چک جھمرہ میں آبادی کے تناسب کے لحاظ سے گندم کی بوائی نہ ہو سکی ، ذمہ دار کون ہے؟؟

چک جھمرہ(افضال احمد تتلا)

محکمہ زراعت کی غفلت تحصیل چک جھمرہ میں آبادی کے تناسب کے لحاظ سے گندم کی بوائی پوری نہ ہوسکی, عوام کو گندم خریدنے کے لیے دوسرے شہروں سے رابطہ کرنا پڑ سکتا ہے ذرائع کے مطابق فیصل آباد کی تحصیل چک جھمرہ میں رواں سال میں صرف 57 ہزار ایکڑز رقبہ پر گندم کی فصل کاشت کی گئی ہے جو اس تحصیل کی 3 لاکھ 32 ہزار 4 سو 61 افراد کی آٹے کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے کم ہے اس لیے تحصیل چک جھمرہ کے مکینوں کو آنے والے سال میں گندم کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق چک جھمرہ کے علاقہ میں گندم کی فصل فی ایکڑ 40 من پیداوار مہیا کرتی ہے اب یہاں پر اس تحصیل میں کل کاشت ہونے والے یعنی 57 ہزار ایکڑز گندم کو حاصل شدہ پیداوار یعنی 40 من سے ضرب دیں تو جواب آئے گا 22 لاکھ 80 ہزار من جبکہ حالیہ بارشوں کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں کمی و بیشی ہونے کا امکان بھی موجود ہے اب تحصیل چک جھمرہ کی کل آبادی 332461 افراد کو اندازے کے مطابق رواں سیزن میں حاصل ہونے والی گندم کی کل پیداوار یعنی 2280000 من سے ضرب دیں تحصیل چک جھمرہ کے ہر فرد کو تقریبا ساڑھے چھ من گندم سالانہ ملے گئی جبکہ ایک شخص روزانہ تین پاؤ آٹا بھی کھائے تو اس کو سالانہ 9 من آٹا درکار ہوتا ہے جبکہ محکمہ زراعت اس بات کو نظر انداز کرکے گندم کی بوائی کے دنوں میں بھی کینولا سرسوں سمیت دیگر دوسری فصلوں کو پرموٹ کرتا رہا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ  زراعت ہر فصل کی بوائی کے دنوں میں یونین کونسل کی سطح پر کاشتکاروں کو مکمل معلومات فراہم کرنے کے ساتھ علاقائی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاشتکاروں کو فصل کی کاشت کی راغب کرے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں