کرونا کہانیاں! …………………. تحریر، شفقت اللہ مشتاق

میرے فیصل آباد کے ایک عزیزاور پیارے دوست تنویرسلیم بیتاب کی ایک حالیہ کتاب کرونا کہانیاں اس لحاظ سے منفرد ہے کہ آج کا سب سے اہم موضوع ہی کرونا ہے۔ اورمزے کی بات یہ ہے کہ کرونا وائرس کی ابتدا سے ہی پوری دنیا کرونا کے بارے میں دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ دنیا کا ایک حصہ تو واقعی اس آفت پر پریشان ہو گیا اور سنجیدگی سے پوری طرح اس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوششیں کرنے لگا۔ اور دنیا بھر کی میڈیکل فیکلٹی کرونا جیسے موذی وائرس کے خاتمے اور بنی نوع انسان کو مستقبل میں اس سے بچاؤ کے لئے اس کی ویکسین کی تیاری کے حوالے سے سر جوڑ کر بیٹھ گئی مکمل لاک ڈاون،سوشل ڈسٹنسنگ،ہسپتالوں میں مکمل ایمرجنسی کا نفاذ وغیرہ وغیرہ۔ البتہ دنیا کا دوسرا حصہ جس میں شاید ہم بھی شامل تھے۔ اس نے کرونا کو کہانی ہی سمجھا۔ یہ دونوں قسم کی صورتحال بڑی ہی پریشان کن تھی اور اس ساری صورتحال کو بدلنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے لفظ “کن” کی شدید ضرورت تھی اور شاید اللہ تعالی ہماری سوچ کی تباہ کن صورتحال دیکھ کر خاموش ہو گئے تھے۔ مزکورہ ساری صورتحال پر تنویر بیتاب کا مضطرب اور بیتاب نہ ہونا بھی ایک پریشان کن صورتحال تھی۔ بہرحال ان کی پریشانی اور بیتابی کی بدولت ہی “کرونا کہانیاں”تخلیق ہوئی۔

کرونا کو کہانی سمجھنے والوں کو اس وقت سمجھ آئی جب ان کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے عزیزو اقارب اور دوست احباب دھڑا دھڑ کرونا کا شکار ہونے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے گھر کے گھر بے آباد ہونا شروع ہو گئے۔ ہسپتالوں میں تل دھرنے کی جگہ نہ رہی لوگوں نے اپنے منہ چھپانے شروع کردئیے اور اپنے اور بیگانے سبھی اپنوں سے دور رہنے پر مجبور ہو گئے۔ مسجدیں بے رونق ہونا شروع ہو گئیں ریلوے اسٹیشن،لاری اڈے اور ایئرپورٹ بلکہ حرکات و سکنات کے سارے راستے بند۔ دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں کی تعداد میں انسان لقمہ اجل بن گئے۔ اور ہر طرف آہ و بقا اور افراتفری ہی افراتفری۔ الامان و الحفیظ۔ نہ جانے یک بیک خوبصورت کائنات کو کس کی نظر لگ گئی۔ ساری دنیا آبادی بڑھنے کا شور مچا رہی تھی ۔سر جوڑ کر آبادی کو کم کرنے کی منصوبہ بندی کررہی تھی اور عملی طور پر آبادی کو کم کرنے کی سر توڑ کوششیں کی جارہی تھیں لیکن بےسود۔ اللہ تعالی کا ایک اپنا نظام ہے کبھی ہاتھیوں کو ابابیلوں سے مروا دیتا ہے تو کبھی مائیکروسکوپک مخلوق سے اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے والے انسانوں کو نیست و نابود کروا دیتا ہے اور پھر تجہیز و تکفین بلکہ تدفین بھی بڑے خوفناک انداز سے ہوتی ہے۔ ایسی خوفناک کہانیوں کا آنکھوں دیکھا حال کچھ یوں بیان کرنا کہ کرونا کہانیاں تخلیق ہو جائے بلا شبہ یہ تنویر بیتاب کا ہی کام تھا اور ان کی اس کاوش پر میں انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

اس کتاب میں کل23 کہانیاں ہیں ۔کہنے کو تو یہ کہانیاں ہیں لیکن دراصل یہ کرونا کے دنوں میں رونما ہونے والے واقعات ہیں جن کو طنزو مزاح کے سانچے میں ڈھال کر تنویر سلیم بیتاب نے قارئین کے لئے پیش کیا ہے۔ داستان ہو کہانی ہو یا ناول یا افسانہ ہو ان اصناف سخن کی یہ خوبی ہے کہ جو شخص ان کو پڑھنا شروع کرتا ہے اور ان میں کھو جاتا ہے اور کتاب ختم کرکے ہی اٹھتا ہے۔ میرے ساتھ بھی کرونا کہانیاں کتاب کے مطالعہ کے دوران ایسا ہی ہوا ہے۔ حالانکہ میں اتنا بھی فارغ آدمی نہیں ہوں کہ ایک کتاب کو ایک ہی نشست میں پڑھ جاوں۔ بنیادی طور پر مصنف کا معیار تحریر اور کمال تالیف ہے کہ یہ کتاب حجم کے اعتبار سے مختصر ہونے کے باوجود اپنے اندرخیالات کی دنیا آباد کئے ہوئے ہے۔ ہلکا پھلکا طرز تحریر اس کو بہت ہی خوبصورت بنا دیتا ہے۔ دراصل یہ کرونا کے دنوں میں رونما ہونے واقعات کا آنکھوں دیکھا حال ہے۔ کس طرح سرکاری ادارے فعال ہوئے اور انہوں نے عوام کو کرونا سے بچانے لئے کیسے کیسے بھونڈے انداز سےخوف و ہراس پیدا کیا۔

مجھے یاد آیا کہ میں جب میجسٹریٹ تھا تو ان دنوں ایک دفعہ ڈپٹی کمشنر کے پاس ایک میٹنگ کے سلسلے میں بیٹھا تھا وہاں ایک ملاقاتی کی چٹ آئی پڑھ کر افسر موصوف نے اردلی سے کہا کہ میجر صاحب کو پہلے بلا لیں اور پھر میجر صاحب اندر داخل ہوئے اور مجھے دیکھ کرہلکے سے پریشان ہوئے اور پھر باڈی لینگویج سے مجھے باور کروانے لگے کہ صاحب ہالو سوسائٹی کے اپنے طور طریقے ہوتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ موصوف فوج میں میجر نہیں تھے یہ اس وقت کی بات ہے جب جنرل پرویز مشرف برسر اقتدار تھے اور اس وقت فوجی افسروں کا سول میں بڑا خوف تھا۔ بعینہ مصنف مزکور نے ماجد نامی ایک کردار کا واقعہ کتاب میں تحریر کیا ہے کہ وہ حسب ضرورت اپنا عہدہ بدل کر سلام بھی کرواتے تھے اور اپنا کام بھی نکلوا لیتے تھے۔ کرونا کے دنوں میں ڈاکٹرز کی خدمات کی بدولت پولیس پر لازم تھا کہ وہ ڈاکٹر کو دیکھتے ہی سلیوٹ کرے۔ ماجدنے ایک چیک پوسٹ پر گاڑی کھڑی کی اور شیشہ نیچے کر کے ڈاکٹر کا لفظ بولا۔ ڈیوٹی پر موجود اے ایس آئی نے زوردار سلیوٹ مارا اور ساتھ ہی اپنے ماتحتوں سے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کو فرنٹ لائن پر چھوڑ کر آئیں تاکہ کرونا کے مریضوں کے علاج میں یہ اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ یوں ماجد کا ڈاکٹری کا لباس تارتار ہو گیا۔

عورت مرد کی ہمیشہ مجبوری رہی ہے۔ شروع شروع میں تو ہر شخص اپنی بیوی کے حصول میں کچھ بھی کرسکتا ہے اور جب اپنی بیوی مل جائے تو پھر وہی شخص کسی دوسری عورت کے حصول کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس کے اپنے ساتھ بھی کچھ ہوسکتا ہے۔ کرونا کے دنوں میں ایک شادی شدہ مرد عدنان ایک عورت سے فون پر گپ شپ شروع کرتا ہے اور پھر دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بٹھ کر گپ شپ لگانا چاہتے ہیں کیوں کہ اس طرح کی گپ شپ کا تو مزہ ہی وکھرا ہوتا ہے۔ ہوٹل، پارک وغیرہ سب بند۔ بیٹھیں تو کہاں بیٹھیں۔ ایک دوسرے کےدل میں تو وہ پہلے ہی بیٹھ چکے ہوتے ہیں۔ بہرحال اس سلسلے میں پاکستانی مرد کمال کے پلانرز ہیں۔

موصوف نے ایک ریستوران کے ویٹر کو سو روپے ٹکائے اور اس سے ایک کیبن لینے میں کامیاب ہو گیا ۔ رازو نیاز کی باتیں ہوئیں اور وہ بھی پہلی بیوی سے خفیہ۔ مزا آگیا۔ ملاقات وعدے وعید پر ختم ہوئی اور دونوں رات سے پہلے خوشی خوشی گھر لوٹے۔ اس میٹنگ کو پہلی بیوی سے مکمل طور پر خفیہ رکھا گیا۔ لیکن آئی بلا کو کون ٹال سکتا ہے۔ دودن بعد گھر کے دروازے پر دستک ہوتی ہے۔ موصوف دروازہ کھولتے ہیں تو چند پولیس ملازمین پوچھتے ہیں کہ آپ فلاں ہیں۔ مثبت جواب ملنے پر انہوں نے بتایا کہ آپ ایک خاتون سے پرسوں رات ملے ہیں اور اس کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو آگیا ہے۔ لہذا اب آپ چند دن پولیس کی حراست میں رہیں گے تاکہ آپ کو سوشل ڈیسٹینسنگ کا سبق سکھایا جا سکے۔ اس طرح کی سب کہانیاں جو مصنف نے تحریر کی ہیں وہ انتہائی دلچسپ ہیں اور ان کے کردار میرے جیسے اور میرے ارد گرد گھومنے والے لوگ ہیں۔ زیر نظر کالم میں دو کہانیوں کا ہی اجمالی نقشہ پیش کیا گیا ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ دیگ سے چند چاول ہی چکھ کر دیگ کا ذائقہ معلوم کیا جا سکتا ہے۔ یقیننا کرونا نے ہماری بے شمار کمزوریوں کو ہم پر آشکار کیا ہے عقلمندی کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو آنے والی ایسی آفات سے نبرد آزما ہونے کے لئے مکمل طور پر تیار کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں