اندھا قانون ! ….. تحریر ، اورنگزیب اعوان

بچپن سے سنتے اور دیکھتے آ رہے ہیں. کہ قانون اندھا ہوتا ہے. پڑوسی ملک بھارت میں باقاعدہ طور پر عدالتوں میں قانون کی مورتی بنا کر اس کی آنکھوں پر سیاہ رنگ کی پٹی اور اس کے ہاتھوں میں انصاف کا ترازو تھمایا جاتا ہے. اس کا مقصد یہ بتانا ہوتا ہے. کہ قانون خود سے کچھ نہیں کرسکتا. اس نے وکلاء، گواہان اور استغاثہ کے بیانات کی روشنی میں فیصلہ سازی کرنا ہوتی ہے. ملکی قوانین سزا اور جزا کا تعین کرتے ہیں. مگر خود سے ان پر عمل درآمد نہیں کرتے. ان قوانین کی روشنی میں ججز، وکلاء نے سزاؤں پر عمل درآمد کروانا ہوتا ہے. یہ ان کی نیت پر مبنی ہوتا ہے. کہ وہ قوانین کو کس رنگ میں ڈھالتے ہیں. ملک پاکستان کی بدقسمتی کہہ لے. یہاں پر طاقتور طبقہ ملکی قوانین کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھتا ہے.

یہ طبقہ اپنے ذاتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے. ملکی قوانین میں من پسند تبدیلیاں کرتا رہتا ہے. جو قانون ان کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتا ہے. وہ ان کے نزدیک بہت اچھا اور جو ان کے مفادات کے متصادم ہوتا ہے. وہ قابل نفرت تصور کیا جاتا ہے. پاکستان کی آئینی و عدالتی تاریخ پر نظر دوڑائیں. تو معلوم پڑتا ہے کہ جتنا نقصان طاقت ور لوگوں نے انہیں پہنچایا ہے. اس کا ازالہ ناممکن ہے. بحیثیت قوم ہم نے اپنی غلطیوں سے سبق آموز ہوکر بہتری کی بجائے. مزید تنزلی کی طرف گامزن ہیں. حکومت میں آنے سے قبل ہمارے سیاست دانوں کے بیانات کچھ اور ہوتے ہیں اور حکومت میں آنے کے بعد ان نظریات یکسر بدل جاتے ہیں. موجودہ حکومت اس ضرب المثل پر پوری طرح گامزن ہے. اقتدار میں آنے سے قبل یہ ملک میں بلا امتیاز انصاف کی فراہمی کو اپنے منشور کا بنیادی نقطہ کہتے نہیں تھکتے تھے. مگر اقتدار میں آتے ہی انہوں نے کینہ اور بعض کی آگ میں انصاف و قانون کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہے. سیاسی مخالفین پر ایسے ایسے من گھڑت مقدمات درج کیے گئے ہیں. جن کو سن کر ہنسی آتی ہے. پاکستان مسلم لیگ ن کے متعدد اراکین اسمبلی پر جھوٹے پرچے درج کیے گئے. جن کا سر پاؤں ہی نہیں.

رانا ثناء اللہ خان پر منشیات فروش فروشی کا مقدمہ درج کیا. مگر حکومت وقت اس کو عدالت میں ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی. اسی طرح قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں محمد شہباز شریف، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف، خواجہ محمد سعد رفیق، خواجہ محمد آصف و دیگر پر مضحکہ خیز پرچے درج کیے گئے ہیں. جن کو ثابت کرنا حکومت وقت کے لیے درد سر بنانا ہوا ہے. اسی طرح سے حکومت وقت نے ایک مذہبی جماعت کی محبت میں دل گرفتہ ہو کر سپریم کورٹ کے ایک معزز جج قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کر دیا. کہ جج نے مذہبی جماعت کے فیض اہاد دھرنا کے فیصلہ میں حکومتی اداروں اور موجودہ حکومت کے اہم ترین لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے. جو کہ سراسر زیادتی ہے. لگتا ہے. معزز جج کا ذہنی توازن درست نہیں یا انہوں نے یہ سب کچھ ذاتی رنجش کی بنا پر کیا ہے. وہ معزز جج آج بھی اپنی اہلیہ کے ہمراہ اپنے ہی ساتھی ججوں سے انصاف کا متلاشی ہے.پتہ نہیں انہیں انصاف ملتا بھی ہے کہ نہیں. حکومت وقت کی منافقت دیکھے. جب قاضی فائز عیسی نے اسی مذہبی جماعت کے فیض آباد دھرنا کے سپانسر کا ذکر کیا. تو وہ قابل نفرت قرار پائے. کیونکہ اس وقت اس جماعت کو موجودہ حکومت اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہی تھی. انہیں پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف بھڑکا کر ان کی ہمدردیاں سمیٹنا چاہتی تھی.

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں پر گستاخ رسول کے فتوے صادر کیے گئے. جس کے نتیجہ میں اسی مذہبی جماعت کے جنونی لوگوں نے اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو جوتا مارا . ملک کے وزیر داخلہ احسن اقبال کو گولی ماری گئی. وزیر توانائی خواجہ محمد آصف کے منہ پر سیاہی پھینکی گئی. میاں جاوید لطیف پر تشدد کیا گیا. اسی مذہبی جماعت کے ذریعہ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے جنوبی پنجاب کے ٹکٹ ہولڈر پر مذہبی دباؤ ڈال کر ان سے پارٹی ٹکٹ واپس کروائے گئے. موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اس وقت کہتے تھے. کہ مار دو جلا دو. آج جب اس مذہبی جماعت نے آقا دو جہاں کی شان میں گستاخی کرنے پر حکومت وقت سے فرانس کے سفیر کو ملک بدرکرنے کا مطالبہ کیا. جس پر حکومت نے ان سے ایک سرکاری معاہدہ کیا کہ ہم اس مسلہ پر موثر قانون سازی کرے گے. مگر جیسے جیسے معاہدے کی تکمیل کی تاریخ قریب آتی جا رہی تھی. حکومت کے ہاتھ پاؤں پھولتے جا رہے تھے. اسی لیے عجلت میں حکومت نے مذہبی جماعت کے سربراہ کو گرفتار کر لیا. جس سے ملک بھر میں ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی. وزیر داخلہ شیخ رشید احمد جو کل تک ان کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے. آج انہیں دہشت گرد کہہ رہے ہیں. اور ان کی جماعت پر پابندی لگوانے میں پیش پیش ہے. شیخ رشید احمد آپ نے ایک دنیاوی وزارت کے لیے آقا دو جہاں کی عظمت میں آواز بلند کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے. موجودہ وزیراعظم بھی ان کے عشق میں گرویدہ تھے. وہ بھی آج ان کی مذمت کر رہے ہیں. اگر یہی لوگ پاکستان مسلم لیگ ن کے خلاف ہنگامہ آرائی کرے تو محب الوطن اور مجاہد ہیں. مگر اپنی حکومت پر بات آئی تو دہشت گرد. چلے دیر آئے درست آئے.

اگر موجودہ حکومت کو احساس ہو ہی گیا ہے. کہ یہ بہت برے لوگ ہیں تو پھر قاضی فائز عیسی کے فیصلہ کی روشنی میں ان کے سپانسر کو بھی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرے. کیونکہ اصل گنہگار تو وہ ہیں. جو اسی جماعتوں کی پرورش کرتے ہیں. آج آپ نےاس جماعت کو تو پابند سلاسل کر دیا ہے. مگریہ طاقتیں کل کو کوئی دوسری جماعت بنا دے گی . یہ کھیل کب تک چلتا رہے گا. کب تک جمہوری حکومتوں کو ایسے منفی حربوں سے کمزور کیا جاتا رہے گا. اور کب تک عوام کے مذہبی جذبات سے کھیلا جاتا رہے گا. عدلیہ بھی اس ساری صورتحال پر آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے. شاید وہ کسی بڑی تباہی کا انتظار کر رہی ہے. مذہبی جماعت پر پابندی کی وجہ شر انگیزی و فسادات کو قرار دیا گیا ہے. جبکہ ایسا ہی فعل ماضی میں موجودہ حکومت بھی سرزد کر چکی ہے. اسلام آباد دھرنا میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے ایس ایس پی اسلام آباد کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی. پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت پر قبضہ کر لیا گیا. پارلیمنٹ کی عمارت کے چنگلے اکھاڑ دیئے گئے. عدالت عظمیٰ کی گرل پر کپڑے دھوکر لٹکائے گئے. اسلام آباد کے پولیس اسٹیشن میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کو پولیس کو زردکوب کرکے زبردستی غیر قانونی طریقہ سے رہا کروایا گیا.موجودہ صدر پاکستان ان لوگوں کی راہنمائی فرما رہے تھے. کیا یہ تمام واقعات پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کے لیے کافی نہیں تھے. مگر اس وقت ایک خاندانی اور وسیع القلب شخص ملک کا وزیراعظم تھا. اس نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں.مگر آج موجودہ وزیراعظم نے اپنے چھوٹے ظرف کا مظاہرہ کرتے ہوئے. مذہبی جماعت کے خلاف فوری پابندی عائد کرنے کا فیصلہ صادر فرما دیا. کیا ملکی قوانین کا اطلاق صرف ان پر ہوتا ہے. آپ کی اپنی جماعت پر یہ قوانین لاگو نہیں ہوتے.

اگر ہنگامہ آرائی اور عوامی املاک کو نقصان پہچانا اتنا بڑا جرم ہے جس کی پاداش میں پارٹی پر پابندی لگ سکتی ہے. تو اس کا اطلاق تو سب سے پہلے پاکستان تحریک انصاف پر ہونا چاہیے تھا. رانا ثناء اللہ سرکاری افسران کو کہے کہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرے تو یہ اتنا بڑا جرم ہے. کہ ان کے خلاف حکومت وقت نے دہشت گردی کا پرچہ درج کروانے کا ارادہ کر لیا ہے . جبکہ موجودہ وزیراعظم ماضی میں سرکاری افسران کے نام لیکر انہیں دھمکایا دیا کرتے تھے. کیا وہ قابل جرم فعل نہیں تھا. ان تمام واقعات سے عیاں ہوتا ہے. کہ قانون واقعی اندھا ہوتا ہے. کمزور اس کی گرفت میں جکڑا جاتا ہے. جبکہ طاقت ور اس کو اپنی منشا کے مطابق مروڑ لیتا ہے . قانون کی حکمرانی میں ایسا نظام نہیں چل سکتا. تحریک انصاف عدم انصاف کی راہ پر گامزن ہے. اگر یہ واقعی ہی قانون کی حکمرانی چاہتی ہے. تو اپنے اوپر بھی وہی قوانین لاگو کرے جو اپنے سیاسی مخالفین پر استعمال کررہی ہے. قانون کا ہاتھ پکڑ کر اس کو سیدھے راستہ پر گامزن کرے. ناکہ ذاتی مفادات کے لیے. انسانی معاشرے قانون پر بلاتفریق عمل درآمد کرنے سے ہی مضبوط ہوتے ہیں. عوام کو بھی سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا سیکھ لینا چاہیے. کب تک جھوٹی رام کہانیوں پر کان دھرتی رہے گی.

ابھی انصاف بہرا ہے ابھی قانون اندھا ہے.
یہاں ہے دادگری کا تو بلندی پر ہی دھندہ ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں