سیاسی بساط! ………………. تحریر ، اورنگزیب اعوان

ملک پاکستان میں بچھائی گئ سیاسی بساط کو دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے. ہر سیاسی جماعت اپنے اپنے مفادات کے حصول کی تگ و دو میں مصروف عمل نظر آتی ہے. ملکی مفاد اور عوام کی فلاح و بہبود تو ان کے منشور میں محض الفاظ کی ادائیگی تک ہی محدود ہے. عملاً اقتدار کی کشمکش میں یہ اس قدر اندھی ہو چکی ہیں. کہ تمام اخلاقی روایات کو پاؤں تلے روندتے ہوئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے چکر میں ہمہ وقت مصروف عمل نظر آتی ہیں. سیاسی جماعتیں ہی ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتی نظر آتی ہیں. یہ اپنی تمام تر ناکامیوں کا ملبہ آئینی اداروں پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دلوانے کے چکر میں بھی رہتی ہے. اس آنکھ مچولی کو عوام بخوبی سمجھ چکی ہے. ملکی سیاست کے مختلف ادوار پر نظر ڈالی جائے تو بڑی ہی دلچسپ صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے. ہر سیاسی جماعت خود کو جمہوریت کی دعویدار ثابت کرتے نہیں تھکتی.
جب ان کے ماضی پر نظر ڈالی جاتی ہے تو تو سوائے مایوسی کے کچھ نظر نہیں آتا. تمام سیاسی جماعتیں آمریت کی نرسری کی پیداوار ہیں. جیسے جیسے یہ قد آور درخت بنتی جاتی ہیں. ویسے ویسے ان میں بغاوت کے آثار نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں. کوئی بھی سیاسی جماعت آمریت کی آبیاری کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتی. تو پھر جھگڑا اور شور شرابہ کس بات پر برپا کیا ہوا ہے. سبھی ایک دوسرے کو یہ باور کروا رہے ہیں. کہ ہم عوام کے حقوق کے حقیقی علمبردار ہیں. مگر سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں. ظاہر ہے. ہر سیاسی جماعت کا نصب العین اقتدار کا حصول ہوتا ہے. یہ اتنا آسان کام نہیں. اس کے لیے سیاسی جماعتوں کو انتہائی تگ و دو کرنی پڑتی ہے. قد آور لوگوں کو پارٹی میں شمولیت کروائی جاتی ہے. جن کی عوام میں مقبولیت ہو. مگر کچھ جماعتین اس ساری جدوجہد سے بچنے کے لیے آسان طریقہ اختیار کرتے ہوئے. خفیہ طریقہ سے مقتدر حلقوں کے ہاتھوں پر بیعت کر کے اقتدار کے منصب پر براجمان ہو جاتی ہیں. حالیہ سیاست بھی اسی کشمکش سے دوچار نظر آتی ہے. موجودہ وزیراعظم ماضی میں میاں محمد نواز شریف کی حکومت کے خلاف مہنگائی پر احتجاج کرتے نظر آتے تھے. عوام کو ترغیب دیتے تھے. کہ اگر آپ کے بجلی کے بل زیادہ آئے تو آپ انہیں جلا دیں. مہنگائی کی وجوہات پر درس و تدریس کرتے ہوئے ان کے اقوال تھے. کہ مہنگائی تب ہوتی ہے جب آپ کے حکمران چور ہوتے ہیں. اب یہ خود برسر اقتدار ہے. اور مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے. جس پر ان کا اپنا موقف تبدیل ہو چکا ہے. اور یہ عوام کو دلاسہ دینے کے لیے کہتے ہیں. کہ گھبرانا نہیں.

ماضی میں انہوں نے جو جو باتیں کیں . اب سب سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں. بجائے شرمندہ ہونے کے یہ اپنے موقف سے پسپائی کو یوٹرن کا نام دے رہے ہیں. موصوف کہتے ہیں کہ اگر ہٹلر یوٹرن لیتا تو اس جیسا کوئی لیڈر نہ ہوتا. جس پر انہیں سیاسی مخالفین کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا. انہیں یوٹرن خان کے لقب سے نوازا گیا. ان کی حکومت کے خلاف گیارہ اپوزیشن جماعتوں نے ایک مشترکہ اتحاد قائم کیا. جسے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا نام دیا گیا. مگر یہ اتحاد بھی ذاتی مفادات کی نظر ہو کر رہ گیا ہے. سینٹ کے الیکشن نے اس غیر فطری اتحاد کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ہے.وجہ تنازع سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کو قرار دیا جا رہا ہے. مگر پس پردہ حقیت کچھ اور ہے. سبھی جماعتیں اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونے کے لیے خفیہ مذاکرات میں مصروف عمل ہیں. پاکستان مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی پر الزام لگا رہی ہے کہ اس نے حکومتی اراکین کے ووٹ لیکر سینٹ میں اپنا اپوزیشن لیڈر بنوا لیا ہے. جو کسی بھی طرح سے جائز نہیں. اس کے برعکس پیپلز پارٹی پاکستان مسلم لیگ ن پر الزام لگاتی ہے. کہ اس نے پنجاب میں کس کے کہنے پر سینٹ الیکشن میں سمجھوتہ کیا. دونوں کے دلائل میں وزن نظر آتا ہے. ذوالفقار علی بھٹو اگر یوٹرن لے لیتا تو شاید آج زندہ ہوتا. مگر انہوں نے عوام اور اپنے اصولی موقف کی خاطر اپنی جان تک قربان کر دی. آج انہیں کا نواسہ کہہ رہا ہے. کہ ہر وقت آر یا پار کی بات نہیں کرنی چاہیے. سیاست سمجھوتے کا دوسرا نام ہے. مگر شاید یہ بات ان کے نانا جان سمجھ نہ پائے تھے اسی لیے تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھے.

پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز شریف جارحانہ سیاست کرنے پر یقین رکھتے ہیں. جبکہ میاں شہباز شریف اور ان کے فرزند حمزہ شہباز شریف مفاہمت کی سیاست کو پروان چڑھنے کے خواں نظر آتے ہیں. بلاول بھٹو زرداری نے بھی ان میں پھوٹ ڈالنے کی غرض سے پنجاب میں عدم اعتماد کا لولی پاپ دیکر انہیں ایک دوسرے سے دور کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے. سیاست بڑی بے رحم چیز ہے. اس میں کوئی بھی کسی سے مخلص نہیں ہوتا. سبھی اوپر جانے کے لیے سیڑھیوں کی تلاش میں ہوتے ہیں. جیسے ہی انہیں اپنی منزل نظر آتی ہے. یہ سیڑھی کو ہی گرا دیتے ہیں. تاکہ کوئی دوسرا اس مقام تک نہ پہنچ سکے. جب تک ہوس اقتدار حکمرانوں کا شیوہ رہے گا. تب تک جمہوری نظام پھل پھول نہیں سکتا. جس نظام کی آبیاری ہی ذاتی مفادات اور لالچ پر ہوئی ہو. اس سے کیسے بہتری کی امید کی جاسکتی ہے. سیاسی بساط پر کھیلنے والے کھلاڑی بڑے ہی شاطر ہیں. ان کو جہاں کہی اپنا ذاتی مفاد نظر آتا ہے. یہ تمام اخلاقی روایات کو پس پشت ڈال کر اس کو ہر صورت میں حاصل کرنے کی جدوجہد میں لگ جاتے ہیں. عوام تو ان کے لیے محض اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کے لیے ایک آلہ کار ہے. موجودہ سیاسی صورتحال نے عوام کو یہ بات باور کروا دی ہے. سبھی کرسی کی لڑائی لڑ رہے. مہنگائی، بے روز گاری ،غربت پر کوئی بات نہیں کر رہا. سب ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے میں لگے ہوئے ہیں. دیکھتے ہیں ایسے میں کس کے نام قرعہ نکلتا ہے. کیا ہی اچھا ہو کہ تمام سیاسی جماعتیں اور مقتدر حلقے مل بیٹھ کر ایک ایسا لائحہ عمل ترتیب دے لے. جس میں ملک و عوام کی بہتری مقصود ہو. خدارا آپسی رنجشوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے. اس ملک و قوم کی خاطر ایک صفحہ پر یکجا ہو کر سوچیں اور منفی سیاست سے چھٹکارا پا کر آگے بڑھے. دوسری صورت میں ان کے مقتدر میں تو ذلت و رسوائی لکھی ہی ہے. اپنے ساتھ انہوں نے ملک وقوم کا بھی نقصان کروانا ہے.یہ بساطیں پلٹنے سے گریز کر کے آگے بڑھنے کے لیے مثبت سوچ کو پروان چڑھنا ہو گا.

جب بساط الٹی تو جانا کہ تھے شاطر کتنے
کشتی و فیل و پیادہ پہ تھے قادر کتنے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں