نیب کی شوگر اسکینڈل کی تحقیقات ، پنجاب حکومت کے 2 وزراء کی طلبی، لیکن کیوں؟

راولپنڈی ، نیوز ڈیسک

قومی احتساب بیورو راولپنڈی آفس نے شوگر اسکینڈل میں تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کردیا۔تحریک انصاف کے سینئر رہنما و صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال اور سابق صوبائی وزیر برائے خوراک سمیع اللہ چودھری کو طلب کرلیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیب نے شوگر اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے حکومتی شخصیات کو بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔نیب راولپنڈی نے صوبائی وزیر پنجاب میاں اسلم اقبال کو 4 مئی کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا ہے۔ نیب کی کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم میاں اسلم اقبال سے تفتیش کرے گی۔سابق صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ چودھری کو بھی طلب کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق میاں اسلم کو 2018تا 2019میں شوگر پر دی جانیوالی سبسڈی کا ریکارڈ بھی ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایکسپورٹ کی اجازت نامہ دینے کا ریکارڈ بھی مانگا گیا ہے اس کے علاوہ پنجاب میں شوگر ملوں کو دی جانیوالی سبسڈی کا ڈیٹا بھی لانے کی ہدایت کی ہے۔ واضح رہے کہ نیب شوگر سیکنڈل کی تحقیقات منی لانڈرنگ ایکٹ 2010کے تحت کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں