آزادی صحافت کا عالمی دن ! …………… تحریر، عبداللہ مسعود

صحافی معاشرے کی آنکھ ہوتا ہے جو شہریوں کے مسائل اور ریاستی اداروں کی خرابیوں کی نشاندہی اپنی آواز اور قلم کے ذریعے کرتا ہے لیکن ریاستی ادارے اور طاقت ور شخصیات اپنی غلطی درست کرنے کی بجائے صحافیوں پر حملہ آورہوتی ہیں لیکن ایسے عناصر یہ نہیں سمجھتے کہ صحافیوں کو جبر کے ذریعے خاموش تو کر سکتے ہیں لیکن اس کی قلم سے لکھے گئے لفظوں کی گونج آپ کو ہمیشہ پریشان رکھے گی۔ پاکستان میں صحافت اپنی آزادی سے بہت دور ہے ۔ جرائم پیشہ و طاقتور افراد، انتہا پسند گروپس کی طرف سے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی صحافی غیر محفوظ ہیں اپنے فرائض کی تکمیل کے دوران ان عناصر کی طرف سے درجنوں صحافیوں کو قتل، زخمی اور اغوا کیا گیا۔

افسوس ناک بات یہ کہ ان میں سے بہت سے صحافیوں کو ریاستی جبر کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے ۔ ماضی میں بلوچستان، سندھ اور کے پی کے(فاٹا) میں صحافی اغوا اور قتل کیے جاتے رہے ہیں تاہم گزشتہ چند ماہ میں پاکستان کے محفوظ ترین سمجھے جانےوالا شہر اسلام آباد بھی صحافیوں کے لیے موت کی وادی میں تبدیل ہو گیا ہے جہاں احمد نورانی کے سر پر چھریوں سے وار کیے، مطیع اللہ جان کو اجالے میں اغوا کر لیا گیا جبکہ چند روز قبل اسلام آباد کے ایف الیون سیکٹر سے ابصار عالم پر قاتلانہ حملہ کرتے ہوئے پیٹ میں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا ۔ اتفاق کی بات ہے کہ ہمیشہ ایسے صحافیوں کو ہی نشانہ بنایا جاتا ہے جو طاقت وروں کے غیر قانونی کاموں کی نشاندہی کرتے ہیں یا کسی سٹوری پر کام کر رہے ہوتے ہیں ۔ ظلم تو یہ کہ صحافیوں کے خلاف بعض اوقات بعض ریاستی ادارے بھی شامل ہوتے ہیں جن پر کئی بار انگلیاں بھی اٹھتی ہیں۔ ایسے اداروں پر شہریوں کی طرف سے سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ اگر یہ ان واقعات میں شامل نہیں ہیں تو یہ ادارے تمام تر وسائل ہونے کے باوجود صحافیوں پر ہونے والے حملوں میں ملوث افراد کو سامنے لانے میں اپنا کردار ادا کیوں نہیں کرتے۔ الٹا اداروں کے ذمہ داران کی طرف سے زخمی یا مارے جانے والے صحافیوں پر الزامات لگا کر موضوع تبدیل کرنے کی کوشش کرنا اپنا فرض سمجھا جاتا ہے ۔

پر تشدد واقعات میں سیاسی جماعتوں کے رہنماوں اور کارکنان بھی کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔ ایک دو کیسز کے علاوہ اسلام آباد سمیت ملک بھر میں صحافیوں کے ساتھ ہونے والی وارداتوں کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔ یورپین یونین، یونائیٹڈ نیشن سمیت دیگر ممالک اور غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے پاکستان میں صحافیوں پر ہونے والے حملوں اور اغوا پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے صحافیوں کے تحفظ پر زور دیا ہے تاہم حکومت پاکستان اور ریاستی اداروں کی جانب سے عالمی دباو کو خاطر میں نہیں لایا جا رہا جس وجہ سے یوپی یونین کی طرف سے اقلیتوں اور صحافیوں کے عدم تحفظ پر پاکستان پر پابندیوں کی قرار دار بھی منظور کی گئی ہے ۔ پاکستان حکومت کو سوچنا چاہیے کہ صحافیوں سمیت شہریوں کے تحفظ کے لیے اقتدامات نہ اٹھائے گئے تو ملک مزید مسائل کی دلدل میں دھنستا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں