وکمزوریوں کی نشاندہی کی جاتی ہے اس سلسلے میں اچھی کارکردگی کے حامل ضلعی انتظامیہ کے موثر اقدامات پر شاباش بھی دی جاتی ہے۔عوام کے وسیع تر مفاد میں یہ عمل پرائس کنٹرول میکنزم پر اسکی روح کے عین مطابق عملدرآمد کرانے میں بے حد کارگر ہے۔پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں کو کم سطح پر لانے کے لئے سبزی منڈیوں میں ”کسان پلیٹ فارم“کا قیام بھی حکومت پنجاب کا انقلابی اقدام ہے۔ان پلیٹ فارمز پر کسان اپنی اجناس براہ راست فروخت کررہے ہیں اور انہیں مارکیٹ کمیٹی فیس یا کمشن کی ادائیگی نہیں کرنا پڑتی جس کی بدولت مڈل مین کا خاتمہ اور اخراجات میں کمی کی بدولت پھلوں وسبزیوں کی قیمتیں کم ہوتی ہیں۔حکومت پنجاب کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ اور مارکیٹ کمیٹی کی طرف سے کسان پلیٹ فارم پر کسانوں کی آسانی ورہنمائی کے لئے تمام تر ضروری سہولیات فراہم کی جارہی ہیں جس کی بدولت اس نظام کے فوائد عام صارفین تک پہنچ رہے ہیں۔سبزیوں اور پھلوں کی گرانی روکنے کیلئے حکومت پنجاب کا ایک اور اقدام بھی قابل ستائش ہے جس کے مطابق صوبہ بھر کے تمام ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو علی الصبح سبزی منڈیوں کا دورہ کرکے پھلوں اور سبزیوں کی بولیوں کے عمل کی نگرانی کرنے کا پابند کیا گیا ہے جس کے بہتر نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔اس اقدام کا مقصد پھلوں اور سبزیوں کی نیلامیوں میں بلاجواز اضافے کو روک کر ان کی تھوک قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے کیونکہ بعض آڑھتی حضرات بے جا طور پر بولیوں کی رقوم بڑھا کرقیمتوں میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں جس کی وجہ سے لا محالہ پھلوں اور سبزیوں کی پرچون نرخ بھی بڑھا دئیے جاتے ہیں جن سے عام صارفین متاثر ہوتے ہیں۔اس منفی فعل کو روکنے کے علاوہ سبزیوں وپھلوں کی سپلائی پر بھی نظر رکھنے کیلئے انتظامی افسران کے دورے مفید ثابت ہو رہے ہیں کیونکہ اگر کسی شے کی سپلائی میں کمی آئے تو پیشگی بنیادوں پر اس کا بندوبست کرلیا جاتا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر خود ساختہ مہنگائی اور مصنوعی قلت کے انسداد کے لئے دیگر اقدامات کے علاوہ صوبہ کے بڑے اضلاع میں فوری طور پر ماڈل بازار بھی فنکشنل کردئیے گئے ہیں جن پر گیارہ مقررہ اشیاء ڈی سی ریٹ سے بھی کم نرخوں پر دستیاب ہیں جن میں آلو،پیاز،ٹماٹر،چاول،چینی،آٹا،دال مسور،دال مونگ،دال چنا،سفید چنا اور گھی شامل ہیں۔ان ماڈل بازاروں کے انتظامات کی ضلعی انتظامیہ اور مارکیٹ کمیٹی کے افسران نگرانی کر رہے ہیں اور اعلیٰ افسران کی طرف سے ان بازاروں کو بار بار چیک کیا جارہا ہے تاکہ ا شیاء کے معیار ودستیابی کویقینی بنایا جاسکے اور عوام کو کسی قسم کی مشکلات درپیش نہ آئیں۔بلا شبہ حکومت پنجاب کے اس اقدام سے صارفین کو سستے داموں اشیائے ضروریہ خریدنے کی سہولیات میسر آئی ہیں اور خود ساختہ مہنگائی کے خلاف ان کی مشکلات میں کمی واقع ہوئی ہے۔عوامی بھلائی اور فلاح وبہبود سے متعلق ایسے اقدامات سے ناجائز منافع خوروں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ناجائز منافع خوری،بے جا گرانی،ذخیرہ اندوزی اور اشیائے ضروریہ کی چوربازاری روکنے کے لئے دیگر قانونی وانتظامی اقدامات پر بھی عملدرآمد کیا جارہا ہے اس سلسلے میں مختلف سرکاری افسران کو سپیشل پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کے اختیارات تفویض کئے گئے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹوں میں جا کر پھلوں،سبزیوں،دالوں وکریانہ کی دیگر اشیاء کی قیمتوں اور معیار کو چیک کررہے ہیں۔ان اقدامات کے ذریعے دکانداروں کو ناجائز منافع خوری سے روکنے کے لئے قانون کے شکنجے میں لانا ہے یہی وجہ ہے کہ گرانی کے مرتکب دکانداروں کو جرمانوں کی سزاؤں کے علاوہ فوڈ سٹف کنٹرول ایکٹ کی خلاف ورزی سے باز نہ آنے والوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج اور انہیں جیل بھجوانے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔قانون کی اس عملداری کے خوف سے گرانفروش قانون شکنی سے باز رہتے ہیں۔

خود ساختہ اور مصنوعی مہنگائی سے متعلق عوامی شکایات کاازالہ کرنے کے لئے ضلعی سطح پر کنٹرول رومز کام کررہے ہیں جبکہ حکومت پنجاب کی طرف سے ”قیمت پنجاب“ایپ بھی متعارف کرائی گئی ہے جس پر صارفین مہنگائی کے خلاف شکایت اپ لوڈ کرسکتے ہیں جس پر فوری عمل کیا جاتا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار پرائس کنٹرول میکنزم پر عملدرآمد کی براہ راست نگرانی کررہے ہیں جبکہ انہوں نے صوبائی کابینہ کے ارکان اور صوبائی سطح کے اعلیٰ سرکاری افسران کی بھی ڈیوٹیز لگا کر انہیں اضلاع الاٹ کئے گئے ہیں تاکہ وہ نہ صرف انتظامی افسران کی کارکردگی کاجائزہ لیں بلکہ وہ خود بھی منڈیوں،مارکیٹوں میں جاکر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں چیک کریں۔صوبہ کے مختلف اضلاع میں صوبائی وزراء اور اعلیٰ سرکاری افسران کے دوروں کی بدولت نہ صرف قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں مدد ملی ہے بلکہ سرکاری سطح پر ایسے اقدام سے عوامی اعتماد بھی حاصل ہوتا ہے۔بے جا اور بلاجواز مہنگائی،مصنوعی قلت،ذخیرہ اندوزی اور اشیائے ضروریہ کی چور بازاری کو روکنے کے لئے حکومتی سطح پر یہ اقدامات خود سر اورمن مانی کرنے والے ناجائز منافع خوروں کو لگام ڈالنا ہے تاہم حکومت کی طرف سے ایسے جارحانہ قانونی و انتظامی اقدامات کرنے کی نوبت نہیں آنی آئیگی تاجر ودکاندار رضا کارانہ طور پر جائز منافع تک محدود رہیں کیونکہ حرص ولالچ کی بناء پر بعض تاجر دکاندار معاشی مشکل صورت حال کاناجائز فائدہ اٹھا کر عوام کا استحصال کرتے ہیں جو قانونی اور اخلاقی طور پر درست فعل نہیں ہے۔غلہ کی ذخیرہ اندوزی شرعی طور پر ممنوع قرار دی گئی ہے جس سے باز رہنا چاہیے۔تجارت ایک مقدس پیشہ ہے لیکن ذاتی مفادات کی آڑ میں بعض عناصر اسے بدنام کرتے ہیں جس سے اجتناب کرتے ہوئے اشیاء کی قیمتوں میں صرف جائز منافع حاصل کرکے صارفین کے ساتھ انصاف کریں اور حکومت کا ساتھ دیں۔
۔۔۔///۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں