پولیس حراست میں نوجوان کی تشدد سے ہلاکت ، ایس ایچ او سمیت کتنے ملازم مبینہ ملوث؟؟

فیصل آباد(آن لائن)

پولیس حراست میں نوجوان کی تشدد سے ہلاکت’ایس ایچ او سمیت 9 ملازمین معطل’ایک ہفتہ پہلے 403 گ ب کا رہائشی مظہراقبال محبوبہ کے گھر سے پکڑا گیا تھا جسے گھروالوں نے تشدد کا نشانہ بنا کر پولیس کے حوالے کیا پولیس اسے ڈاکو قرار دیکر تشدد کرتی رہی جس سے اسکی موت واقع ہوئی’

پولیس نے حقائق چھپاتے ہوئے مقتول کے بھائی شہامند علی مدعیت میں محبوبہ کے رشتے داروں سمیت 7 افراد کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا تھا ‘شکایت پر سی پی او فیصل آباد کیپٹن (ر)سہیل چوہدری نے انکوائری کروائی تو حقائق سامنے آ گئے جس پر فرائض میں غفلت ولاپرواہی برتنے پر ایس ایچ او سٹی تاندلیانوالہ انسپکٹر ارشد رندھاوا’محرر خضرحیات ‘نائب محرر ابرار سمیت 9 ملازمین کو معطل کر کے ایس پی اور ڈی ایس پی کے بارے میں رپورٹ آئی جی پنجاب کو افسر موصوف کی جانب سے بھجوا دی گئی ۔

یاد رہے کہ تھانہ سٹی تاندلیانوالہ میں 403گ ب کے محنت کش شہامند علی ولد سلطان نے 15اپریل کو قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کروایا جس کے مطابق ملزمان مسعود’اقبال’نثار پسران منظور اقوام بھٹی’ثقلین ولد سرفراز ‘ وحید ولد محمد یار سکنائے نذیر ٹائون نزد دربار ٹاہلی پیر تاندلیانوالہ اور دوکس نامعلوم ملزمان نے اسکے بھائی مقتول مظہر علی کو 403گ ب میں نرسری طیبہ ٹائون براستہ بائی پاس جاتے ہوئے گھیر لیا جہاں مذکوریہ ملزمان تھڑا مار کر کھڑے تھے’جس پر ملزمان مسعود وغیرہ نے اپنی بہن جمیلہ بی بی سے ناجائز تعلقات کی بناء پر تشدد کا نشانہ بنایا جسے طبی امداد کیلئے ٹی ایچ کیو ہسپتال تاندلیانوالہ کیلئے لے جایاگیا جہاں سے واپس اسے لیکر اپنی رہائش گاہ پر آگئے جسے دوبارہ حالت بگڑنے پر ہسپتال لے جایاگیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑگیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں