لاہور کی عدالت عالیہ نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی ضمانت بارے کیا فیصلہ دیا؟

لاہور ، نیوز ڈیسک

لاہور کی عدالت عالیہ کے تین رکنی فل بنچ نے مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی ضمانت اتفاق رائے سے منظور کرلی ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ن لیگ کے صدر میاں محمد شہباز شریف کیخلاف منی لانڈرنگ کیس ، جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں جسٹس مس عالیہ نیلم اور جسٹس سید شہباز علی رضوی پر مشتمل لاہور ہائیکورٹ کے تین رکنی فل بنچ شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ نیب پراسیکیوٹر سید فیصل بخاری نے دلائل شروع کرتے ہوئے کہا 3 سے 4 دن تک فیصلہ جاری نہ کرنے کا بیان دینا توہین آمیز تھا۔ جس پر لیگی وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا میں اپنی بات پر قائم ہوں کیونکہ یہ حقیقت تھی کہ 3 سے 4 دن تک فیصلہ جاری نہ ہوا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دوران سماعت جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دئیے کہ ہم نے کل کہا تھا کہ ہم ججز تبھی فیصلے پر دستخط کرتے ہیں جب ہم پوری طرح مطمئن ہوتے ہیں۔آپ کو کل کہا تھا کہ آپ جب تک فیصلہ خود نہ پڑھ لیں تب تک اپنے کلائنٹ کو کچھ نہ بتائیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ میں ثابت کر سکتا ہوں کہ اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے توہین آمیز بیان دیا۔ جس پر معزز جج نے کہا آپ کا نکتہ نوٹ کر لیا گیا ہے، آپ دلائل دیں۔لیگی وکیل اعظم نذیر تارڑ بولے اب سرکار ہم پر توہین عدالت لگوائے گی؟ نیب پراسکیوٹر کو کہیں کہ اپنے الفاظ واپس لیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں