انجمن فقیران مصطفیٰ ﷺ کی 215 واں ماہانہ طرحی نعتیہ مشاعرہ ( پروفیسر ریاض احمد قادری )

شہرِ نعت فیصل آباد کی متحرک ترین نعتیہ ادبی تنظیم ” انجمن فقیران مصطفیٰ ﷺ فیصل آبادکا 215 واں ماہانہ طرحی نعتیہ مشاعرہ اعوان نعت محل غلام محمد آباد میں 30۔ اپریل 2021 جمعتہ المبارک 17 رمضان المبارک یوم بدر کو انعقاد پذیر ہوا اس کی صدارت پروفیسر سکندرعزیز خان نے فرمائی۔ جن کا طرح مصرع: اشک آنکھوں میں ہیں جاری میرے آقاﷺ دیکھئے ” دیا گیا تھا محفل مشاعرہ عصر تا افطاری منعقد ہوئی۔

مہمان خصوصی ان کے استاد محمد سلیم شاہد تھے ۔نقابت: ریاض احمد قادری راقم الحروف نے کی ۔ڈاکٹر محمد اقبال ناز نے تلاوت فرمائی۔ محمد فیضان کریم اعوان نے نعت شریف پڑھی۔ کلام پیش کر نے والوں میں محمد عمیر لبریز، محمد حسین آصل، محمد رضوان تقی بخاری، زاہد سرفراز زاہد، سید شاہد حسین شاہد،اقبال ناز، زبیر نقشبندی، اللہ نواز منصور اعوان، محمد جاوید اطہر، انجیئیر اشفاق ہمزالی،عبید اللہ عاصم، تہلیل الرحمان تہلیل ،باسط ممتاز سید،حکیم سخن ارشد محمود ارشد، اللہ رکھا نازش قادری، آن لائن کلام پیش کر نے والوں میں منیر احمد خاور، پروفیسر محمد طاہر صدیقی، محمد سرور قمر قادری، میاں منیر احمد منیر، شوکت جلال چشتی، ناصر حسین راضی، مبشر حسن کامل، مبشر حسین فیضی، ابراہیم حسان، فقیر حسین چشتی، محمد مودود چشتی، ڈاکٹر ملک مقصود عاجز، پروفیسر مسعود الرحمان مسعود، این ایس شانی، محمد محبوب حیدر عالم چشتی سمندری، قاسم ہادی، ارشد ستار ارشد، محمد امین انصاری عزمی، شامل تھے۔ صاحب صدر کی خدمت میں فقیر مصطفیٰ نعت ایوارڈ 2021 پیش کیا گیا انہوں نے اپنے خطاب میں انجمن فقیران مصطفیٰ کی شاندار خدمات کو سراہا اور فقیر مصطفیٰ امیر کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ۔ مشاعرے میں پیش کیا جانے والا کلام پیش خدمت ہے ۔

صدارتی کلام

نعت شریف

اشک آنکھوں سے ہیں جاری میرے آقا دیکھئے
پر خطا کی شرمساری میرے آقا دیکھئے
روز محشر روسیاہ کیسے کرے گا سامنا
دل پہ ہے یہ خوف طاری میرے آقا دیکھئے
میری حالت پر بھی اک نظر کرم فرمائیے
در پہ آیا ہے بھکاری میرے آقا دیکھئے
طالب ازن حضوری ہوں مدینہ کے لئے
روح و دل کی بیقراری میرے آقا دیکھئے
میں گناہوں پر ہوں نادم ، معاف ہو للہ خطا
کر رہا ہوں عرض داری میرے آقا دیکھئے
بخش دیں مجھ کو بھی آقا التجا ہےیہ مری
ہے یہ لب پہ آہ و زاری میرے آقا دیکھئے
درد دل کا اب مداوا سیدی فرمائیے
ہو غموں سے رستگاری میرے آقا دیکھئے
کر کے قرباں جانثاروں کو کہا یہ شاہ نے
سوئے مقتل میری باری میرے آقا دیکھئے
میرے دل کی بے بسی تو آپ سے پنہاں نہیں
دور ہو اب دلفگاری میرے آقا دیکھئے
اپنی امت کی زبوں حالی پہ ھو للہ کرم
اب مٹے یہ پر فشاری میرے آقا دیکھئے
نامئہ اعمال میرا ہے گناھوں سے بھرا
کیجئے اب پردہ داری میرے آقا دیکھئے
موت کا آئے بلاوا جس گھڑی مجھ کو عزیزؔ
لب پہ ہو یہ ورد جاری، میرے آقا دیکھئے

سکندر عزیز خان
نعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم
طرح مصرع: سکندر عزیز خان
“اشک آنکھوں سے ہیں جاری میرے آقا دیکھئے”
آپکی چوکھٹ پہ آیا غم کا مارا دیکھئیے
آپ کامنگتا ہوں میں بھی تو خدارا دیکھئیے
حال دل میرا سناتی ہے مری دیدہ دری
“اشک آنکھوں سے ہیں جاری میرے آقا دیکھئے”
گردش ایام نے مجھ کو رلایا ہے بہت
مشکلوں میں آپ کو دل نے پکارا دیکھئیے
آپ کے بن کون میرا مونس و غمخوار ہے
کیجئے نظر کرم اک بار للہ دیکھئے
آپ آئیں گے تو میرے گھر میں ہو گی روشنی
کب سے ہے تاریکیوں میں میری دنیا دیکھئے
بن گئیں میرا مقدر در بدر کی ٹھوکریں
بن گیا ہوں میں زمانے کا تماشا دیکھئیے
مجھ پہ دنیا کے اندھیرے ہیں مسلط ہو گئے
آپ آجائیں تو ہو جائے اجالا دیکھئیے
آپکی توصیف میں کٹتےہیں میرے روز و شب
آپ کی نعتوں پہ ہے میرا گزارا دیکھئیے
آپ نے بخشا شعور زندگی آقا مجھے
شب گزیدہ ہو کے میرا مسکرانا دیکھئیے
اور کچھ کب چائیے مجھ کو سوائے آپ کے
میرا آقا ، میرے ملجا ،میرے ماوی دیکھئے
مجھ کو صدقہ دیجئے سرکار اپنی آل ؑ کا
واسطہ حسنینؑ کا میں نے ہے مانگا دیکھئیے
بخش دیں خیرات مجھ کو میرے آقا نور کی
آپ کے در پر پڑا شاہدؔ بیچارا دیکھئیے

شاعر: محمد سلیم شاہدؔ (مہمان خصوصی )ؔ
نعت شریف
ہونٹوں پر ہے آہ و زاری، میرے آقاﷺ دیکھئے
” اشک آنکھوں میں ہیں جاری ، میرے آقاﷺ دیکھئے”

وار ہیں اعدا ء کے جاری میرے آقاﷺ دیکھئے
خوار ہے ملت بچاری ، میرے آقاﷺ دیکھئے

خستہ و بیمار کتنی امتِ مرحوم ہے
مردنی ہے اس پہ طاری ، میرے آقاﷺ دیکھئے

ہے ضرورت مومنوں کو آپ کی امداد کی
ہوگئے عملوں سے عاری ، میرے آقاﷺ دیکھئے

دیجئے توفیق اس کو یہ ثنا ہردم لکھے
دل کرے مدحت تمہاری میرے آقاﷺ دیکھئے

آیا ہوں خیرات پانے آپ کے الطاف کی
آپ کے در کا بھکاری میرے آقاﷺ دیکھئے

جو گزرتی دل پہ ہے اک ہجر میں پیارے نبیﷺ!
کیفیت لکھ دی ہے ساری میرے آقاﷺ دیکھئے

مجھ کو مال وزر کی اب کوئی ضرورت ہی نہیں
چاہئے الفت تمہاری ، میرے آقاﷺ دیکھئے

آگیا در پر ریاضِ قادریؔ کاسہ لئے
مانگنے مدحت نگاری ، میرے آقاﷺ دیکھئے

ریاض احمد قادری
نعت شریف

انﷺ کی گلیاں دیکھئیے اورانﷺ کا روضہ دیکھئے
الفتوں کی آنکھ سے سب شہرِ آقاﷺ دیکھئے

اک جھلک آقاﷺ کی جس نے دیکھ لی حق پالیا
دیکھنے انوار ہیں تو انﷺ کا جلوہ دیکھئے

آیا ہوں دربار پر اپنی خطائیں لے کے سب
” اشک آنکھوں میں ہیں جاری میرے آقاﷺ دیکھئے”

کونسا جاتا ہے رستہ شہرِ طیبہ کی طرف
میری خاطر آپ ہی دنیا کا نقشہ دیکھئے

دیدِ شہرِ مصطفیٰﷺ ہے زندگی ہی زندگی
اس کو اپنی زیست میں ہر ایک لمحہ دیکھئے

نعتِ سرکارِ دوعالم ﷺ ہے عروجِ فکر و فن
بہرِ دربارِ نبیﷺ پھر مصرعہ مصرعہ دیکھئے

سیرتِ اطہر نبیﷺ کی ہے نجات اپنی ریاضؔ
بہرِ تقویٰ دہر میں آقاﷺ کااسوہ دیکھئے

ریاض احمد قادری
حمدِ باری تعالیٰ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب بڑھائی اور بزرگی حق کو زیبا دیکھئے
جس کی قدرت کا ہے جلوہ ساری دنیا دیکھئے
اس کی منشا سے ملیں گی عظمتیں ہر اک جگہ
مثل گر ہو دیکھنی تو خانہ کعبہ دیکھئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انجمن فقیرانِ مصطفٰی ﷺ کے زیرِ اہتمام مورخہ ۳۰ ۔ اپریل ۲۰۲۱ھ کو انعقاد پذیر ہونے جارہی ماہانہ محفلِ میلاد اور طرحی محفلِ مشاعرہ کے لئے جناب پروفیسر سکندر عزیز خاں کے طرح مصرعہ ’’ اشک آنکھوں سے ہیں جاری میرے آقا دیکھئے‘‘ پر لکھی گئی :
نعت رسول مقبول ﷺ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رب کی قدرت کا امیں ہے خانہ کعبہ دیکھئے
’’ طٰہٰ ﷺ‘‘ کی برکت سے طیبہ کا اُجالا دیکھئے
اول و آخر وہیؐ ہے ظاہر و باطن وہیؐ
’’فو قَ کُلِّ ذِی عِلم۔۔‘‘ ہے جو سراپا دیکھئے
ہیں گواہی دے رہے ’’فاتُوْا بسورَۃِم ۔۔۔‘‘ کے لفظ
حق نے بھی حق ہی تو ہے حقؐ پر اتارا دیکھئے
مل گیا جب اس جہاں کو ان کی سیرت کا طریق
نکھری اس کی پھر ہے ساری دین و دنیا دیکھئے
آیۂ ’’یُخٰدِعُونَ اللہ ‘‘ بھی یہ کہتی ہے
دھوکہ دینا ہے نبی ﷺ کو رب کو دھوکہ دیکھئے
آپؐ کی مسکان پر یہ دل نچھاور جان بھی
آپ ؐکے فیضاں سے تر ہوتا ہے صحرا دیکھئے
لوگ آئیں عمرہ کرنے اور کبھی حج کے لیے
دِل کہے حج ہو گا ان کا نوری مکھڑا دیکھئے
اک وسیلے سے ترے ؐ ہی سن رہا ہے ہر دعا
ذات باری میرا رب ہے تیرا ؐ شیدا دیکھئے
آپ ؐسے ہی التجا ہے آپ ہی کیجے کرم
وقت اُمت پر ہے بھاری اب خدارا دیکھئے
خوف لاحق ہو گیا سب پر کرونا کا یہاں
کچھ علاجِ مرضِ مہلک اب ہو مولا دیکھئے
سوئے طیبہ آ گیا ہے دید کو شاہد ؔ کہ یوں
” اشک آنکھوں سے ہیں جاری میرے آقا دیکھئے ”

سیّد شاہد حُسین شاہدؔ ۔ فیصل آباد
نعت شریف
جر میں سانسیں ہیں بھاری میرے آقا دیکھئے
عمر بیتی جائے ساری میرے آقا دیکھئے
میں بھی قرباں آپ پر ہوں،میرے آبا بھی نثار
آپ پر نسلیں ہیں واری میرے آقا دیکھئے
جھولیاں بھرتے ہیں سب کی آپ بن مانگے حضور
میں بھی ہوں در کا بھکاری میرے آقا دیکھئے
روسیاہی دور کرنے کے لئے روتا ہوں میں
اشک آنکھوں سے ہیں جاری میرے آقا دیکھئے
آپ کے در کے غلاموں کا ہوں میں ادنیٰ غلام
ہیں والدہ بھی میری باندی میرے آقا دی دیکھئے
حشر میں میزان پر اعمال جب تُلنے لگیں
آپ ہوں گے میرے والی میرے آقا دیکھئے
یا رسول اللہ بچا لو صدقہ ہے حسنین کا
ہے مرض پھیلی وبائی میرے آقا دیکھئے
گلستانِ نعت مہکا ہے مہکتا ہی رہے
ہم نے بھی بوئی ہے کیاری میرے آقا دیکھئے
یا رسول اللہ عطا منصور کو بھی ہو سکوں
شاد ٹھہرے زیست ساری میرے آقا دیکھئے

اللہ نواز منصوراعوان
نعت شریف
دید سے گرچہ ہیں عاری میرے آقا دیکھئے
اشک آنکھوں سے ہیں جاری میرے آقا دیکھئے
وقتِ آخر جب ہو طاری میرے آقا دیکھئے
ہو لبوں پر بس یہ جاری ’’میرے آقا دیکھئے‘‘
دیکھئے للہ میری سمت بھی یا مصطفٰی
میرے دل کی بیقراری میرے آقا دیکھئے
آپ کی نعتوں سے مہکا ہے مرا سارا بدن
دل کی بھی ہو آبیاری میرے آقا دیکھئے
مجھ سے عاصی پر بھی ہو نظرِ کرم یا مصطفٰی
کھا گئی ہے شرمساری میرے آقا دیکھئے
مجھ کو جب بھی دہر کےغم کاٹ کھانے کو بڑھے
میری رگ رگ ہے پکاری میرے آقا دیکھئے
آپ کی راہوں میں بیٹھا ہوں سجا کر چشم و دل
ہو نگاہے لطف پیاری میرے آقا دیکھئے
المدد یا المدد گھیرے ہوئے ہیں زندگی
غم کے ہر اک جا شکاری میرے آقا دیکھئے
کیا سنائے زاہدِ خستہ تمہیں اب حالِ دل
ہے تمہیں سب جانکاری میرے آقا دیکھئے

زاہد سرفراز زاہدؔ ۔ فیصل آباد
نعت شریف

اس زمیں پر پیارے آقاﷺ کا دوارہ دیکھئے
اپنی آنکھوں سے کبھی عرشِ معلیٰ دیکھئے

آپﷺ ہی فریادرس ہیں دوجہانوں میں مرے
” اشک آنکھوں سے ہیں جاری میرے آقاﷺ دیکھئے”

آلِ پاکِ مصطفیٰﷺ سے داد پاتے ہیں سبھی
جا کے آقاﷺ کے نگر میں ان کا رتبہ دیکھئے

خالی لوٹاتے نہیں ہیں وہ کبھی اپنا گدا
مانگ کر بھرتا ہوا یہ اپنا کا سہ دیکھئے

نعت کی خیرات ملتی ہے مدینے سے مجھے
اور کشکولِ گدا میں ان کا حصہ دیکھئے

مانگنے سے پہلے ہی بھردیتے ہیں دامن مرا
میرے دامن پہ بھی پڑتی نظرِ مولا دیکھئے

باسطؔ اک ادنیٰ گدائے مصطفیٰ ہے دہر میں
اس کے سر پر سرورِ عالم ﷺ کا سایہ دیکھئے

باسط ممتاز سید
نعت شریف

دید سے گرچہ ہیں عاری میرے آقا دیکھئے
اشک آنکھوں سے ہیں جاری میرے آقا دیکھئے
وقتِ آخر جب ہو طاری میرے آقا دیکھئے
ہو لبوں پر بس یہ جاری ’’میرے آقا دیکھئے‘‘
دیکھئے للہ میری سمت بھی یا مصطفٰی
میرے دل کی بیقراری میرے آقا دیکھئے
آپ کی نعتوں سے مہکا ہے مرا سارا بدن
دل کی بھی ہو آبیاری میرے آقا دیکھئے
مجھ سے عاصی پر بھی ہو نظرِ کرم یا مصطفٰی
کھا گئی ہے شرمساری میرے آقا دیکھئے
مجھ کو جب بھی دہر کےغم کاٹ کھانے کو بڑھے
میری رگ رگ ہے پکاری میرے آقا دیکھئے
آپ کی راہوں میں بیٹھا ہوں سجا کر چشم و دل
ہو نگاہے لطف پیاری میرے آقا دیکھئے
المدد یا المدد گھیرے ہوئے ہیں زندگی
غم کے ہر اک جا شکاری میرے آقا دیکھئے
کیا سنائے زاہدِ خستہ تمہیں اب حالِ دل
ہے تمہیں سب جانکاری میرے آقا دیکھئے

زاہد سرفراز زاہدؔ ۔ فیصل آباد
نعت شریف

انبیاو مرسلیں میں سب سے اعلیٰ دیکھئے
احمدِ مختارِ کل اور شاہِ بطحا دیکھئیے
مغفرت آقا کریں گے میری بھی محشر کےدن
رند کی بخشش کا سامانِ معلّیٰ دیکھئیے
جنکی عظمت کی گواہی دیتا ہے ربِ ازل
مصطفیٰ ﷺکا سب سے افضل پاک شجرہ دیکھئیے
بند کر کے آنکھوں کو اور چوم کر نامِ نبیﷺ
شہرِ طیبہ دل میں رکھ کر انکا روضہ دیکھئیے
سن لے منکر میرے آقا کی شفاعت کا ہے جو
ہر جہاں میں چلتا ہے انکا ہی سکّہ دیکھئیے
میرے سب اعمال سے ہیں میرے مولا آشنا
امتی ادنیٰ سا ہوں مجھکو خدارا دیکھئیے
حسنِ یوسف دیکھنے والو مری مانو سہی
عارض ورخسارِ آقاﷺاور چہرہ دیکھئیے
مجھ تقی کو بس بلا لیں اب سخی دربار میں
” اشک آنکھوں سے ہیں جاری میرے آقا دیکھئیے
سیدمحمد رضوان تقی شاہ بخاری

نعت رسول مقبول ﷺ

عمر فرقت میں گزاری میرے آقا دیکھئے
اب تو سن لیں آہ و زاری میرے آقا دیکھئے

سوئے طیبہ چل دیئے ہیں دید کی حسرت لیے
” اشک آنکھوں میں ہیں جاری میرے آقا دیکھئے ”
اب تو صورت کا نظارا اب تو صورت کی جھلک
بڑھ گئی ہے بے قراری میرے آقا دیکھئے
آپ کی مسکان پر یہ دل نچھاور جان بھی
آپ کے صدقے میں واری میرے آقا دیکھئے
میں بھی عمرہ کو چلا آوں کبھی حج بھی کروں
کیا کروں حج کی تیاری میرے آقا دیکھئے
ہر کسی کو خوف ہے تو اس وبال جان کا
یہ کرونا کی بیماری میرے آقا دیکھئے
آپ سے ہی التجا ہے آپ ہی کیجے کرم
وقت امت پہ ہے بھاری میرے آقا دیکھئے
آپ کیجے تو سنے گا آپ کی سنتاہے وہ
ہر دعا وہ ذات باری میرے آقا دیکھئے

این ایس شانی سمندری
نعت رسول مقبول صلی علیہ والہ و سلم

بارگاہ مصطفی سے ہی جی پایا دیکھئے
جس نے بھی ہے بھید پایا لا الہ کا دیکھئے
مشکلیں ہیں کیسے ٹلتیں زندگی کی پھر تمام
نام لیکے مومنو مشکل کشا کا دیکھئے
ہے نگاہوں ں میں بسا جی سبز گنبداپنےتو
دیکھئے اب ہر گھڑی خیرالوری کا دیکھئے
ہو سکا نہ انبیا میں جو کسی کو بھی نصیب
آپ کا معراج پر وہ آنا جانا دیکھئے

دو جہاں میں ھے بنایا انکو اپنا بھائی جو
ہے علی سے پیار کتنا مصطفی کا دیکھئے
ہورہی ہے بات گھر گھر جو حسین پاک کی
آج بھی قصہ ہے تازہ کربلا کا دیکھئے
جن کی خاطر ہے بنایا سارا عالم مومنو
پیار کتنا مصطفی سے ھے خدا کا دیکھئے
رب قسم ہوتا نہیں ہے حج فریضہ بھی قبول
جب تلک نہ روضہ عالم مصطفی کا دیکھئے
سائیں محمد محبوب عالم چشتی رضوی

نعت شریف

”اشک آنکھوں سے ہیں جاری میرے آقا دیکھئیے“
جز ندامت کچھ نہیں بس اپنا سایہ دیجئیے

یشفعہ الا باذنہ کی ہے تفسیر یہ
آیتہ الکرسی کو پڑھئیے مصطفی کو سوچئیے

الفلق والناس آقانے سکھا دی جب ہمیں
آئیے ابلیس کا پھراس سے رستہ روکئیے

غیرت ِفاروق کا بس ایک ذرہ ہو عطا
سوز ِصدیق و علی کا ایک قطرہ دیجئیے

نفرتوں کا زہر اپنی موت خود مرجاے گا
سیرت ِمختار سے کرداراچھا کیجئیے

جنتوں کی جو بھی ٹھنڈک ہے اسی کا فیض ہے
آئیے دشت ِمدینہ کی حرارت سینکئیے

اے شفیع المذنبیں مسعود کی ہے التجا

ملک یثرب ہو چلا اس کو مدینہ کیجئیے

پروفیسر محمد مسعود الرحمان مسعود
نعت شریف

کیوں بہ حسرت سوئے کرب بخت خفتہ دیکھئے
مصطفیٰ کا در ہے ہر غم کا مداوا دیکھئے

قدسیاں رہ جائیں رہ میں آپ جائیں عرش پر
شوکت خیر البشر کا ہے تقاضا دیکھئے

بن کے منگتے سید کونین کے دربار پر
سر جھکاتے ہیں سلاطینِ زمانہ دیکھئے

آخر شب دل میں خواب دید کی ہے آرزو
اشک آنکھوں سے ہیں جاری میرے آقا دیکھئے

ہے رہین لطف اس کی نکہت فردوس بھی
رو کش مشک ختن ان کا پسینہ دیکھئے

خوب تر القاب ان کے ہیں رقم قرآن میں
شاہد و مزمل یسین و طہ دیکھئے

ہیں ربیع نور کے شیدا قلوب عاشقاں
نسبت آقا سے ہے یہ راحت افزا دیکھئے

حشر کے دن رہ نہ جائے کوئی محروم عطا
شافع محشر کی ہے عاصم تمنا دیکھئے

محمد عبید اللہ عاصم جھپال
نعت شریف

طرحی نعت : اشک آنکھوں سے ھیں جاری میرے آقا دیکھئے (سکندر عزیز خان)
شاعر: ناصر حسین راضی
نعت رسول مقبول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم
عرش اعظم پر تجلی کا پھریرا دیکھئیے
آپ ہیں تقریب حق میں جلوہ فرما دیکھئیے
روح و دل کو جانب بطحا روانہ دیکھئیے
پیروی میں دھڑکنوں کو جادہ پیما دیکھئیے
جو کی روٹی، خاک کے بستر پہ تکیہ دیکھئیے
وارث کونین کا یہ فقر و فاقہ دیکھئیے
دیکھنے کی چیز ھے تو کیوں نہ واللہ دیکھئیے
کردگار شوق کا شہکار یکتا دیکھئیے
پستیوں کا مستیوں سے بول بالا دیکھئیے
چار سو اسم محمد کا اجالا دیکھئیے
سیرت سرکار کا نوری مجلہ دیکھئیے
کاتب تقدیر ھے خود خامہ فرسا دیکھئیے
آتی جاتی سانس کا یہ تانا بانا دیکھئیے
دم بدم ھے آپ ہی کی نام لیوا دیکھئیے
بر سر محشر بھی ان کا بول بالا دیکھئیے
سب لوائے حمد کے ہیں زیر سایہ دیکھئیے
جالیوں کو چومئے ،صحن مواجہ دیکھئیے
دیدہ حیرت سے حسرت کا مداوا دیکھئیے
عابد و معبود کا رشتہ انوکھا دیکھئیے
دونوں اک دوجے کا کرتے ہیں وظیفہ دیکھئیے
دید والوں کا کھلی آنکھوں سے سونا دیکھئیے
لوٹتے ہیں دین و دنیا کا یہ میلہ دیکھئیے
اس میں حکم حاکم کن کار فرما دیکھئیے
قبلہ رو ہونے سے پہلے سوئے طیبہ دیکھئیے
اک بدن سرکار کا ،دوجے کا چہرہ آپ سا
میل میں حسنین کے مدنی سراپا دیکھئیے
روسیاہ راضی کھڑا ھے دست بدستہ دیکھئیے
“اشک آنکھوں سے ہیں جاری میرے آقا دیکھئے”

ناصر حسین راضی فیصل آباد
نعت شریف

جائیے سوئے مدینہ ان کا روضہ دیکھیے
رات میں بھی اس جگہ نوری سویرا دیکھیئے

یورش کرب و الم سے چور ہوں کر دیں کرم
“اشک آنکھوں سے ہیں جاری میرے آقا دیکھیے”

ہیں کھلاتے پیارے آقا ہر گدا و شاہ کو
طشت رحمت آپ کا ہر اک جا بچھتا دیکھیے

نقش پا ئے مصطفی ہیں نقش اس دل پر ہوئے
آسمانوں کے برابر دل یہ میرا دیکھیے

دوجہاں کے تاجور کو رکھ کے اپنی گود میں
غار میں صدیق کا جلوے اٹھانا دیکھیے

فہم سے افزوں سیاحت ہے رسول پاک کی
آسماں پر ان کا پل میں آنا جانا دیکھیے

یہ شگفتہ پن درود و نعت کا فیضان ہے
مثل نافہ دہن میرے کا مہکنا دیکھیے

چاند سورج میں ضیا ہے ان کے رخ پر نور سے
ہر سو پھیلا دہر میں آقا کا جلوہ دیکھیے

آج بھی آلام و غم کی تلخی کا درماں بنے
ہمدم خستہ دلاں کا شیریں لہجہ دیکھیے

خوش نصیبی سے یہ قاسم شاعر سرکار ہے
اس غلام مصطفیٰ کا اوج پانا دیکھئیے

محمد قاسم رشید ہادی
نعت شریف

عمر بیتی جائے ساری میرے آقا دیکھئے
دوری طیبہ کی ہے بھاری میرے آقا دیکھئے

دل میں ہیں طیبہ کی یادیں لب پہ نعتیں آپ کی
اشک آنکھوں سے ہیں جاری میرے آقا دیکھئے

سبز گنبد کے نظارے دیکھ لوں میں جیتے جی
ہونٹوں پر ہے آہ و زاری میرے آقا دیکھئے

راکبِ دوشِ نبی کو دیکھ کر بولے عمر
کتنی ہے اعلی سواری میرے آقا دیکھئے

آپ کی لکھتا ہوں نعتیں آپ ہی کی بات ہے
عمر یوں ساری گزاری میرے آقا دیکھئے

گود میں حسنین کو لے کر علی گویا ہوئے
خوب ہے جوڑی یہ پیاری میرے آقا دیکھئے

ہو لحد یا حشر کا میدان ہو کیجے کرم
ّوقتِ آخر جب ہو طاری میرے آقا دیکھئے

آپ کا آیا گدا ہے یہ فقیرِ بے نوا
خالی مت جائے بھکاری میرے آقا دیکھئے

جانبِ طیبہ میں دیکھوں جب بھی جاتا اک فقیر
بڑھتی جائے بے قراری میرے آقا دیکھئے

فقیر حسین چشتی
نعت شریف

ورد ہے لب پر یہ جاری میرے آقا دیکھیے
ہو غلاموں میں شماری میرے آقا دیکھیے

سبز گنبد جس نے دیکھا اس نے پایا آپکو
آئے گی کب میری باری میرے آقا دیکھیے

بن گئے خاکے ہیں گھٹیا اور یہ امت آپ کی
شرم سے ہے ماری ماری میرے آقا دیکھیے

تیرے عاشق مر رہے ہیں دہر میں تیرے لیے
وقت ہے امت پہ بھاری میرے آقا دیکھیے

سیدہ زہرہ کے صدقے ہو کرم کی اک نظر
آپ کی دختر وہ پیاری میرے آقا دیکھئے

آپ ہی کے ہجر میں ہے دل یہ افسردہ ہوا
اشک آنکھوں سے ہے جاری میرے آقا دیکھئے

اب کرو نظر کرم اپنے گدا مودود پر
نعت کہتا ہے تمہاری میرے آقا دیکھئے

محمد مودود عظیم چشتی
نعت شریف

درد فرقت کے ہیں بھاری میرے آقاﷺ دیکھئے
بڑھ گئی ہے بے قراری میرے آقاﷺ دیکھئے

کب سے آنکھیں منتظر ہیں دل بنا ہے فرشِ راہ
آئی نہ لیکن سواری میرے آقاﷺ دیکھئے

لینے صدقہ آپ سےپیارے نواسوں کا حضورﷺ
آ گئے در پر بھکاری میرے آقاﷺ دیکھئے

ایک مجرم سر جھکائے آ گیا دہلیز پر
”اشک آنکھوں میں ہیں جاری میرے آقاﷺ دیکھئے“

آج بھی سویا اسی امید سے آپ آئیں گے
پر گئی یہ شب بھی عاری میرے آقاﷺ دیکھئے

سب کو پہنچا ہے پیامِ حاضری میرے سِوا
کر کے بیٹھا ہوں تیاری میرے آقاﷺ دیکھئے

خواہشِ دیدار گر پوری نہ میری ہو سکی
رایئگاں ہے عمر ساری میرے آقاﷺ دیکھئے

جب سرِ محشر سرِ میزان لایا جائوں مَیں
ہو کوئی نہ شرمساری میرے آقاﷺ دیکھئے

سر پہ رکھنے کو ملیں گر آپ کے نعلینِ پا
کیا حسیں ہو تاجداری میرے آقاﷺ دیکھئے

ہیں پریشاں حال آقاﷺ اس کرونا کے سبب
دور ہو اب یہ بیماری میرے آقا دیکھئے

عاجزِؔؔ بےحال کو بھی دیں حضوری کا شرف
ختم ہو یہ اشکباری میرے آقاﷺ دیکھئے

ڈاکٹر مقصود احمد عاجز فیصل آباد
نعت شریف

روز و شب ہے چاند محو طوفِ طیبہ دیکھئے
پارہا ہے لذتِ دیدارِ روضۃ دیکھئیے

بہرِ آدابِ مدینہ جھک رہا ہے آسماں
شہرِ نورِ مصطفیٰ ﷺ کا رعب و رتبہ دیکھئیے

جا ں بلب ہوں خوف ہے دل میں عذابِ قبر کا
” اشک آنکھوں سے ہیں جاری میرے آقاﷺ دیکھئیے”

حالِ امت پر کرم کی اک نظر کیجے حضورﷺ!
ہے تباہی پر تلا ظالم کرونا دیکھئیے

شش جہت میں ہے جہاں تک جلوہ نورِ خدا
ہے وہاں تک نورِ رحمت مصطفیٰ ﷺ کا دیکھئیے

دشمنِ جاں کو بھی آقاﷺ بددعا دیتے نہیں
اس قدر رحمت فزا ہے انﷺ کا اسوہ دیکھئیے

روز اترتے ہیں فرشتے چرخ سے بہرِ سلام
چشمِ دل سے رتبہ شاہِ مدینہ دیکھئیے

جس کے بوسے کو جبینِ عرش بھی ہے بےقرار
نازشِ کون مکاں ﷺ کا ہے وہ تلوہ دیکھئیے

اللہ رکھا نازش قادری جھپال
نعت شریف

کررہا ہے تیرہ مستقبل ہمارا دیکھئیے
کفرنے پھر سر اٹھایا ہے خدارا دیکھئیے

تنگی داماں سے عاصلؔ بھی خدارا دور ہو
” اشک آنکھوں میں ہیں جاری میرے آقاﷺ دیکھئیے

محمد حسین عاصل ؔ
نعت شریف

دل کی آنکھوں سے رُخِ میزابِ کعبہ دیکھئیے
وہ بھی ہے مشتاقِ دیدارِ مدینہ دیکھئیے

لا رہی ہے پھر سے اذنِ حاضری بادِ نسیم
چشمِ ہمذالی ؔ بسوئے راہِ طیبہ دیکھئیے

محمد اشفاق ہمذالی
نعت شریف

فرطِ شوقِ جبہہِ عرشِ معلیٰ دیکھئیے
بو سہ ء نعلینِ آقاﷺ کی تمنا دیکھئیے

خوبی قسمت سے ارشدؔ ان کی نسبت ہے نصیب
جن کے سجدے کو جھکی محرابِ کعبہ دیکھئیے

حکیم محمد ارشد محمود ارشد
نعت شریف

یا رسول اللہ اک نظرِ کرم فرمائیے
سب گنہ گارون کو معافی حشر میں دلوائیے

خاص کر رمضان میں تو ابرِرحمت کی طرح
رحمتِ عالم ﷺ! سبھی پر رحمتیں برسائیے

ڈاکٹر محمد اقبال نازؔ

نعت شریف

جا بجا ہے بےقراری میرے آقاﷺ دیکھئیے
زندگی بے کس ہے ساری میرے آقاﷺ دیکھئیے

آپ کے جلوے کو دیکھے یہ بھی اب میرے حضورﷺ!
ہو عطا اطہرؔ کو باری میرے آقاﷺ دیکھئیے

محمد جاوید اطہر
نعت شریف

بارگاہِ مصطفیٰ ﷺ میں لب کشائی کے لئیے
سورہ حجرات میں واضح قرینہ دیکھئیے

عرصہ محشر ہے اور فردِ عمل ہے ہاتھ میں
” اشک آنکھوں سے ہیں جاری میرے آقاﷺ دیکھئیے”

محمد زبیر نقشبندی
نعت شریف

عرشِ اعظم زیرِ پا ہے شانِ والا دیکھئیے
اوجِ عظمت کا حسیں تر استعارہ دیکھئیے

انﷺ کی مدحت کا قرینہ مل گیا تہلیلؔ کو
کس بلندی پر ہے قسمت کا ستارہ دیکھئیے

محمد تہلیل الرحمان تہلیل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں