فیصل آباد پولیس کے 563 اہلکار مختلف سنگین جرائم میں ملوث؟؟ ڈیلی ٹائمز کی خصوصی رپورٹ

فیصل آباد ، نیوز ڈیسک

فیصل آباد کی ضلعی پولیس کے 563 اہلکاروں کامختلف سنگین جرائم میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس پر ان اہلکاروں کے خلاف 139 مقدمات کا اندراج کیا گیا ہے۔ان میں ایسے پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جن کے خلاف دو یا دو سے زائد مقدمات درج ہوئے جبکہ ان پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل، اقدام قتل، اغواء، ڈکیتی، منشیات فروشی، فراڈ کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کو حراساں، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے سمیت دیگر جرائم میں ملوث ہونے پربھی مقدمات درج کئے گئے اور ان مقدمات کی وجہ سے69 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرکے حوالا ت میں بند بھی کیا گیا۔


ضلعی پولیس فیصل آباد کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق فیصل آباد پولیس کے اہلکاروں کے خلاف آئے روز کسی نہ کسی تھانے میں مقدمات کا اندراج معمول بن چکا ہے اور اس کی واضح مثال یہ ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ضلعی پولیس کے 563 اہلکار وں جن میں انسپکٹرز سے لے کر کانسٹیبل شامل ہیں کے خلاف مختلف جرائم میں ملوث ہونے پر مقدمات درج کئے گئے ہیں۔جن پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں ان میں 17 انسپکٹرز، 136 سب انسپکٹر ز،302 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز، 16 ہیڈ کانسٹیبلز اور 82کانسٹیبلز شامل ہیں۔

پولیس رپورٹ کے مطابق ان پولیس اہلکاروں کے خلاف 139 مقدمات کا اندراج کیا گیا اور اس فہرست میں 44 ایسے پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جن کے خلاف 2 یا 2 سے زائد مقدمات درج ہوئے۔ اسی طرح ان پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل، اقدام قتل، اغواء اور ڈکیتی جیسے سنگین جرائم پر بھی مقدمات کا اندراج ہوا اس کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکار منشیات، فراڈ و دھوکہ دیہی، خواتین کو حراساں کرنے اور گھروں میں بغیر سرچ وارنٹ داخل ہونے جیسے غیر قانونی عمل پر بھی مقدمات درج کئے گئے اور ان مقدمات کے بعد 69 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا اور انہیں حوالات میں بند کردیا گیا جبکہ78 پولیس اہلکاروں کی گرفتاری تاحال باقی ہے۔

پولیس رپورٹ کے مطابق بعض پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمات میں مدعی بھی پولیس ہی تھی جبکہ درج کئے گئے مقدمات میں 16 ہیڈ کانسٹیبلز اور92 کانسٹیبلز نامزد ملزم رہے۔اسی طرح پولیس اہلکاروں کے خلاف 55 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع اور31 تاحال زیر سماعت ہیں۔پولیس اہلکاروں کے خلاف درج کئے گئے67 مقدمات بغیر ثبوت خارج کر دئیے گئے جبکہ 378پولیس اہلکاروں کو بے گناہ قرار دیدیا گیا اس کے ساتھ ساتھ 68 پولیس اہلکاروں کو شوکاز نوٹسزجاری کرکے سزائیں بھی دی گئی۔

فیصل آباد پولیس اہلکاروں کے خلاف اتنی بڑی تعداد میں مقدمات کے اندراج کے حوالے سے وکلا ء اور سول سوسائٹی کے افراد کا کہنا تھا کہ صرف ایک محکمہ جسے پولیس کہا جاتا ہے اس کے اہلکار خود کو درست کرلیں یا اعلی افسران انہیں ٹھیک کر لیں، معاشرے میں پچاس فیصد جرائم کی شرح ویسے ہی کم ہو جائے گی۔ جب پولیس اہلکاروں کی اتنی بڑی تعداد سنگین جرائم میں ملوث ہو گی تو پھر عوام کو کیسے جرائم سے دور رہنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کی جانب سے اس حوالے سے حکم نامہ جاری کیا گیا ہے کہ جرائم پیشہ افراد سے تعلق رکھنے والے پولیس انسپکٹرز کو کسی تھانہ میں ایس ایچ او تعینات نہیں کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں